yazid-e-vaqt huaa jis ghaDi se takht-nashin
hamaare naam ke khanjar har ik mein baTne lage

Nawaz Asimi
Nawaz Asimi
Nawaz Asimi
Popular Shayari
1 totalGhazalغزل
خطر ہوائے مخالف کا درمیان میں تھا مگر پرندہ مگن اپنی ہی اڑان میں تھا ہمارا جرم تو یکساں تھا پر گرفت کے بعد وو شخص ہو کے نہ ہو میں تو امتحان میں تھا ہمیں ہماری زباں میں سزا سنائی گئی مگر قصور لکھا جانے کس زبان میں تھا تمام شہر پے غالب تھا دھوپ کا لشکر فصیل شہر کے باہر میں سائبان میں تھا وطن پرستوں نے تاریخ ہی بدل ڈالی نہیں تو ذکر ہمارا بھی داستان میں تھا مع مسافر و ملاح ناؤ ڈوب گئی نوازؔ نقص رکھا جیسے بادبان میں تھا
khatar havaa-e-mukhaalif kaa darmiyaan mein thaa
تمام ابر پہاڑوں پہ سر پٹکتے رہے غریب دہکاں کے آنسو مگر ٹپکتے رہے تمام موسم بارش اسی طرح گزرا چھتیں ٹپکتی رہیں اور مکیں سسکتے رہے نہارنے کے لیے جب نہ مل سکا منظر ہم اپنی سوختہ سامانیوں کو تکتے رہے مکان اشکوں کے سیلاب میں ٹھہر نہ سکے مکین پلکوں کی شاخیں پکڑ لٹکتے رہے وو ہم پہ برف کا طوفان بن کے ٹوٹ پڑا ہم اپنے آپ میں شعلہ بنے بھبھکتے رہے امیر لوگوں کی بستی میں کوئی در نہ کھلا غریب لوگ ہر اک در پہ سر پٹکتے رہے نوازؔ لقمے پہ لقمہ دیا ہے ہم نے مگر محبتوں کی تلاوت میں وو اٹکتے رہے
tamaam abr pahaaDon pe sar paTakte rahe
موم صفت لوگوں نے میرا ہنس کے تماشہ دیکھا تو وہ پتھر تھا لیکن اس کی آنکھ سے آنسو ٹپکا تو الفاظوں نے معنی بدلے تحریروں نے رخ بدلا میرے قلم کی نوک سے جس دم خون کا چشمہ پھوٹا تو کہنے لگے سب آج سوا نیزے پر سورج آئے گا جس دن میں نے موم کا کرتا اپنے بدن پر پہنا تو قیمت دیکھتے دیکھتے پہنچی کوڑی سے پھر لاکھوں میں کانچ کا اک شوکیس بنا کر خود کو اوس میں رکھا تو اونچی اونچی باتیں دینا میری بھی کل فطرت تھی ہوش ٹھکانے آ گئے میرے اپنے اندر جھانکا تو مجھ کو پنجرے سے تو نکالا پر صیاد نے دھمکی دی بازو جھڑ جائیں گے تیرے تو نے اڑنا چاہا تو
mom sifat logon ne meraa hans ke tamaasha dekhaa to
جنوں پے چھوڑ دی اب ساری زندگی میں نے خرد کو آگ لگا دی ابھی ابھی میں نے فقیر شہر کے شجرے کو دیکھنے کے بعد امیر شہر کی دستار کھینچ لی میں نے ہوائیں اتنی خنک تھیں کے خون جمنے لگا تو تپتے سہرہ کی کچھ ریت اوڑھ لی میں نے طلسم ٹوٹا پرندے سے شاہزادی بنی جو سر میں کیل ٹھکی تھی نکال دی میں نے گزارشوں کو نہ مانو مگر یہ یاد رکھو کئی سنائے ہیں فرمان تغلقی میں نے بنی گئی تھی جو خواہش کے تانے بانے سے مزار دل سے وو چادر اتار دی میں نے مرے چراغوں وصیت تو دیکھ لو میری تمہارے حصے میں لکھ دی ہے روشنی میں نے نوازؔ اس لیے رہتا ہے وو خفا مجھ سے کے اس کی بات پے حامی نہیں بھری میں نے
junun pe chhoD di ab saari zindagi main ne
قسم خدا کی بلندی سے گفتگو کرتے اڑان بھرنے سے پہلے اگر وضو کرتے فنا کا خوف رہا رات بھر محلے پر فقیر گزرے تھے کل شام اللہ ہو کرتے ہمارے سایہ زمینوں میں دھنس چکے تھے یہاں سفر کا عزم بھلا کیسے چار سو کرتے کسی پے دھوپ کے چلکے نہ ڈالتے ہرگز اک آئنہ بھی اگر خود کے رو بہ رو کرتے جھکی جبین کا معیار بڑھ گیا ہوتا گر اپنے آپ کو مسجود قبلہ رو کرتے ابھی ہوئی ہیں کہاں پتھروں کی برساتیں ابھی سے پھرنے لگے کیوں لہو لہو کرتے جو لوگ موم کی دستار باندھے پھرتے ہے ذرا سی دیر تو سورج سے گفتگو کرتے کرن کے دھاگے کا ہم کو اگر سرا ملتا ہوائیں سیتے خلاؤں کو ہم رفو کرتے نوازؔ اس لیے خاموشیوں سے لپٹے ہیں زبان کھلتی تو پیدا نئے عدو کرتے
qasam khudaa ki bulandi se guftugu karte
بظاہر تو تناور دکھ رہے ہیں مگر یے پیڑ سارے کھوکھلے ہیں یہ کس شمع کی چاہت میں پتنگے برہنہ پاؤں سورج پر کھڑے ہیں غزل کتنی اپاہج ہو گئی ہے غزل کے دست و بازو کہہ رہے ہیں دراریں جسم کی کھلنے لگی ہیں لہو کے قطرے بر آمد ہوئے ہیں ہر اک جانب ہے تاریکی کا جنگل اجالے راستہ بھٹکے ہوئے ہیں نوازؔ اس کی گلی کے سارے پتھر مجھے اچھی طرح پہچانتے ہیں
ba-zaahir to tanaavar dikh rahe hain





