
Naseer Baloch
Naseer Baloch
Naseer Baloch
Ghazalغزل
جس کو بتلایا کہ یہ گھر ہے یہ آنگن ہے مرا مجھ کو معلوم نہیں تھا کہ وہ دشمن ہے مرا مری کٹیا ہی تجھے شہر میں اچھی نہ لگی میں بڑے ناز سے کہتا تھا کہ ساون ہے مرا مجھ کو خیرات نہ دے پر مرا کشکول نہ توڑ آخری فرد ہوں میں آخری برتن ہے مرا آج لوٹا دو بڑھاپے نے اسے دیکھنا ہے تیری دیوار پہ رکھا ہوا بچپن ہے مرا چند تنکے جو سر شاخ شجر لپٹے ہیں تجھ کو معلوم ہے اے برق نشیمن ہے مرا ایک لمحہ بھی ضرورت نے سنبھلنے نہ دیا کس کے دروازے پہ پھیلا ہوا دامن ہے مرا کم سنی قصر کے بچوں میں کہیں بھول آیا یہ کسی اور کا کھیلا ہوا بچپن ہے مرا
jis ko batlaayaa ki ye ghar hai ye aangan hai miraa
خیال اس بات کا دل سے مرے اکثر نہیں جاتا میں گھر جانے کی جلدی میں عموماً گھر نہیں جاتا مجھے اک مسئلہ درپیش ہے کہ ہاتھ تو میرے ترے پاؤں تلک جاتے ہیں لیکن سر نہیں جاتا کسی کی بد دعا ہے یا مرے پاؤں نہیں میرے جہاں جانا ضروری ہو وہاں اکثر نہیں جاتا وہ میرے ساتھ چلتا ہے کہ میں تنہا نہ ہو جاؤں مگر اک فاصلہ رکھ کر جہاں پتھر نہیں جاتا غلط فہمی میں مت رہنا تعلق ٹوٹ جائے تو تعلق مار دیتا ہے تعلق مر نہیں جاتا
khayaal is baat kaa dil se mire aksar nahin jaataa
اس کو جب یاد نہیں بیٹھ کے رو لیتے ہیں آ شب ہجر کہیں بیٹھ کے رو لیتے ہیں ہجر کی لمبی مسافت سے ابھی لوٹے ہو پاؤں شل ہیں تو یہیں بیٹھ کے رو لیتے ہیں پھر سے جی اٹھتا ہوں جب میری عزا داری کو آسماں اور زمیں بیٹھ کے رو لیتے ہیں تھام کر مجھ سے کہا فاقہ زدہ ہاتھوں نے گھر میں بچے ہیں یہیں بیٹھ کے رو لیتے ہیں جھونپڑی اپنے لئے تخت سلیمانی ہے درد ہیں تخت نشیں بیٹھ کے رو لیتے ہیں ہر جگہ رونے کے آداب نصیرؔ اپنے ہیں گاؤں ہے شہر نہیں بیٹھ کے رو لیتے ہیں
us ko jab yaad nahin baiTh ke ro lete hain
وہ شخص مجھے جب سے دکھائی نہیں دیتا آنکھیں ہیں مگر کچھ بھی سجھائی نہیں دیتا خیرات میں دے دیتے ہیں رہ گیر کو جتنی اتنی بھی محبت مجھے بھائی نہیں دیتا ان چیختی چلاتی ہوئی گلیوں کا ماتم دانستہ حویلی کو سنائی نہیں دیتا اک عرصہ ہوا دل سے مری بنتی نہیں ہے دل مجھ کو کہ میں دل کو سنائی نہیں دیتا سینے میں کبھی حشر اٹھا رکھا تھا دل نے اب شور قیامت بھی سنائی نہیں دیتا اس دل کو بنا رکھا ہے کس مٹی سے یا رب جو جبر بھی سہتا ہے دہائی نہیں دیتا
vo shakhs mujhe jab se dikhaai nahin detaa
اس واسطے عدو کو گوارا نہیں تھا میں مارا گیا تھا جنگ میں ہارا نہیں تھا میں مجھ سے ہی مجھ کو وقت نے تفریق کر دیا جو تیرے سامنے تھا وہ سارا نہیں تھا میں میں تیرے چونچلوں پہ انا کیسے بیچتا اے زندگی غلام تمہارا نہیں تھا میں پہلو میں ہو جو دل تو ذرا پوچھ کر بتا کل تک تمہاری آنکھ کا تارا نہیں تھا میں اس شخص سے نباہ ترا کیوں نہ ہو سکا جس کی وجہ سے تجھ کو گوارہ نہیں تھا میں دل ہی مرا نصیرؔ بغاوت پہ تل گیا باہر کے دشمنوں سے تو ہارا نہیں تھا میں
is vaaste adu ko gavaaraa nahin thaa main
زندگی میں نے ہزاروں خواہشوں میں بانٹ دی جیسے اک تصویر ٹوٹے آئنوں میں بانٹ دی رنج و غم خوف و اذیت رتجگے محرومیاں دل کی بستی اب ہزاروں بستیوں میں بانٹ دی مفلسی میں اور کیا دیتے بھلا احباب کو درد کی دولت بچی تھی دوستوں میں بانٹ دی اب طلوع ہو یا نہ ہو صبح کرم کیا فائدہ میں نے شام بے بسی تاریکیوں میں بانٹ دی جب ملا اذن رہائی زندگی کی قید سے آخری سانسوں کی دولت حسرتوں میں بانٹ دی میرے ہمسائے نے جو کتے کو پھینکی تھی نصیرؔ میں نے وہ روٹی اٹھا کر بچیوں میں بانٹ دی
zindagi main ne hazaaron khvaahishon mein baanT di





