SHAWORDS
Nazar Jalanvi

Nazar Jalanvi

Nazar Jalanvi

Nazar Jalanvi

poet
8Ghazal

Ghazalغزل

See all 8
غزل · Ghazal

لٹی بہار تو نظم چمن پہ کیا گزری نہ پوچھئے کہ گلوں کے بدن پہ کیا گزری تمہارے شہر میں مارے گئے جسے پتھر کسے ہے درد وہ دیوانہ پن پہ کیا گزری نصیب ہو گیا اس کو مقام ہستی کا نہ پوچھو مورد دار و رسن پہ کیا گزری شکست جام کی آواز ہے گواہ اس کی کہ میکدے میں کسی دل شکن پہ کیا گزری ضرور علم ہے اس کا نگاہ ساقی کو کہ تنگ ظرفی سے تشنہ دہن پہ کیا گزری وہ ایک ناز تغافل سے اٹھ گئے لیکن خبر نہیں کہ بھری انجمن پہ کیا گزری وطن کا آ گیا جس دم خیال غربت میں نظرؔ نہ پوچھو غریب الوطن پہ کیا گزری

luTi bahaar to nazm-e-chaman pe kyaa guzri

غزل · Ghazal

اس ساز کی آواز ذرا بھی نہیں آتی دل ٹوٹتا ہے اور صدا بھی نہیں آتی رنگ اڑ گیا ایسا جو دلہن ہو گئی بیوہ ہاتھوں میں نظر اس کے حنا بھی نہیں آتی یہ ہے نئی تہذیب کی عریانی کا عالم فخر اس کو سمجھنے میں حیا بھی نہیں آتی روشن وہ چراغ اپنے عزائم سے کیا ہے اس سمت ہوا کی تو ہوا بھی نہیں آتی مرنے سے نہ گھبراؤ اگر حادثہ آئے مرضی نہ ہو رب کی تو قضا بھی نہیں آتی ہر بات میں وہ عجز کے پیکر ہیں نظر ہم لب پر کبھی گفتار انا بھی نہیں آتی

us saaz ki aavaaz zaraa bhi nahin aati

غزل · Ghazal

آرزو کب ہے تری انجمن آرائی کی دوستی راس مجھے آئی ہے تنہائی کی کون ہے بڑھ کے بجھائے جو سلگتے گھر کو آنکھ رکھتی ہے یہ دنیا تو تماشائی کی سننے والا نہیں مظلوم کے دل کی چیخیں گونج ہے آج ترے شہر میں شہنائی کی رنگ اس گلشن عالم کا یہاں تک بدلا اڑ گئی بوئے وفا بھائی سے اب بھائی کی ربط الفت نہ بڑھا حد سے زیادہ ناداں آگے نوبت کہیں آ جائے نہ رسوائی کی فن کا خود آئنہ فن کار ہوا کرتا ہے کیا ضرورت ہے تعارف کی شناسائی کی خود کو دانا بھی سمجھنا ہے نظرؔ نادانی عاجزی اصل میں پہچان ہے دانائی کی

aarzu kab hai tiri anjuman-aaraai ki

غزل · Ghazal

چلے گا کون مرے ساتھ ہم سفر کی طرح کسی کی راہ نہیں میری رہ گزر کی طرح مرے یقین کا اس میں قصور ہی کیا ہے فریب ساز ملے مجھ کو معتبر کی طرح نہ امتیاز رہا کم نظر زمانے کو دکھائی دیتے ہیں سب عیب بھی ہنر کی طرح وہ کوئی شیش محل ہو کہ قصر شاہی ہو غریب کو نہ ملے گا سکون گھر کی طرح نہیں خلوص کا معیار شہر میں تیرے یہاں ضمیر کا سودا ہے مال و زر کی طرح ملے ضرور ترے آستاں کو سر لاکھوں مگر تڑپ نہ کسی میں ہے میرے سر کی طرح چمکتے کانچ کے ٹکڑے فریب دیتے ہیں نظرؔ کے سامنے آتے ہیں وہ گہر کی طرح

chalegaa kaun mire saath ham-safar ki tarah

غزل · Ghazal

تلاش و فکر میں نظروں کی حیرانی نہیں جاتی جو منزل سے گزرتا ہوں وہ پہچانی نہیں جاتی عجب دستور عالم ہے عجب انصاف دنیا ہے صلیب و دار پر حق بات بھی مانی نہیں جاتی زمانے کی صدائیں آپ تو پہچان لیتے ہیں مرے ہی درد کی آواز پہچانی نہیں جاتی متاع زندگی لٹ جائے گی معلوم ہے لیکن ہوس والوں کی حرص دولت فانی نہیں جاتی ہوئے قصر و محل تعمیر جن کے دم سے دنیا میں انہیں کی آج دیکھو خانہ ویرانی نہیں جاتی ضروری ہے کوئی حل ڈھونڈھنا تدبیر سے اس کا پریشانی کے کہنے سے پریشانی نہیں جاتی نظرؔ خود اعتمادی اک دلیل کامیابی ہے کبھی خالی کسی کی سعیٔ امکانی نہیں جاتی

talaash-o-fikr mein nazron ki hairaani nahin jaati

غزل · Ghazal

کسی سے کوئی نہ پوچھے مزاج کیسا ہے تمہاری بزم کا جانے رواج کیسا ہے کسی طرح بھی نہ زخم جگر بھرے اب تک نہ پوچھو زخم ہیں کیسے علاج کیسا ہے سکوں نصیب نہیں روشنی میں ہیروں کی کسی نصیب میں ہیروں کا تاج کیسا ہے بڑے خلوص سے کل تک گلے جو ملتا تھا چھپائے ہاتھ میں خنجر وہ آج کیسا ہے ہوئے سماج میں پیدا سماج کے دشمن جدید دور کا دیکھو سماج کیسا ہے پہنچ سکی در انصاف پر نہ جب آواز جفائے وقت پہ یہ احتجاج کیسا ہے

kisi se koi na puchhe mizaaj kaisaa hai

Similar Poets