tum isi moD par hamein milnaa
lauT kar ham zarur aaeinge
Nazar Aitawi
Nazar Aitawi
Nazar Aitawi
Popular Shayari
1 totalGhazalغزل
زندگی گردش ایام سے آگے نہ بڑھی داستاں میری ترے نام سے آگے نہ بڑھی چشم ساقی کی حقیقت کو وہ کیا سمجھیں گے مے کشی جن کی کبھی جام سے آگے نہ بڑھی کتنے ہی جلوے نمایاں تھے فضا میں اے دوست اور نظر تھی کہ در و بام سے آگے نہ بڑھی ان سے پھر عرض تمنا پہ ہوئے ہم مجبور بات جب نامہ و پیغام سے آگے نہ بڑھی زندگی بن گئی میرے لیے پیچیدہ سوال آرزو جب دل ناکام سے آگے نہ بڑھی یوں تو لکھنے کو بہت کچھ تھا محبت میں مگر شاعری میرؔ ترے نام سے آگے نہ بڑھی
zindagi gardish-e-ayyaam se aage na baDhi
جب پکارا ہے تجھے اپنی صدا آئی ہے دل کی دیوار سے لپٹی ہوئی تنہائی ہے کاش ہوتا کوئی اشکوں کا پرکھنے والا آنکھ اس بزم سے اک جنس گراں لائی ہے مجھ کو حیرت ہے ذرا بھی تجھے احساس نہیں میری رسوائی میں بھی تو تری رسوائی ہے مشورہ ترک تعلق کا کسے دیتے ہو ہم نے تو عشق میں مرنے کی قسم کھائی ہے
jab pukaaraa hai tujhe apni sadaa aai hai
تری نگاہ سے دل میں اتر گیا ہوں میں بڑے وثوق سے یہ بات کہہ رہا ہوں میں طلوع صبح کا منظر کبھی نہیں دیکھا تمام رات دیے کی طرح جلا ہوں میں مجسموں کی شعاعیں بکھیرنے والے ترے خلوص کا مقصد سمجھ رہا ہوں میں ہر ایک موڑ پہ پتھر لیے کھڑے ہیں لوگ تمہارے عشق میں بدنام ہو گیا ہوں میں طواف کوچۂ جاناں کی آرزو کر کے نگاہ گردش دوراں میں آ گیا ہوں میں نہ مجھ سے پوچھئے کس دل سے آج مجبوراً اک اجنبی کی طرح آپ سے ملا ہوں میں مری طرف سے تغافل برت کے لوگوں کو کسی نے اتنا ہنسایا کہ رو پڑا ہوں میں
tiri nigaah se dil mein utar gayaa huun main
مجھے تم سے غم کی شکایت نہیں ندامت کی کوئی ضرورت نہیں خدا کی قسم تم تو پھر دوست ہو مجھے دشمنوں سے بھی نفرت نہیں وہاں دل کے سودے سے کیا واسطہ جہاں پیار کی کوئی قیمت نہیں اسے راس آئے گی کیا زندگی ترے نام سے جس کو نسبت نہیں وفاؤں کا مجھ سے نہ سودا کرو مرا پیار کوئی تجارت نہیں فقط اک ملاقات مقصود ہے نظرؔ کی کوئی اور حسرت نہیں
mujhe tum se gham ki shikaayat nahin
اس نے رخ پہ زلفوں کو اس طرح بکھیرا ہے اک طرف اجالا ہے اک طرف اندھیرا ہے حسن نے تخیل پر نور کیا بکھیرا ہے عشق کی نگاہوں میں دور تک سویرا ہے ضد نہ کیجیے ہم سے ہم کو ساتھ لے لیجے یاں کے لوگ وحشی ہیں شہر یہ لٹیرا ہے کل جو مجھ سے برہم تھے سوچتا ہوں جانے کیوں آج ان کے ہونٹوں پر نام صرف میرا ہے گیسوؤں سے رکھنا ہے ربط حسن والوں کے ناگنوں سے کھیلے ہے عشق بھی سپیرا ہے ساغروں کی گردش کو اور تیز کر ڈالو مجھ کو اس زمانے کی گردشوں نے گھیرا ہے جس جگہ کہ لٹتے ہیں قافلے محبت کے اے نظرؔ سنو اپنا اس جگہ بسیرا ہے
us ne rukh pe zulfon ko is tarah bikheraa hai





