
Nau Bahar Sabir
Nau Bahar Sabir
Nau Bahar Sabir
Ghazalغزل
dil-figaaron ki tarah qismat ki heTi dopahar
دل فگاروں کی طرح قسمت کی ہیٹی دوپہر ایک دن بھی سکھ کے سائے میں نہ لیٹی دوپہر لوگ خس خانوں میں کولر کی ہوا لیتے رہے ہم نے چادر کی طرح تن پر لپیٹی دوپہر جا بہ جا اس کو بچھا کر دھوپ تو چلتی بنی شام نے آ کر بصد مشکل سمیٹی دوپہر چھا گئے بادل تری زلف پریشاں کی طرح شام غم میں ڈھل گئی ہو کر سلیٹی دوپہر
zulmat-e-shab se ulajhnaa hai sahar hone tak
ظلمت شب سے الجھنا ہے سحر ہونے تک سر کو ٹکرانا ہے دیوار میں در ہونے تک اب تو اس پھول کی نکہت سے مہکتی ہے حیات زخم دل زخم تھا تہذیب نظر ہونے تک دل ہی جلنے دو شب غم جو نہیں کوئی چراغ کچھ اجالا تو رہے گھر میں سحر ہونے تک
buund paani ki huun thoDi si havaa hai mujh mein
بوند پانی کی ہوں تھوڑی سی ہوا ہے مجھ میں اس بضاعت پہ بھی کیا طرفہ انا ہے مجھ میں یہ جو اک حشر شب و روز بپا ہے مجھ میں ہو نہ ہو اور بھی کچھ میرے سوا ہے مجھ میں صفحۂ دہر پہ اک راز کی تحریر ہوں میں ہر کوئی پڑھ نہیں سکتا جو لکھا ہے مجھ میں کبھی شبنم کی لطافت کبھی شعلے کی لپک لمحہ لمحہ یہ بدلتا ہوا کیا ہے مجھ میں شہر کا شہر ہو جب عرصۂ محشر کی طرح کون سنتا ہے جو کہرام مچا ہے مجھ میں توڑ کر ساز کو شرمندۂ مضراب نہ کر اب نہ جھنکار ہے کوئی نہ صدا ہے مجھ میں وقت نے کر دیا صابرؔ مجھے صحرا بہ کنار اک زمانے میں سمندر بھی بہا ہے مجھ میں
har ek shakhs khafaa mujh se anjuman mein thaa
ہر ایک شخص خفا مجھ سے انجمن میں تھا کہ میرے لب پہ وہی تھا جو میرے من میں تھا کسک اٹھی تھی کچھ ایسی کہ چیخ چیخ پڑوں رہا میں چپ ہی کہ بہروں کی انجمن میں تھا الجھ کے رہ گئی جامے کی دل کشی میں نظر اسے کسی نے نہ دیکھا جو پیرہن میں تھا کبھی میں دشت میں آوارہ اک بگولا سا کبھی میں نکہت گل کی طرح چمن میں تھا میں اس کو قتل نہ کرتا تو خودکشی کرتا وہ اک حریف کی صورت مرے بدن میں تھا اسی کو میرے شب و روز پر محیط نہ کر وہ ایک لمحۂ کمزور جو گہن میں تھا مری صدا بھی نہ مجھ کو سنائی دی صابرؔ کچھ ایسا شور بپا صحن انجمن میں تھا
duur thaa saahil bahut dariyaa bhi tughyaani mein thaa
دور تھا ساحل بہت دریا بھی طغیانی میں تھا اک شکستہ ناؤ سا میں تیز رو پانی میں تھا مجھ سے ملنے کوئی آتا بھی تو ملتا کس طرح میں تو گھر میں بند خود اپنی نگہبانی میں تھا آدمیت کے عوض اس نے خریدا ہے لباس آدمی تھا آدمی جب عہد عریانی میں تھا ہے کلب کے رنگ و رامش میں بھی میرے ساتھ ساتھ ایک سناٹا جو دل کی خانہ ویرانی میں تھا تھا وہ میرے خیر مقدم کو بظاہر پیش پیش عکس دیگر لیکن اس کی خندہ پیشانی میں تھا مقتل شام و سحر میں کیا پنپتی زندگی شبنمستاں ہونکتے شعلوں کی نگرانی میں تھا موسم گل بھی جنوں پرور تھا لیکن بیشتر مصلحت کا ہاتھ میری چاک دامانی میں تھا صابرؔ اس منظر کی مووی لے رہا تھا ایک شخص شاخ پر اک آشیاں شعلوں کی تابانی میں تھا
kabhi dahakti kabhi mahakti kabhi machalti aai dhuup
کبھی دہکتی کبھی مہکتی کبھی مچلتی آئی دھوپ ہر موسم میں آنگن آنگن روپ بدل کر چھائی دھوپ اس کو زخم ملے دنیا میں جس نے مانگے تازہ پھول جس نے چاہی چھاؤں کی چھتری اس کے سر پر چھائی دھوپ جانے اپنا روپ دکھا کر کس نے پردہ تان لیا کس کی کھوج میں آوارہ ہے انگنائی انگنائی دھوپ چڑھتے سورج کی کرنیں ہیں دولت عزت شہرت شان آخر آخر ہر دیوار سے یارو ڈھلتی آئی دھوپ دانش کی افزونی اکثر کرتی ہے دل کو گمراہ تیز زیادہ ہو تو چھینے آنکھوں کی بینائی دھوپ ماتھے پر سیندور کی بندیا تھالی میں کچھ سرخ گلاب نور کے تڑکے اوشا تٹ پر پوجا کرنے آئی دھوپ کون بڑھائے پیار کی پینگیں اس نٹ کھٹ بنجارن سے پھرنے کو تو نگری نگری پھرتی ہے ہرجائی دھوپ جنم جنم کے اندھیارے کا جادو چھن میں ٹوٹ گیا صابرؔ آج مری کٹیا میں چپکے سے در آئی دھوپ





