SHAWORDS
Naseer Parwaz

Naseer Parwaz

Naseer Parwaz

Naseer Parwaz

poet
23Ghazal

Ghazalغزل

See all 23
غزل · Ghazal

hasin dimaagh mile jaagtaa shuur mile

حسیں دماغ ملے جاگتا شعور ملے خدا کرے کہ تجھے راستے میں نور ملے بہت ہے سایۂ بیدار خلوت غم کا کہ خلوتوں کے امیں بے خودی میں چور ملے یہی جتن ہے کہ تقدیر سرنگوں نہ رہے اسے بھی اس نگۂ ناز کا غرور ملے حسین تر ہو زمانہ جمیل تر ہو حیات اگر لگن نہ لگے خاک پھر سرور ملے انہیں نگاہ کی آغوش میں بسایا تھا کھلی نگاہ تو وہ زندگی سے دور ملے وہ جن کو تیرے تغافل نے کر دیا مجرم مری نظر کو وہی لوگ بے قصور ملے میں خود ہی درد سے دامن بچا کے گزرا ہوں وگرنہ زیست کو پرواز غم ضرور ملے

غزل · Ghazal

main bhi insaan tu bhi insaan farq magar itnaa saa hai

میں بھی انساں تو بھی انساں فرق مگر اتنا سا ہے مجھ کو گہری چوٹ لگی ہے تو نے پتھر مارا ہے جو بھی پایا اس دنیا سے بھیک کی صورت پایا ہے ساری عمر کی محرومی نے جب دامن پھیلایا ہے اک قطرہ دریا کی دولت اک قطرہ پلکوں کا دھن چاروں طرف وجود آدم آسمان سے اونچا ہے مجھ کو چھو کر جسم پہن لیتے ہیں جس کے خد و خال وہ ہر دم میرے سائے سے روح بچا کر چلتا ہے غور کرو تو ان دونوں میں ایسا کوئی فرق نہیں خوشیاں بھی جی کر دیکھی ہیں غم بھی چھو کر دیکھا ہے اس بستی میں ڈھونڈنے نکلا جب اپنے پن کے سائے جسم ملا باہر سے ٹوٹا دل اندر سے بکھرا ہے آتے جاتے تھم جاتی ہے اکثر قدموں کی آہٹ اندر کی جانب ہی گھر کا ہر دروازہ کھلتا ہے اس سے کوئی بات نہ کیجے بس اس کی سنتے رہئے جس نے آنکھیں موند کے جلتے سورج کو جھٹلایا ہے جانے کیا کیا پینا پڑتا ہے برساتوں کو پروازؔ تب جا کر بنجر دھرتی پر کوئی پربت اگتا ہے

غزل · Ghazal

paDhne vaalaa koi nahin thaa saare likhne vaale the

پڑھنے والا کوئی نہیں تھا سارے لکھنے والے تھے ہر اجلے کاغذ پر کتنے دھبے کالے کالے تھے ہر دم بندھا رہا پیروں سے صحرا کا انجان سفر ہم نے اس کو سورج مانا جس کے پاؤں میں چھالے تھے ہم اس انجانی بستی میں کیسے پہچانے جاتے تم بھی اتنی دور کھڑے تھے جتنی دور اجالے تھے بس اک داغ ناکامی تھا جو سانسوں پر لکھا رہا ویسے تو بارش نے اپنے سب کپڑے دھو ڈالے تھے ہم نے تو اڑتے دیکھا ہے سب کو کھلی فضاؤں میں کس کے پاؤں میں زنجیریں تھیں کن ہونٹوں پر تالے تھے اس کا مطلب میں گھر میں تھا اور سویا تھا بستر پر آویزاں کھڑکی دروازوں پر مکڑی کے جالے تھے ایسا ہوتا بن سمجھائے بات سمجھ میں آ جاتی ناحق نادانوں نے چادر باہر پاؤں نکالے تھے غور سے دیکھو وہاں کہیں سے کچھ بادل گزرے ہوں گے آسمان کی جانب ہم نے دریا جہاں اچھالے تھے شاید تم نے دیکھ لیا تھا اسی لیے محفوظ رہے ویسے تو پروازؔ سبھی نے ہم پر ڈورے ڈالے تھے

غزل · Ghazal

pyaasi dharti maang rahi hai jag ke daataa paani de

پیاسی دھرتی مانگ رہی ہے جگ کے داتا پانی دے ساگر ساگر جل تھل کر دے دریا دریا پانی دے تو ہی اول تو ہی آخر تو ہی رب تو ہی معبود دنیا کی ہر ایک بڑائی تجھ کو زیبا پانی دے ہر رنگت میں تیری خوشبو ہر خوشبو میں تیرا رنگ ذرہ ذرہ نہیں کسی کا سب کچھ تیرا پانی دے تجھ کو تو معلوم ہے تیرے بندوں کی حاجت کیا ہے اپنی اس مخلوق پہ تھوڑی شفقت فرما پانی دے جانے کتنے ہاتھ اٹھے ہیں تیری جانب حسرت سے ان ہاتھوں کی لاج بچا لے رحم سراپا پانی دے ساون تو پیاسی دھرتی پر آگ جلا کر چلا گیا کم سے کم بھادوں ہی کر دے دامن گیلا پانی دے پھولوں سے پاکیزہ چہرے شبنم سے معصوم بدن خوابوں سے نازک سایوں کو اور نہ ترسا پانی دے طوفانی سیلاب سے ہٹ کر سوکھے موسم سے کچھ دور جتنی گہری پیاس ہو جس کی اس کو اتنا پانی دے ہم تو تجھ کو بھلا چکے ہیں بھول نہ لیکن تو ہم کو پیاسی ہے پروازؔ یہ دنیا رحمت برسا پانی دے

غزل · Ghazal

puchhaa meraa naam jahaan tanhaai ne

پوچھا میرا نام جہاں تنہائی نے چھایا لکھ دی چہرے پہ گہرائی نے اس دن سے کپڑوں کا احساں ہے تن پر مجھے چھوا تھا جس دن بوڑھی دائی نے مٹی چھو کر ہرا بھرا پودا نکلا پربت کو بھی آنکھ دکھائی رائی نے لوگوں نے کیوں اس کو میری ذات کہا چہرے پر جو نام لکھا رسوائی نے بیوی بچے طعنے شکوے فرمائش گھر آنگن ڈیرا ڈالا مہنگائی نے اس دن بستر چھوڑا پاگل آشا نے دھوپ لکھی جب کمروں میں انگنائی نے بادل تھا تو امبر امبر پھرتا تھا بوند بنا تو مانگا گہری کھائی نے ایسی کوئی انہونی بتلا پروازؔ بہتا پانی روک لیا ہو کائی نے

غزل · Ghazal

samajh ke farz kabhi din ko raat mat karnaa

سمجھ کے فرض کبھی دن کو رات مت کرنا گزرتے لمحوں سے تقسیم ذات مت کرنا بچا کے تیز ہوا میں بکھرنا پڑتا ہے انا کو نظر غم حادثات مت کرنا نہ جانے کون کہاں کیا سوال کر بیٹھے غبار راہ گزر اپنے ساتھ مت کرنا سمیٹنا نہ سر راہ خواب کی کرچیں لہو لہان کبھی اپنے ہاتھ مت کرنا نہیں گناہ کسی شے کی آرزو لیکن اس آرزو کو غم کائنات مت کرنا ہیں درمیاں میں ابھی فاصلے اصولوں کے قریب آ کے ابھی مجھ سے بات مت کرنا زوال ذات تو پروازؔ سب کی قسمت ہے یقین دل کو مگر بے ثبات مت کرنا

Similar Poets