Nawab Dehlwi
Nawab Dehlwi
Nawab Dehlwi
Ghazalغزل
عکس نیرنگئ جہاں ہیں ہم ایک بے ربط داستاں ہیں ہم کر دیا گم تری نگاہوں نے تیری محفل میں اب کہاں ہیں ہم حسن ظن پھر کسی سے کیا رکھیں اپنے سایہ سے بد گماں ہیں ہم رات دن نت نئے ہیں اندیشے اور ان سب کے درمیاں ہیں ہم کچھ جو ہوتے تو پھر خدا ہوتے کچھ نہ ہو کر بھی اک جہاں ہیں ہم یہ نہ سمجھے فریب ہستی میں پھر عدم کی طرف رواں ہیں ہم آ بھی جاؤ کہ پوری ہو جائے نامکمل سی داستاں ہیں ہم آتش شوق سرد ہے نوابؔ تھے کبھی شعلہ اب دھواں ہیں ہم
aks-e-nairangi-e-jahaan hain ham
دل سا پابند تحمل دوسرا کوئی نہیں ٹوٹتا رہتا ہے شیشہ اور صدا کوئی نہیں دل کی دھڑکن رہنما ہے جستجوئے شوق میں اک صدا کانوں میں آتی ہے پتا کوئی نہیں کم زیادہ کا گلہ کیا اپنا اپنا ظرف ہے بادہ خوارو اس میں ساقی کی خطا کوئی نہیں سجدہ گاہ شوق تھا ان کے قدم کا ہر نشاں دیکھ لو نقش جبیں اب نقش پا کوئی نہیں حرف جتنے حسن کے ہیں اتنے ہی ہیں عشق کے پلے دونوں دیکھیے کم اور سوا کوئی نہیں خامشی ہے اہل غیرت کی طریق عرض حال یہ نہ سمجھیں آپ دل میں مدعا کوئی نہیں ڈر نہیں نوابؔ طوفاں خیز موجوں کا مجھے ساتھ اپنے ہے خدا گر نا خدا کوئی نہیں
dil saa paaband-e-tahammul dusraa koi nahin
کیا گلشن ہستی پھولے پھلے اک پھول بھی جب شاداب نہیں مرنے کے ہیں ساماں بہتیرے جینے کے مگر اسباب نہیں مشتاق نظارہ ہو کر بھی گستاخ نہ تھی بے باک نہ تھی یہ پاس ادب سے اٹھ نہ سکی وہ سمجھے نظر کو تاب نہیں اللہ رے تشنگیٔ حسرت سب پی گیا میرا خشک گلا قاتل کو تھا جس پر ناز بہت تلوار میں اب وہ آب نہیں کیا قہر کی ہے یہ مجبوری قانون بھی بدلے فطرت کے میں برق ہوں لیکن ساکن ہوں میں دل ہوں مگر بیتاب نہیں شہہ پا کے نگاہ ساقی کی خود ہاتھ سوئے ساغر لپکا مے خوار تکلف کیوں برتے میخانے کے یہ آداب نہیں یہ بات وہی کچھ جانتے ہیں ڈوبے ہیں جو غم کے دریا میں ساحل پہ جو ہیں وہ کیا جانیں گرداب ہے یا گرداب نہیں چکر میں نہ پھنس دھوکے میں نہ آ بچنا ہے سلامت نا ممکن یہ عشق و محبت کا دریا بے پایاں ہے پایاب نہیں ہر حال میں آنسو موتی ہے تفریق مگر یہ ہوتی ہے جب تک نہ گرے بے آب نہیں گر جائے تو پھر نایاب نہیں
kyaa gulshan-e-hasti phule phale ik phuul bhi jab shaadaab nahin
تیرہ بختی تو نہ بدلی گردش ایام سے شام بدلی صبح سے اور صبح بدلی شام سے ترک الفت کی قسم کھا لے غم ایام سے کام یہ بھی ہو نہیں سکتا دل ناکام سے کتنے ارمانوں کا خوں تھا یہ نہ دیکھا ایک نے چند قطرے سب نے دیکھے جو گرے تھے جام سے جھلملا کر بجھ گئے آخر کو بے روغن چراغ خشک آنکھیں ساتھ کیا دیتیں سحر تک شام سے پارسائی کا لہو تک زاہدوں نے پی لیا بڑھ کے ہیں انگڑائیاں تیری چھلکتے جام سے تم کہو دیوانہ مجھ کو میں کروں تکمیل عشق تم کو مطلب نام سے ہے مجھ کو مطلب کام سے سرحد ملک عدم پر منتظر ہیں صور کے پاؤں پھیلا کر لحد میں سوئیں کیا آرام سے صبح عشرت دیکھنے کو کس سہارے پر جئیں اک چراغ امید کا تھا وہ بھی گل ہے شام سے خار غم چبھتے ہیں نوابؔ آج جب دل میں تو پھر بستر گل پر بھی کیا نیند آئے گی آرام سے
tira-bakhti to na badli gardish-e-ayyaam se
تا بہ لب آئی فغاں دل سے جو تاثیر کے ساتھ دشمنی ہو گئی تقدیر کو تدبیر کے ساتھ نام تقدیر کا کیوں لیجئے تحقیر کے ساتھ کچھ عداوت تو نہ تھی کاتب تقدیر کے ساتھ میں ادھر چپ ہوں ادھر ان کا تصور خاموش ایک تصویری بنا بیٹھا ہوں تصویر کے ساتھ فصل گل آ گئی یا یہ نہیں یا میں نہیں اب نبھ سکے گی نہ مری پاؤں کی زنجیر کے ساتھ سر ہتھیلی پہ لئے آئے ہوئے ہیں سر باز کھیلنے کے لئے قاتل تری شمشیر کے ساتھ تا بہ کے روئے حقیقت پہ مجازی یہ نقاب دل کو بہلاؤں میں کب تک تری تصویر کے ساتھ اپنے دامن سے وہ خود پونچھ دیں بڑھ کر آنسو جوش غم دیکھ لیں نوابؔ جو تاثیر کے ساتھ
taa-ba-lab aai fughaan dil se jo taasir ke saath
کعبے کی آرزو ہے نہ بت خانہ چاہئے مے خانہ چاہئے در جانانہ چاہئے ایماں کے امتیاز کا آئینہ کفر ہے کعبے کے متصل ہی صنم خانہ چاہئے وحشت ہے اور عشق جنوں خیز اور ہے زنجیر زلف کی پئے دیوانہ چاہئے یکسوئیے خیال ہے آبادیوں سے دور دیوانگان عشق کو ویرانہ چاہئے تم جس جگہ ہو کیوں نہ ہو میرا وہاں گزر ہر انجمن میں شمع کو پروانہ چاہئے مے خوار پاؤں رکھنے لگے ہیں سنبھال کر ساقی پھر ان کو لغزش مستانہ چاہئے مے سے غرض نہ ساغر و مینا سے واسطہ تیری نشیلی آنکھ کا پیمانہ چاہئے ساقی کے دست فیض نے انساں بنا دیا اے شیخ ادائے سجدۂ شکرانہ چاہئے وا باب مے کدہ بھی ہے بادہ بھی جام بھی نوابؔ صرف جرأت رندانہ چاہئے
kaabe ki aarzu hai na but-khaana chaahiye





