SHAWORDS
Nawed Fidaa Sattii

Nawed Fidaa Sattii

Nawed fidaa sattii

Nawed fidaa sattii

poet
18Ghazal

Ghazalغزل

See all 18
غزل · Ghazal

سحر طلب نہ خواب فسوں مجھ کو مل گیا نیند آ گئی تو خود ہی سکوں مجھ کو مل گیا میں چاہتا ہوں خاک اڑاؤں جہان کی یہ کیسی آگ کیسا جنوں مجھ کو مل گیا یہ پھول لے کر اس کی طرف جا رہا تھا میں لیکن وہ راستے میں ہی کیوں مجھ کو مل گیا کل تک تو آنسوؤں سے پریشاں تھا اور اب احوال دل بھی آج زبوں مجھ کو مل گیا اس پیڑ کو گھمنڈ بہت تھا بہار میں لیکن خزاں میں وہ بھی نگوں مجھ کو مل گیا اک یاد گھر میں سائے کی صورت رہی فداؔ اک عکس آئنے کے دروں مجھ کو مل گیا

sehr-e-talab na khvaab-e-fusun mujh ko mil gayaa

غزل · Ghazal

کسی نے دیکھا نہیں التجا کے لہجے میں ہزار پھول کھلے تھے دعا کے لہجے میں جو آدمی ہے اسے آدمی ملوں گا اور خدا سے بات کروں گا خدا کے لہجے میں میں کوہسار پہ تیشہ بدست پہنچا تو وہ شکل بول اٹھی اپسرا کے لہجے میں یہ دن دکھائے ہیں مجھ کو مری محبت نے کہ مجھ سے بات کرو تم خدا کے لہجے میں نہ جانے کون تھا کیا تھا مگر اچانک ہی وہ ہم کلام ہوا انبیا کے لہجے میں یہ اور بات کہ میں سن نہیں سکا ورنہ دیے نے کچھ تو کہا تھا ہوا کے لہجے میں دیے ہیں اس کو بہت درد اس زمانے نے ہزار زخم ہیں پنہاں فدا کے لہجے میں

kisi ne dekhaa nahin iltijaa ke lahje mein

غزل · Ghazal

لفظ لکھتا ہے کہ زنجیر بنا دیتا ہے وہ تو حیرت کو بھی تحریر بنا دیتا ہے تم اسے صرف نمی کہہ کے غلو مت برتو اشک کو درد ہمہ گیر بنا دیتا ہے اک تسلسل میں مناظر نظر آتے ہیں مجھے عشق ہر خواب کو زنجیر بنا دیتا ہے اس کے لفظوں میں وہ جادو ہے سر بزم سخن لب ہلاتا ہے کہ تصویر بنا دیتا ہے درد سے عذر نہ برتو کہ یہی درد اکثر میر کو میر تقی میر بنا دیتا ہے میں اسی اسم کی برکت میں ہوں سرشار فداؔ جو اندھیرے کو بھی تنویر بنا دیتا ہے

lafz likhtaa hai ki zanjir banaa detaa hai

غزل · Ghazal

دشت کے خاص حوالے نظر آتے ہیں مجھے پاؤں میں خون کے چھالے نظر آتے ہیں مجھے حیف صد حیف تجھے دیکھ نہیں پاتا میں شکر صد شکر اجالے نظر آتے ہیں مجھے نیند لگتی ہے چمکتے ہوئے سورج کا شکار خواب آنکھوں کے نوالے نظر آتے ہیں مجھے تم انہیں اندھا سمجھنے کی حماقت نہ کرو یہ تو سب دیکھنے والے نظر آتے ہیں مجھے جب سے گھر چھوڑ کہ وہ چاند گیا ہے میرا چھت تو چھت فرش پہ جالے نظر آتے ہیں مجھے یہ کہیں شہر تصوف تو نہیں دور تلک سب کے کندھوں پہ دوشالے نظر آتے ہیں مجھے دیکھتا ہوں میں نئے ڈھنگ سے دنیا کو فداؔ اور منظر بھی نرالے نظر آتے ہیں مجھے

dasht ke khaas havaale nazar aate hain mujhe

غزل · Ghazal

ہوا نہ مجھ سے کوئی ہم کلام گردش میں دھواں ہوئے ہیں مرے صبح و شام گردش میں خیال و خواب ہوا ہر زمانۂ وحشت اتر چکے ہیں سبھی خوش خرام گردش میں میں بھاگتا ہوں سر دشت کربلا اور پھر اضافہ کرتے ہیں آ کر امام گردش میں مری طلب مری رفتار کے منافی ہے میں خاص شخص ہوں رہتا ہوں عام گردش میں پنپ رہا ہے کہیں دل میں شوق دید و شنید دھڑک رہے ہیں زمانے مدام گردش میں بدل بدل کے کئی ہاتھ حشر اٹھاتا ہے بنا رہا ہے کوئی راہ جام گردش میں خدا کا شکر ادا کرتا ہوں میں صبح و مسا لبوں پہ رکھ کے درود و سلام گردش میں بدلتا رہتا ہے چلنے سے میکدے کا نظام کہ چل چلاؤ سے رہتا ہے جام گردش میں رہ فنا پہ قدم رکھ کے پھنس نہ جاؤں کہیں لگا رکھا ہے خدائی نے دام گردش میں رکا ہوا ہوں میں اک گردشی جزیرے پر گزر رہے ہیں مرے صبح و شام گردش میں رکے ہوئے ہیں سبھی دوست کیوں فداؔ مرے ملے گا ان کو یقیناً دوام گردش میں

huaa na mujh se koi ham-kalaam gardish mein

غزل · Ghazal

اشک کو رائیگاں سمجھتے ہو تم مرا دکھ کہاں سمجھتے ہو سچ بتاؤ پھر اپنے بارے میں گر مجھے رازداں سمجھتے ہو شب گزیدہ ہوں دل شکستہ نہیں آگ ہوں میں دھواں سمجھتے ہو سنتے رہتے ہو کیوں توجہ سے کیا مری داستاں سمجھتے ہو کیا سمجھتے ہو تم اگر تم بھی عشق کو امتحاں سمجھتے ہو گھوم کر دیکھتے ہو دنیا کو راز کون و مکاں سمجھتے ہو میں فداؔ ہوں تمہاری آنکھوں پر اور تم نیم جاں سمجھتے ہو

ashk ko raaegaan samajhte ho

Similar Poets