
Naseem Zaidi Trishul
Naseem Zaidi Trishul
Naseem Zaidi Trishul
Ghazalغزل
us ke dil par asar nahin hotaa
اس کے دل پر اثر نہیں ہوتا بے خبر باخبر نہیں ہوتا عشق ہی جن کا دین و مذہب ہو موت کا ان کو ڈر نہیں ہوتا پیار کرتا نہ میں اگر تجھ سے اس طرح در بدر نہیں ہوتا جانے کیوں خشک ہو گئیں آنکھیں اب تو دامن بھی تر نہیں ہوتا دل کی ویران ہو گئی بستی اس کا جب سے گزر نہیں ہوتا اے مرے ہم سفر کہاں ہے تو مجھ سے تنہا سفر نہیں ہوتا حوصلے دل کے ہوں بلند اگر راستہ پر خطر نہیں ہوتا
vo aur hain jinhein haalaat saazgaar mile
وہ اور ہیں جنہیں حالات سازگار ملے ہمیں تو پھول کی چاہت میں صرف خار ملے بہار لالہ و گل کا ہوں مستحق میں بھی مجھے بھی کاش کبھی موسم بہار ملے یہ سرد آہیں یہ اندوہ و غم یہ بے چینی صلے وفا کے مجھے کتنے شاندار ملے بدل وفا کا وفا ہی ملے گا سوچا تھا اس آرزو میں مگر زخم بے شمار ملے دیار غم میں بھی میں مسکرا کے جی لوں گا اگر جہاں میں کوئی مجھ کو غم گسار ملے سنا سکا نہ کبھی داستان دل ان کو ملے تو دوش ہوا پر مجھے سوار ملے یہ کیسے مان لوں خوش ہیں وہ اپنی دنیا میں مجھے وہ جب بھی ملے ہیں تو سوگوار ملے
main tiri dushmani ko bhuul gayaa
میں تری دشمنی کو بھول گیا اور تو دوستی کو بھول گیا جب سے کانٹے چنے ہیں دامن میں پھول کی تازگی کو بھول گیا اس قدر ظلمتوں نے گھیرا ہے عشرت روشنی کو بھول گیا جب اچانک نظر پڑی اس پر خود کو میں دو گھڑی کو بھول گیا خود پسندی کے اس زمانے میں آدمی آدمی کو بھول گیا ہوش اپنا بھی اب کہاں مجھ کو ہر ستم ہر خوشی کو بھول گیا پی کے نکلا جو میکدے سے میں ہر غم زندگی کو بھول گیا
ham bhi ik zamaane tak haadson se khele hain
ہم بھی اک زمانے تک حادثوں سے کھیلے ہیں غم اٹھائے ہیں پیہم درد ہم نے جھیلے ہیں اف یہ دشت پیمائی اف یہ آبلہ پائی جادۂ محبت میں کس قدر جھمیلے ہیں تم سے دل لگانے کی یہ سزا ملی مجھ کو رنج و غم کی یورش ہے حسرتوں کے ریلے ہیں دو دلوں کو آئے تو کس طرح قرار آئے تم وہاں اکیلی ہو ہم یہاں اکیلے ہیں دیکھ کر مرا چہرہ اب نظر چراتی ہو یاد ہوگا بچپن میں دونوں ساتھ کھیلے ہیں اک گھروندا مٹی کا جو کبھی بنایا تھا آج میرے ہاتھوں میں اس کے چند ڈھیلے ہیں روح مطمئن ہو اور دل ہو درد سے خالی پھر تو جس طرف دیکھو زندگی کے میلے ہیں
birhaa ki kaali raaton mein jab bhi dil ghabraataa hai
برہا کی کالی راتوں میں جب بھی دل گھبراتا ہے میں دل کو سمجھاتا ہوں اور دل مجھ کو سمجھاتا ہے اس جیسا بے باک نہ دیکھا میں نے کوئی زمانے میں میرا ہی دل چوری کر کے مجھ سے نظر ملاتا ہے آئینے کو کیوں حیرت ہے دیکھ کے میرے اشکوں کو تنہائی میں رونے سے غم کا بادل چھٹ جاتا ہے ترک وفا کرنے کی اس کی اپنی ہی مجبوری تھی پھر بھی اس کو دیکھ کے تنہا دل میرا بھر آتا ہے پیار مرا تو جھٹلاتا ہے ہر اپنے بیگانے سے ایسی باتیں کر کے میرے دل کو کیوں دہلاتا ہے آج گھرا ہوں غم کے بھنور میں کل خوشیاں ہوں گی حاصل موجوں سے جو ٹکراتا ہے وہ ساحل پا جاتا ہے یہ دنیا جب زخم کوئی دیتی ہے میں ہنس دیتا ہوں لیکن آنکھیں بھر آتی ہیں ذکر جو تیرا آتا ہے
is kam-sini mein dekhiye aalam shabaab kaa
اس کمسنی میں دیکھیے عالم شباب کا جیسے چمن میں پھول کھلا ہو گلاب کا مجھ پر شراب نوشی کا الزام مت لگا دیکھا ہے تیری آنکھوں میں دریا شراب کا بیٹھا ہوں اس کے سامنے پھر بھی ہے تشنگی حائل ہے درمیان میں پردہ حجاب کا تم میرے ساتھ ساتھ ہو آتا نہیں یقیں محسوس مجھ کو ہوتا ہے منظر یہ خواب کا دو عاشقوں کو ڈوبے زمانہ گزر گیا اترا ہوا ہے آج بھی چہرہ چناب کا اس کے سوا کسی کو بھی پہچانتا نہیں یہ حال ہو گیا دل خانہ خراب کا تم غم عطا کرو کہ خوشی سب قبول ہے مدت سے منتظر ہوں تمہارے جواب کا





