
Nashtar Qaimganjvi
Nashtar Qaimganjvi
Nashtar Qaimganjvi
Ghazalغزل
dil se ik dusre ke pyaare hain
دل سے اک دوسرے کے پیارے ہیں ان کے ہم اور وہ ہمارے ہیں اپنا دامن جو وہ پسارے ہیں میرے آنسو بھی چاند تارے ہیں بے خودی بھی ہے ہوشیاری بھی چشم ساقی کے کیا اشارے ہیں غیر کو دیکھ کر ہمیں دیکھا تیر پر تیر تم نے مارے ہیں حسن پردے میں بھی نہیں چھپتا ان کے چلمن سے بھی اشارے ہیں وہ حسین ان کے ہم جلیس حسین چاند وہ دوسرے ستارے ہیں بس یہی حاصل محبت ہے تم یہ کہہ دو کہ ہم تمہارے ہیں ان کی آنکھیں ہیں ڈھونڈھتی نشترؔ جن کے آنکھوں ہی میں نظارے ہیں
jalve kaa un ke ye hai asar kuchh khabar nahin
جلوے کا ان کے یہ ہے اثر کچھ خبر نہیں میں کون ہوں کہاں ہوں کدھر کچھ خبر نہیں سینے میں ہر طرف نظر آتا ہے درد ہی دل ہے کہاں کہاں ہے جگر کچھ خبر نہیں آنکھوں میں ایک رنگ اداسی کا جم گیا کیسی ہے شام کیسی سحر کچھ خبر نہیں اب چارہ گر تو مجھ سے مرا حال کچھ نہ پوچھ ہے یا نہیں ہے درد جگر کچھ خبر نہیں ہر دم ترے خیال میں ہے محویت مجھے ہوتی ہے کیسے عمر بسر کچھ خبر نہیں اتنا تو جانتے ہیں کہ دل میں ہیں زلزلے کیا کر گئی اک ان کی نظر کچھ خبر نہیں رہتا ہے بندشوں میں وہ ہر وقت زیست کی اپنی قضا کی رکھتا بشر کچھ خبر نہیں اب اتنی محویت ہے ہمیں تیرے عشق میں کیسی خبر کہاں کی خبر کچھ خبر نہیں لائی ہے اپنے ساتھ جو نشترؔ شب فراق اس شام کی کب ہوگی سحر کچھ خبر نہیں
dil-o-jigar kaa faraaham jo kuchh lahu karte
دل و جگر کا فراہم جو کچھ لہو کرتے تو پھر نماز محبت کا ہم وضو کرتے مزے اجل کے بیاں ان کے روبرو کرتے مسیح و خضر بھی مرنے کی آرزو کرتے وہ اپنے حسن پہ نازاں کبھی نہیں ہوتے جو آئنہ وہ کبھی اپنے روبرو کرتے جو اپنے دست جنوں کو قرار آ جاتا تو چاک دل کو کہیں بیٹھ کر رفو کرتے ملا ہوا تھا گلے سے مرے وہ گل نشترؔ تمام عمر ہوئی جس کی جستجو کرتے
mataaa-e-aish jo paai to muflisi na rahi
متاع عیش جو پائی تو مفلسی نہ رہی تم آ گئے تو کسی چیز کی کمی نہ رہی وہ لو لگی کہ نہ آنکھیں رہیں نہ دل باقی بجھی بجھی نہ رہی اور لگی لگی نہ رہی یہ غم رہا دم رخصت تمہیں نہیں دیکھا اب آئے تم کہ جب آنکھوں میں روشنی نہ رہی تمام عمر یہ دیکھا کرشمۂ قسمت بگڑ بگڑ کے بنی اور بنی بنی نہ رہی نہ آئے پھر وہ جدا جب سے ہو گئے نشترؔ رہا بھی کیا جو مرے گھر کی روشنی نہ رہی
ye miri shaam-e-judaai kis balaa ki shaam hai
یہ مری شام جدائی کس بلا کی شام ہے سیکڑوں لاکھوں بلائیں اک دل ناکام ہے دست ساقی میں جھلکتا ساغر گلفام ہے جانے قسمت کا سکندر کون تشنہ کام ہے اختتام روغن ہستی کا یہ انجام ہے لو چراغ زندگی کی لرزہ بر اندام ہے میرے لاشہ پر عزیز و آشنا روتے ہیں کیوں اب مجھے تکلیف کیا آرام ہی آرام ہے بیکسی نے میری بالیں پر دم آخر کہا جتنی صبحیں ہو چکی ہیں ہوتی سب کی شام ہے پاؤں تھک جائیں بلا سے شوق تھکنے کا نہیں منزل مقصود لاکھوں کوس بھی دو گام ہے لڑکھڑا کر گر پڑا ہوں آ کے منزل کے قریب تم کہاں بیٹھے ہو آؤ اب تمہارا کام ہے اچھی صورت کو نہ جانے کیوں برا کہتے ہیں لوگ حسن بیچارہ تو نشترؔ مفت میں بدنام ہے
gham ko apne khushi banaataa huun
غم کو اپنے خوشی بناتا ہوں اشک پی پی کے مسکراتا ہوں جس طرف میں نظر اٹھاتا ہوں اس طرف تم ہی تم کو پاتا ہوں دل میں خاکوں پہ نا مرادی کے آس کا رنگ میں جماتا ہوں اپنی تقدیر کے ستارے کو اپنے سجدوں سے جگمگاتا ہوں تم بھی اب یہ کرو نہ یاد آؤ میں تمہیں دل سے اب بھلاتا ہوں میں ہر اک ساز غم پہ اے نشترؔ ان کی الفت کے گیت گاتا ہوں





