SHAWORDS
N

Nawab Nazeer Al

Nawab Nazeer Al

Nawab Nazeer Al

poet
7Ghazal

Ghazalغزل

See all 7
غزل · Ghazal

کہتا ہے نہ دل اس بت بے پیر سے الجھا ناصح مرا دل اس تری تقریر سے الجھا دل یار کی جو زلف گرہ گیر سے الجھا سودائی تھا اچھا ہوا زنجیر سے الجھا زنجیرۂ ہر سطر ہے زنجیر کے مانند دل نامۂ دل دار کی تحریر سے الجھا ابرو کی محبت نہیں اچھی کبھی اے دل وہ قتل ہوا صاف جو شمشیر سے الجھا کوٹھے پہ کھڑے بال سکھاتے ہیں وہ یعنی لیجے دل عالم اسی تدبیر سے الجھا دل ہے جو گرفتار تری چین جبیں کا اس دام میں میں خوبیٔ تقدیر سے الجھا سفاک ذرا کیجیو تو اس کو سمجھ کر اک تار رگ جاں ہے ترے تیر سے الجھا بالائے فلک ماہ سے ہالے پہ پڑی اوس ہالہ جو کلی کی تری زنجیر سے الجھا صد چاک ہوا یاں دل سودا زدہ اپنا شانہ جو وہاں زلف گرہ گیر سے الجھا صد شکر خدا ہاتھ رکھا دوش پہ میرے جب پائچہ پائے بت بے پیر سے الجھا دولہؔ تو وہ ہے صاف چھٹا خلق خدا سے اک رشتۂ اخلاق جہانگیر سے الجھا

kahtaa hai na dil us but-e-be-pir se uljhaa

غزل · Ghazal

یاں ہجر میں محشر دل مائل نے دکھایا کانوں سے جو سنتے تھے اسے دل نے دکھایا مجنوں کا اٹھا پردۂ ہستی ادھر اور آہ آنچل نہ اسے صاحب محمل نے دکھایا ہم رو پڑے دیکھ اپنی اس آغوش تہی کو گرد اپنے جو ہالہ مہ کامل نے دکھایا گر گشتہ ہوئے ہم نہ کھلا زلف کا عقدہ کیا پیچ اب اس عقدۂ مشکل نے دکھایا پتھر کو ہوا زخم جگر سے مرض سل جب زخم جگر آپ کے بسمل نے دکھایا جوں ریگ رواں بادیہ پیمائی ہے تا عمر منہ ہم کو نہ آسائش منزل نے دکھایا کب اہل سخاوت سے ہو تقدیر کے بن فیض ہم سمجھے لب خشک جو ساحل نے دکھایا گھونگھٹ سے عیاں صاف ہے اس یار کا جلوہ عینک کا مزا پردۂ حائل نے دکھایا اس زلف کی تاثیر سے آنسو ہیں سیہ پوش سامان الم اشک کی محفل نے دکھایا دولہؔ یہ غزل ہم نے سنائی تو خجل ہو دیوان نہ پھر عاقل و غافل نے دکھایا

yaan hijr mein mahshar dil-e-maail ne dikhaayaa

غزل · Ghazal

کب جدا ہے مجھ سے دلبر کب میں دلبر سے جدا ہو نہ گوہر آب سے اور آب گوہر سے جدا روح تن سے جاں بدن سے ہوش ہے سر سے جدا کیا کشاکش میں پھنسا ہوں جب سے دلبر سے جدا ہو گئی برباد مٹی مل گیا میں خاک میں جب ہوا نقش قدم کی طرح اس در سے جدا حشر میں کس کی گریباں گیر ہوگی اے خدا کیوں ہوئی خاک اپنی دامان ستم گر سے جدا کیا ہی طالع کا ستارہ ہے نحوست میں مرا ہو گیا وہ ماہ جیسے مجھ بد اختر سے جدا لخت دل آگے چلا پیچھے رواں ہے فوج اشک ہو نہیں سکتا یہ لشکر اپنے افسر سے جدا جاگنے سے غیر کے ہمدم کہیں کیا رات بھر ہم کو وہ ترسے جدا اور ان کو ہم ترسے جدا جوش پر ہے چشم تر وحشت نہ لے جا سوئے دشت موسم بارش میں ہم ہوں کس طرح گھر سے جدا کب بچے جب بحر شور افزا میں اک طفل صغیر ہو تلاطم میں کہیں دست شناور سے جدا پائے وہ قعر جہنم میں جگہ اپنی وہاں یاں ہو جس کا ہاتھ دامان پیمبر سے جدا گرچہ ہے کم فرصتی دولہؔ غزل کہہ اور بھی ان دنوں از بس ہے تو شوخ ستم گر سے جدا

kab judaa hai mujh se dilbar kab main dilbar se judaa

غزل · Ghazal

جان لب پر آ گئی فرقت میں بس گھبرا چکے اب وہ آئیں یا نہ آئیں ہم تو جی سے جا چکے ناز و انداز و ادا کو کام تم فرما چکے کھول کر بند اب لپٹ جاؤ بہت شرما چکے اس کے آنے کی نہ ٹھہری سو طرح غم کھا چکے جان ہے جائے کہیں قصہ مٹے جھگڑا چکے انتظار ان کا عبث اے دل ہے بس وہ آ چکے خط جو بھیجے تھے جواب صاف قاصد لا چکے کھینچ کر آہیں منغص اس کو کر دیتا ہے تو یار کو صد بار اے دل ہم منا کر لا چکے پھاڑ کر کپڑے چلے صحرا کو ہم وحشت زدہ نکہت گل کی طرح ہم پھر کے گھر کو آ چکے جب نہ اک بوسہ ہی دو تم اور نہ اک دشنام دو دل تمہیں کیوں کر ملے اور اس کی قیمت کیا چکے مجھ کو طعنہ اور مہ رویوں سے ملنے کا دیا میں بھی اب کچھ عرض کر لوں آپ تو فرما چکے تھا حجاب‌ عشق مانع ورنہ شب کو وصل میں ہاتھ ان پاؤں تلک سو بار ہم پہنچا چکے دم الٹتا ہے مرا رخ سے الٹ دیجے نقاب بے حجابی سے تسلی کیجئے شرما چکے اپنے اس دیوانہ پن سے دل نہ باز آیا کبھی قید زنداں میں رکھا زنجیر تک پہنا چکے جوں قفس صد چاک دل ہے حسرت پرواز سے مرغ گل کا شاخ گل سے ہم قفس لٹکا چکے وصل کی شب ہے کف پا اپنے سہلانے تو دو ہجر میں ہم سے کف افسوس تو ملوا چکے ہائے اس گل نے نہ کی اس دل کی چاہت پر نظر زخم کھائے تن پہ لاکھوں سیکڑوں گل کھا چکے ناتوانی کا بہانہ گہ کیا گہ موت کا ان کے رہ جانے کو ہم تو سوانگ لاکھوں لا چکے اس نے پر رہنے نہ ہم کو واں دیا کیا کیجئے پاؤں کس کس طرح اس کے در پہ ہم پھیلا چکے صید معنی کوئی دولہؔ اپنے ہاتھ آتا نہیں توسن فکر اپنا اس میداں میں ہم دوڑا چکے

jaan lab par aa gai furqat mein bas ghabraa chuke

غزل · Ghazal

اب تو مقابلہ ہے رخ و زلف یار میں ہے فصل کا مباحثہ لیل و نہار میں ممکن نہیں ہے فصل رخ و زلف یار میں کب انفصال ہو سکے لیل و نہار میں جس کو غرض ہو جائے وہ توبہ کی چھاؤں میں بیٹھا ہوں میں تو سایۂ دیوار یار میں جس قافلہ میں ساتھ ہو محمل نشیں مرا لیلیٰ وہاں کہاں ہو شمار و قطار میں مشہور تو ہیں وامق و فرہاد و قیس و نل مجھ سا نہیں ہے ایک بھی ان تین چار میں اس سنگ دل کو ہے وہی اغماض گو یہاں جائے پھڑک کے جان نکل انتظار میں قاصد جو پھر کے آئے تو پھر تن میں جان آئے مرتا جواب نامہ کے ہوں انتظار میں بے ہوش کرتا ہے ترا کہنا یہ ناز سے مجھ کو نہ چھیڑ نیند کے ہوں میں خمار میں خورشید کی طرح میں سراپا ہوں ایک داغ داغوں کی اور جا نہیں اس جسم زار میں ایذا ہے سائلوں سے مدام اہل فیض کو پتھر لگاتے ہیں شجر میوہ دار میں دولہؔ غزل اک اور سنا اس زمین میں باقی ہے جوش بھی تو دل بے قرار میں

ab to muqaabla hai rukh-o-zulf-e-yaar mein

غزل · Ghazal

وہ بھی کیا دن تھے جدا ہوتے نہ تھے اک دم کہیں گردش افلاک سے اب تم کہیں اور ہم کہیں تھم رہیں یا رب نہ اپنے دیدۂ پر نم کہیں کم نہ ہو دنیا سے اب یہ چشمۂ زمزم کہیں غم نہ کھا اے دل کہ دنیا کا یہی قانون ہے نغمۂ شادی کہیں ہے نالۂ ماتم کہیں اب یہ عالم ہے کہ اک عالم کا جی قربان ہے او بت کافر نہ دیکھا تیرا سا عالم کہیں گو پریشاں کر دے میری صرصر آہ اک جہاں ہو نہ وہ زلف معنبر درہم و برہم کہیں ظالم و بے رحم دنیا میں نہیں گر آپ سا صابر و شاکر زیادہ مجھ سے ہوگا کم کہیں غنچہ ساں خون جگر پی پی کے رہتے ہیں مدام شکل گل ہو جائے ٹکڑے دل جو ہو خرم کہیں عمر کے مانند ہر دم ہم سے رم ہے یار کو چوکڑی بھولے ہرن کر دیکھ لے یہ رم کہیں اس کی پستاں پر جو پھیرا ہاتھ وہ کہنے لگا محروموں پر ڈالتے ہیں ہاتھ نامحرم کہیں اس زمیں میں اور بھی دولہؔ سناؤ اک غزل آپ کے سے شعر کا دیکھا نہیں عالم کہیں

vo bhi kyaa din the judaa hote na the ik dam kahin

Similar Poets