Nasir Rao
Nasir Rao
Nasir Rao
Ghazalغزل
اس پر تو کبھی دل کا کوئی زور نہیں تھا ہم سا بھی زمانے میں کوئی اور نہیں تھا جس وقت وہ رخصت ہوا بارات کی مانند اک ٹیس سی اٹھی تھی کوئی شور نہیں تھا ویران سی اس دنیا میں ہم کس سے بہلتے جنگل تھا اداسی تھی کوئی مور نہیں تھا دل ٹوٹ گیا تھا تو جڑاتے کہیں جا کر اس کام کا دنیا میں کوئی طور نہیں تھا خنجر کی چبھن سے ہی میں پہچان گیا تھا وہ تو تھا مرے دوست کوئی اور نہیں تھا
us par to kabhi dil kaa koi zor nahin thaa
ایک دو رات میں شہرت نہیں ملتی پگلے اتنے سستے میں یے دولت نہیں ملتی پگلے ہو اگر خوف خدا کام بنا کرتا ہے صرف مسواک سے جنت نہیں ملتی پگلے میں جو خود چل کے تری ذات تلک آیہ ہوں ورنہ یوں ہے کے محبت نہیں ملتی پگلے ہم کو ضد تھی کے یہی راستہ چلنا ہے ہمیں ورنہ ہر موڑ پہ آفت نہیں ملتی پگلے سر پٹکنے سے تو بس خون بہا کرتا ہے سر پٹکنے سے تو عزت نہیں ملتی پگلے
ek do raat mein shohrat nahin milti pagle
زہر تو لا جواب تھا اس کا دن ہی شاید خراب تھا اس کا جبکہ میرا سوال سیدھا تھا پھر بھی الٹا جواب تھا اس کا وہ محض دھوپ کا مسافر تھا ہم سفر آفتاب تھا اس کا آنکھ جیسے کوئی سمندر ہو اور لہجہ شراب تھا اس کا مطمئن تھا وہ ذات سے اپنی خود ہی وہ انتخاب تھا اس کا
zahr to laa-javaab thaa us kaa
جب اجالا گلی سے گزرنے لگا سب اندھیروں کا چہرہ اترنے لگا دور بدلہ تو میں بھی بدل سا گیا بے گناہی سے اپنی مکرنے لگا شام آئی تو تیرا خیال آ گیا آئنہ میرے گھر کا سنورنے لگا خوشبوؤں کی طرح عطر دانوں میں تھے جب ہوا چل گئی سب بکھرنے لگا اک غزل کہہ سکوں گر اجازت ملے آنسوؤں کا یہ جھرنا نکھرنے لگا
jab ujaalaa gali se guzarne lagaa
کہاں اور کب کب اکیلا رہا ہوں میں ہر روز ہر شب اکیلا رہا ہوں مجھے اپنے بارے میں کیا مشورہ ہو میں اپنے لئے کب اکیلا رہا ہوں اداسی کا عالم یہاں تک رہا ہے میں ہوتے ہوے سب اکیلا رہا ہوں یہاں سے وہاں تک ادھر سے ادھر تک میں پشچم سے پورب اکیلا رہا ہوں بہت حوصلہ مجھ کو میں نے دیا ہے میں روتے ہوے جب اکیلا رہا ہوں تری ذات مجھ سے جدا ہی رہی ہے میں تب ہو کہ یا اب اکیلا رہا ہوں
kahaan aur kab kab akelaa rahaa huun
سر پے سورج کھڑا ہے چل اٹھ جا کام باقی پڑا ہے چل اٹھ جا تجھ کو دنیا بھی فتح کرنی ہے یہ تقاضہ بڑا ہے چل اٹھ جا جسم کہتا ہے یار سونے دے اور دل نے کہا ہے چل اٹھ جا خیر کی بات ہے یہ سمجھا کر مشورہ مشورہ ہے چل اٹھ جا روح تک دھوپ آ گئی میری خواب کہنے لگا ہے چل اٹھ جا
sar pe suraj khaDaa hai chal uTh jaa





