Nashtar Chaprawi
Nashtar Chaprawi
Nashtar Chaprawi
Ghazalغزل
na jis mein aarzu hoti na jis mein muddaaa hotaa
نہ جس میں آرزو ہوتی نہ جس میں مدعا ہوتا مجھے بھی ایک دل یا رب کوئی ایسا دیا ہوتا شب وعدہ وہ آتا بھی تو کیا اس کے سوا ہوتا جو میں صرف وفا ہوتا تو وہ گرم جفا ہوتا شب فرقت اگر نالہ مرے دل کا رسا ہوتا فلک کیا چیز ہے عرش معلیٰ ہل گیا ہوتا دکھا دیتا اگر میں داغہائے دل کبھی ان کو مرا ذمہ جو پھر مشق ستم کا حوصلہ ہوتا دیا تھا دل تو دیتا عشق بھی اپنا اسے یا رب ملا تھا سر تو سودا بھی ترا ہی یا خدا ہوتا خطا کیا یار کی اس میں جو قبل از وقت موت آئی وفا کرتی جو میری عمر تو وعدہ وفا ہوتا نہ آتا تھا انہیں کیا مجھ کو مٹی میں ملا دینا مگر ڈر تھا کہ ہوتا خاک بھی تو کیمیا ہوتا عدو کے دستخط سے خط مجھے بھیجا ہے کافر نے مقدر کا جو لکھا تھا نہ کیوں کر وہ ادا ہوتا تری کوتاہ بینی نے تجھے کھویا ہے اے واعظ خدا کو جان جاتا گر بتوں سے آشنا ہوتا سر و تن کا چلا آتا ہے جھگڑا ایک مدت سے مدد کرتی تری تلوار تو کچھ فیصلہ ہوتا ترے صدقے نگاہ ناز کیوں اغماض کرتی ہے ہماری بات بن جاتی ترا نقصان کیا ہوتا کہیں پر لطف ہے یہ قصۂ فرہاد و مجنوں سے ہمارے دل کا دکھڑا بھی کبھی صاحب سنا ہوتا نہ آئے تم نہ آتے بھیجتے تصویر ہی اپنی مرے دل کو بہلنے کا کوئی تو مشغلا ہوتا غم جاناں نہ دیتا ساتھ میرا تو بھی فرقت میں اسی کی طرح ظالم کاش تو بھی بے وفا ہوتا مرے دل سے وہ رہ رہ کر کسی کا ناز سے کہنا عجب اک چیز تو ہوتا اگر بے مدعا ہوتا سناتا قصۂ غم تجھ میں غم خواری اگر ہوتی دکھاتا درد دل تجھ کو جو تو درد آشنا ہوتا دل وحشی نہ کہتا تھا کہ باز آ عشق گیسو سے مری سنتا تو کیوں کافر گرفتار بلا ہوتا جناب خضر دیں گے ساتھ کیا صحرائے الفت میں دل آفت طلب تو ہی ہمارا رہنما ہوتا یہ کیا سودائے حوران خیالی تجھ کو ہے زاہد کسی کافر ادا پر تو فدا مرد خدا ہوتا بڑے ناز و نعم سے ہم نے اے دل تجھ کو پالا تھا خدائی ہم سے پھر جاتی نہ لیکن تو جدا ہوتا کھنچے جاتے تھے وہ خنجر کی صورت وصل میں نشترؔ نکلتی خاک حسرت خاک پورا حوصلہ ہوتا
na bikhraayaa karo tum baiThe baiThe zulf-e-pechaan ko
نہ بکھرایا کرو تم بیٹھے بیٹھے زلف پیچاں کو خدا کے واسطے دیکھو مرے حال پریشاں کو عجب انداز سے پس پس کے ہونٹوں سے نکلتی ہے کروں قربان تیری اک نہیں پر سینکڑوں ہاں کو خدا جانے مزا آتا ہے کیا اس میں کہ ہنس ہنس کر وہ پہروں دیکھتے رہتے ہیں میرے زخم خنداں کو انہیں پھر اس نے بھڑکایا ہوئے گرم جفا پھر وہ الٰہی آگ لگ جائے ہماری چشم گریاں کو قیامت کا سماں پھرنے لگا ہے میری آنکھوں میں کہ جب سے میں نے دیکھا ہے کسی کی چشم فتاں کو بڑھی دیوانگی میری کچھ ایسی عشق گیسو میں کہ میرے نام سے ہوتی ہے وحشت اب بیاباں کو گئے وہ دن مناتے تھے کسی کے ساتھ ہم ساون کہ اب تو دیکھتے رہتے ہیں اپنی چشم گریاں کو ابھی تو ہے شروع فصل گل جوش جنوں تازہ رفو کیوں لوگ کرتے ہیں مرے چاک گریباں کو ترے آتے ہی جھاڑو پھر گئی کس کس کو روئیں ہم الم کو یاس کو حسرت کو بیتابی کو ارماں کو مرے شیون سے تو آزردہ تھے پھر رو دئیے آخر نظر آیا جو میں جاتا ہوا شہر خموشاں کو بڑھے پھر ناخن وحشت کہ ایام بہار آئے ذرا ہشیار رہنا اے ہمارے زخم کے ٹانکو مری آنکھیں ہی دشمن ہو گئیں حق میں مرے آخر اسی رستے اتارا اس نے دل میں تیر مژگاں کو بلا سے گر ہماری جان مضطر پر گرے بجلی اسی انداز سے اک بار پھر غرفے سے تم جھانکو ہوئی جاتی ہے کیا کیا لوٹ اس پر رحمت باری کوئی دیکھے تو محشر میں ہماری شرم عصیاں کو نہ رکھا جانے کے قابل مجھے بیتابیٔ دل نے کیا تھا میں نے کس مشکل سے راضی اس کے درباں کو مجھے سر پھوڑنے کی آرزو تھی یوں ہوئی پوری گرایا سر پہ سیل اشک نے دیوار زنداں کو مرے گریہ کی طغیانی ہے گویا نوح کا طوفاں گرایا سر پہ سیل اشک نے دیوار زنداں کو کسی یوسف لقا کی یاد میں رویا ہوں میں اتنا گرایا سر پہ سیل اشک نے دیوار زنداں کو مرا بے خانماں ہونا مری قسمت میں لکھا تھا گرایا سر پہ سیل اشک نے دیوار زنداں کو مری جانب سے ہے دل میں غبار اس بے مروت کے نکالے گا وہ پھر کیا خاک میرے دل کے ارماں کو خلش کا ذائقہ مد نظر ہے مجھ کو اے ہمدم جگہ کیوں کر نہ دوں دل میں کسی کی نوک مژگاں کو وہ آئے تو مٹے جاتے ہیں کیوں یہ ماجرا کیا ہے الٰہی ہو گیا یہ کیا مری حسرت کو ارماں کو پھڑکتی ہے رگ گردن مری کیوں آج پھر نشترؔ چڑھایا سان پر قاتل نے شاید تیغ براں کو
tum hijr ke jhagDon ko miTaa kyon nahin dete
تم ہجر کے جھگڑوں کو مٹا کیوں نہیں دیتے بگڑی ہوئی تقدیر بنا کیوں نہیں دیتے درد دل بیتاب گھٹا کیوں نہیں دیتے محفل سے رقیبوں کو اٹھا کیوں نہیں دیتے کیوں ہے خفگی کس لئے ماتھے پہ شکن ہے تقصیر مری آپ بتا کیوں نہیں دیتے تم سے جو کیا کرتے ہیں ہر وقت دغائیں اے حضرت دل ان کو دعا کیوں نہیں دیتے مجبور ہوں میں کشمکش رنج و الم میں تم آ کے مری جان چھڑا کیوں نہیں دیتے تنگ آئے ہیں ہمسایہ جو فریاد سے میری اس شوخ فسوں گر کو بلا کیوں نہیں دیتے اک بوسۂ رخسار کا مدت سے ہوں سائل ہیں آپ اگر اہل سخا کیوں نہیں دیتے وہ پوچھتے پھرتے ہیں کہ میں کس کو مٹاؤں تربت کو مری لوگ بتا کیوں نہیں دیتے مرتا ہوں میں تم پر جو کہا ان سے تو بولے یہ سچ ہے تو پھر مر کے دکھا کیوں نہیں دیتے وہ تذکرۂ صدمۂ ہجراں پہ شب وصل بولے کہ اسے دل سے بھلا کیوں نہیں دیتے جب میں نے کہا تم سے حسیں اور بہت ہیں کس ناز سے بولے کہ دکھا کیوں نہیں دیتے کیوں قتل کی پرسش پہ سر حشر ہو خاموش الزام رقیبوں پہ لگا کیوں نہیں دیتے ہے نشترؔ ناشاد جھکائے ہوئے سر کو تم جوہر شمشیر دکھا کیوں نہیں دیتے
main yaad huun un ki ye unhein yaad nahin hai
میں یاد ہوں ان کی یہ انہیں یاد نہیں ہے مجھ سا بھی جہاں میں کوئی ناشاد نہیں ہے محبوب کا ہر ظلم ہے احسان سے بہتر بیداد جسے کہتے ہیں بیداد نہیں ہے ڈرتا ہے کہ چرچا نہ ترے ظلم کا ہو جائے لب پر ترے مظلوم کے فریاد نہیں ہے ہر گوشۂ عالم نظر غور سے دیکھا اک دل بھی غم و رنج سے آزاد نہیں ہے سب محو کیا اک نگہ لطف سے تو نے پچھلا ترا کوئی بھی ستم یاد نہیں ہے محروم کوئی کیوں ہو ترے دور ستم میں بد بخت ہے جو کشتۂ بیداد نہیں ہے واقف ہی نہیں ذوق اسیری سے وہ ہرگز جو کشتۂ بے مہریٔ صیاد نہیں ہے تھا میں جو ستم دوست کیا تو نے ستم ترک کچھ کم یہ ستم اے ستم ایجاد نہیں ہے کیا بات ہے اے دل تجھے چپ لگ گئی کیسی کیوں مشغلۂ نالہ و فریاد نہیں ہے کیوں مجھ کو اسیری میں رہائی کی ہوس ہو کیا دل میں مرے الفت صیاد نہیں ہے کہنے کو تو یوں شعر سبھی کہتے ہیں نشترؔ واقف نہیں جو فن سے وہ استاد نہیں ہے
vo bhi kyaa din the ki jab chaah na thi pyaar na thaa
وہ بھی کیا دن تھے کہ جب چاہ نہ تھی پیار نہ تھا ہجر کا رنج نہ تھا عشق کا آزار نہ تھا بے خودی تیرا برا ہو مجھے جب ہوش آیا دل نہ تھا سینے میں پہلو میں وہ عیار نہ تھا دے کے دل ان کو پڑی جان غضب میں میری وصل کو کہئے تو کہتے ہیں کہ اقرار نہ تھا کیوں لحد کو مرے ٹھکرا کے مٹایا اس نے میری جانب سے مکدر جو ستم گار نہ تھا لب پہ فریاد رہی اشک رہے آنکھوں میں کب ترا دھیان مجھے اے بت عیار نہ تھا یہ بھی دن ہیں کہ حسینوں پہ مٹا جاتا ہوں وہ بھی دن تھے کہ مجھے عشق کا آزار نہ تھا حشر میں فضل سے اپنے مجھے حق نے بخشا گو کہ دنیا میں کوئی مجھ سا سیہ کار نہ تھا نگہ مست نے تیری یہ دکھائی تاثیر سب تھے بدمست کوئی رات کو ہشیار نہ تھا اے جنوں موسم گل میں ترے ہاتھوں ہے ہے دامن و جیب میں دیکھا تو کوئی تار نہ تھا پیٹتا تھا کبھی سر کو تو کبھی سینے کو شب تنہائی میں اے شوخ میں بے کار نہ تھا کوچۂ یار سے یوں شیخ و برہمن نکلے سر پہ دستار نہ تھی دوش پہ زنار نہ تھا کیا محبت نے مری اپنی دکھائی تاثیر کس لئے بزم میں شب مجمع اغیار نہ تھا ہجو مے کرتے تھے کل حضرت واعظ سر راہ خیریت گزری کہ سنتا کوئی مے خوار نہ تھا یوں تو شب بزم میں ہر ایک گیا اور آیا ایک بد بخت میں ہی تھا جسے واں یار نہ تھا جاگتا میرا نصیبہ جو شب وصل عدو پاسباں یہ تو ترا دیدۂ بے دار نہ تھا درد و اندوہ و غم و رنج و الم اے نشترؔ ایک دنیا تھی مری لاش پہ وہ یار نہ تھا
kyaa bache dil jaan-levaa us kaa har andaaz hai
کیا بچے دل جان لیوا اس کا ہر انداز ہے غمزہ ہے عشوہ ہے شوخی ہے ادا ہے ناز ہے محفل عشرت میں میرا دل نوا پرداز ہے نالۂ حسرت مرا گویا صدائے ساز ہے توبہ بھی کر لیں گے ہم جب وقت اس کا آئے گا حضرت واعظ در توبہ ابھی تو باز ہے ہوگی پھر بے اعتنائی ہے ابھی تو التفات پھر وہی انجام ہوگا پھر وہی آغاز ہے دیکھ تو اس بت کو زاہد اور کہہ ایمان سے تیری حوروں میں یہ رعنائی ہے یہ انداز ہے دل جگر چھد جاتے ہیں اور کچھ خبر ہوتی نہیں وہ نگاہ ناز گویا تیر بے آواز ہے میری ہستی اک معمہ ہے جسے سمجھا نہ میں یا خدا یہ بھی تری قدرت کا کوئی راز ہے در قفس کا کھول دے صیاد اطمینان سے تیرے صید شوق کو کب خواہش پرواز ہے سن کے میرا قصۂ غم ان کا کہنا ناز سے واہ کیا طرز بیاں ہے واہ کیا انداز ہے دل لگاتے ہی مجھے لالے پڑے ہیں جان کے اس کا کیا انجام ہوگا جس کا یہ آغاز ہے ہائے نشترؔ وہ مرا ہمدرد دل غم خوار دل اب کہاں ہے ہم نشیں کوئی کہاں ہم راز ہے





