"khvahish ki titliyon ne mula.em paron ke saath dastak jahan pe di vo tumhara hi dar to hai"

Nasira Zuberi
Nasira Zuberi
Nasira Zuberi
Sherشعر
Popular Sher & Shayari
2 totalkhvaahish ki titliyon ne mulaaem paron ke saath
dastak jahaan pe di vo tumhaaraa hi dar to hai
Ghazalغزل
hamaare bachne ki logo sabil koi nahin
ہمارے بچنے کی لوگو سبیل کوئی نہیں تمام شہر ہے منصف وکیل کوئی نہیں نہیں ہے یاد مسافت کا کچھ حساب مجھے رہ طلب میں مری سنگ میل کوئی نہیں اسے یقین کہ وہ کائنات میں تنہا مجھے یہ زعم کہ میری مثیل کوئی نہیں نہیں ہے کوئی ضمانت مرے تحفظ کی قلعہ ہوں ایسا کہ جس کی فصیل کوئی نہیں یہ اور کون ہتھیلی پہ جاں لیے نکلا خبر تو یہ تھی مرا ہم قبیل کوئی نہیں بنی ہو شکل ہر اک جیسے منعکس ہو کر ملے ہیں عکس نظر کو اصیل کوئی نہیں خزاں میں کیسے ہو سیراب فصل دل میری زمین مصر ہوں اور میرا نیل کوئی نہیں بے آب و رنگ مناظر کی اس مسافت میں نظر کی پیاس بجھانے کو جھیل کوئی نہیں یہی جنوں مرے جذبات کی گواہی ہے کہ میرے پاس خرد کی دلیل کوئی نہیں
kyon azal se ku-e-mehr-o-maah mein baiThe the ham
کیوں ازل سے کوئے مہر و ماہ میں بیٹھے تھے ہم تجھ سے ملنا تھا سو تیری راہ میں بیٹھے تھے ہم پر تشدد تھے مناظر سامنے اسکرین پر بند آنکھوں سے تماشا گاہ میں بیٹھے تھے ہم کون ہم کو جانتا تھا اس جگہ پھر بھی مگر سب سے پیچھے چھپ کے بزم شاہ میں بیٹھے تھے ہم چاندنی کا تخت تھا اور روشنی کا تاج تھا رات کے شاہی جمال و جاہ میں بیٹھے تھے ہم چودھویں کی رات میں دریا کنارے دیر تک کس کو ہے معلوم کس کی چاہ میں بیٹھے تھے ہم آسماں سے آگ کی برسات سے چھپتے ہوئے ایک دن جا کر زمیں کی تھاہ میں بیٹھے تھے ہم جنگ کے میدان سے پھر جنگ کے میدان تک زندگی تیری ہی اک جنگاہ میں بیٹھے تھے ہم
muqaabil hai jo mire aks ke us aaine mein huun
مقابل ہے جو مرے عکس کے اس آئنے میں ہوں میں خود پر منکشف ہونے کے نازک مرحلے میں ہوں خودی کے موڑ پر ہوں آپ ہی میں منتظر اپنی تعارف کی نئی منزل کے پہلے راستے میں ہوں کشش تیری سہی گردش مری اپنی ہے اے محور ترے ہی گرد ہوں لیکن میں اپنے دائرے میں ہوں ابھی اس روشنی کی اصلیت کا راز مت کھولو ابھی میں چاندنی کے پر فسوں حیرت کدے میں ہوں تسلسل ساتھ ہے میرے مجھے تبدیل کرنے کا ازل سے جاری و ساری فنا کے سلسلے میں ہوں سفر میں چل رہا ہے خوف سا آپس میں لٹنے کا یہ کیسی راہ پر ہوں میں یہ کیسے قافلے میں ہوں ابھی ترک تعلق کے کسی برزخ میں ہے وہ بھی ابھی محفوظ ہے جو میں بھی ایسے فیصلے میں ہوں ہوا نے یوں تسلی دی ہے اکثر ریت نگری کو ادھر آئیں گے آخر بادلوں سے رابطے میں ہوں زمینی مشکلوں کے حل کی فرصت ہی کہاں مجھ کو بہت الجھی ہوئی اک آسمانی مسئلے میں ہوں
koi shai ye nagar khone chalaa hai
کوئی شے یہ نگر کھونے چلا ہے یہاں پر کچھ نہ کچھ ہونے چلا ہے کوئی روکے انہیں محفوظ کر لے مرا قاتل نشاں دھونے چلا ہے دلوں میں خوف بڑھتے جا رہے ہیں نہ جانے کیا سے کیا ہونے چلا ہے نہیں پگھلی اگرچہ موم ہوں میں وہ پتھر ہے مگر رونے چلا ہے خدایا فصل یہ کٹنے نہ پائے وہ کانٹے راہ میں بونے چلا ہے
raat bhar TuuTe hue khvaab ke aazaar ke saath
رات بھر ٹوٹے ہوئے خواب کے آزار کے ساتھ کون روتا ہے مری آنکھ کی دیوار کے ساتھ کس نے باندھا ہے مرے گرد حصار گردش دائرہ کون بناتا ہے یہ پرکار کے ساتھ سر کٹا دے کہ جھکا دے کوئی کمزور وہاں ساتھ دینے کو جو پوچھے کوئی تلوار کے ساتھ خود کشی قتل گری حادثہ دہشت گردی روز اک سوگ چلا آتا ہے اخبار کے ساتھ مسکراتا ہوا یہ دشمن دیرینہ مرا آج میدان میں آیا ہے نئے وار کے ساتھ
kabhi kaanTon ne yuun chhili havaaein
کبھی کانٹوں نے یوں چھیلی ہوائیں ہوئیں کچھ اور نوکیلی ہوائیں سنہری دھوپ اوڑھے ناچتی ہیں مرے آنگن میں چمکیلی ہوائیں مری چنری سجاتی ہیں دھنک سے گلابی کاسنی نیلی ہوائیں عجب ہے پھولتی سرسوں کا جادو ہرے رستے چلیں پیلی ہوائیں شمالی کھڑکیوں سے جھانکتی ہیں دسمبر کی یہ برفیلی ہوائیں خزاں پتوں کو لینے آ رہی ہے ہوئی ہیں خوف سے پیلی ہوائیں یہ انسانی کرم کا پھل ہیں شاید دھواں آلود زہریلی ہوائیں سلگ اٹھے ہیں موسم تشنگی کے بدن چھونے لگیں گیلی ہوائیں گئے ساون کی یادوں سے لپٹ کر چلی آئی ہیں کچھ سیلی ہوائیں





