"kyuun nahin leta hamari tu khabar ai be-khabar kya tire ashiq hue the dard-o-gham khane ko ham"

Nazeer Akbarabadi
Nazeer Akbarabadi
Nazeer Akbarabadi
Sherشعر
See all 110 →kyuun nahin leta hamari tu khabar ai be-khabar
کیوں نہیں لیتا ہماری تو خبر اے بے خبر کیا ترے عاشق ہوئے تھے درد و غم کھانے کو ہم
tha irada tiri fariyad karen hakim se
تھا ارادہ تری فریاد کریں حاکم سے وہ بھی اے شوخ ترا چاہنے والا نکلا
baDi ehtiyat talab hai ye jo sharab sagar dil men hai
بڑی احتیاط طلب ہے یہ جو شراب ساگر دل میں ہے جو چھلک گئی تو چھلک گئی جو بھری رہی تو بھری رہی
juda kisi se kisi ka gharaz habib na ho
جدا کسی سے کسی کا غرض حبیب نہ ہو یہ داغ وہ ہے کہ دشمن کو بھی نصیب نہ ہو
the ham to khud-pasand bahut lekin ishq men
تھے ہم تو خود پسند بہت لیکن عشق میں اب ہے وہی پسند جو ہو یار کو پسند
mai pi ke jo girta hai to lete hain use thaam
مے پی کے جو گرتا ہے تو لیتے ہیں اسے تھام نظروں سے گرا جو اسے پھر کس نے سنبھالا
Popular Sher
110 total"tha irada tiri fariyad karen hakim se vo bhi ai shokh tira chahne vaala nikla"
"baDi ehtiyat talab hai ye jo sharab sagar dil men hai jo chhalak ga.i to chhalak ga.i jo bhari rahi to bhari rahi"
"juda kisi se kisi ka gharaz habib na ho ye daagh vo hai ki dushman ko bhi nasib na ho"
"the ham to khud-pasand bahut lekin ishq men ab hai vahi pasand jo ho yaar ko pasand"
"mai pi ke jo girta hai to lete hain use thaam nazron se gira jo use phir kis ne sambhala"
Ghazalغزل
shahr-e-dil aabaad thaa jab tak vo shahr-aaraa rahaa
شہر دل آباد تھا جب تک وہ شہر آرا رہا جب وہ شہر آرا گیا پھر شہر دل میں کیا رہا کیا رہا پھر شہر دل میں جز ہجوم درد و غم تھی جہاں فوج طرب واں لشکر غم آ رہا آ رہا آنکھوں میں دم تو بھی نہ آیا وہ صنم حیف کس سے پوچھیے جا کر کہ وہ کس جا رہا
karne lagaa dil talab jab vo but-e-khush-e-mizaaj
کرنے لگا دل طلب جب وہ بت خوش مزاج ہم نے کہا جان کل اس نے کہا ہنس کے آج زلف نے اس کی دیا کاکل سنبل کو رشک چشم سیہ نے لیا چشم سے آہو کے باج اس کی وہ بیمار چشم دیکھ رہا تو جو دل رہ تو سہی میں تیرا کرتا ہوں کیسا علاج کام پڑا آن کر چاہ سے جس دن ہمیں چھٹ گئے اس روز سے اور جو تھے کام کاج دل تو نہ دیتے ہم آہ لے گئی لیکن نظیرؔ اس کی جبیں کی حیا اور وہ آنکھوں کی لاج
saaqi ye pilaa us ko jo ho jaam se vaaqif
ساقی یہ پلا اس کو جو ہو جام سے واقف ہم آج تلک مے کے نہیں نام سے واقف مستی کے سوا دور میں اس چشم سیہ کے کافر ہو جو ہو گردش ایام سے واقف مر کر بھی تہ خاک نہ آسودہ ہوئے آہ اے عشق نہ تھے ہم ترے انجام سے واقف صیاد کی الفت سے پھنسے آن کے ورنہ تھے کاہے کو ہم اس قفس و دام سے واقف ملنے کا پیام اس سے کہو جا کے عزیزو جو اس کے نہ ہو وصل کے پیغام سے واقف اوروں سے قسم کھائیے اور ہم تو مری جاں ہیں خوب تمہاری قسم اقسام سے واقف کوئی نہیں کرتا جو کیا تو نے نظیرؔ آہ دل اس کو دیا جس کے نہیں نام سے واقف
khayaal-e-yaar sadaa chashm-e-nam ke saath rahaa
خیال یار سدا چشم نم کے ساتھ رہا مرا جو چاہ میں دم تھا وہ دم کے ساتھ رہا گیا سحر وہ پری رو جدھر جدھر یارو میں اس کے سایہ صفت ہر قدم کے ساتھ رہا پھرا جو بھاگتا مجھ سے وہ شوخ آہو چشم تو میں بھی تھک نہ رہا گو وہ رم کے ساتھ رہا اکیلا اس کو نہ چھوڑا جو گھر سے نکلا وہ ہر اک بہانے سے میں اس صنم کے ساتھ رہا نظیرؔ پیر ہوا تو بھی بار ناز بتاں کچھ اس کے دوش کے کچھ پشت خم کے ساتھ رہا
miraa dil hai mushtaaq us gul-badan kaa
مرا دل ہے مشتاق اس گل بدن کا کہ یہ باغ اک گل ہے جس کے چمن کا وہی زلف ہے جس کی نکہت سے اب تک پڑا خون سوکھے ہے مشک ختن کا وہی لعل لب ہے کہ حسرت سے جس کے جگر آج تک خوں ہے لعل یمن کا عجب سیر دیکھی نظیرؔ اس چمن کی ابھی وصل تھا نرگس و نسترن کا ابھی یک دگر جمع تھے سنبل و گل ابھی تھا بہم جوش سرو و سمن کا ابھی چہچہے بلبلوں کے عیاں تھے ابھی شور تھا قمریٔ نعرہ زن کا گھڑی بھر کے ہی بعد دیکھا یہ عالم کہ نام و نشاں بھی نہ واں تھا چمن کا
vo sanam jo mehr-ezaar hai use ham se milne mein aar hai
وہ صنم جو مہر عذار ہے اسے ہم سے ملنے میں عار ہے ولے اپنا جو دل زار ہے وہ ہزار جاں سے نثار ہے ملے جب سے کوچے میں اس کے جا یہ سرور عیش ہے برملا لب دل ہے اور وہ نقش پا بر جاں ہے اور در یار ہے وہ نگہ جو اس کی ہے فتنہ گر اسے مشق صید ہے پیشتر ہے جو دل کا طائر تیز پر اسی باز کا یہ شکار ہے وہ مژہ لگا کے جو ایک سناں گئی پھر تو کر نہ دل اب فغاں کئی ایسے ہوویں گے امتحاں یہ ابھی تو پہلا ہی وار ہے جو بہار گل پہ رہی ہے تل ہمیں کیا جو حسن کی پی ہے مل جنہیں چاہئے ہے وہ رشک گل انہیں گل سے کیا سروکار ہے جو بتوں کو دیویں دل اور دیں رکھیں اس کو یہ بہ الم قریں بھلا کہئے کیا اسے ہم نشیں یہ عجب کچھ ان کا شعار ہے کئی دن ہوئے ہیں نظیرؔ اب کہ خفا ہے ہم سے وہ غنچہ لب اسے کیا ولے ہمیں روز و شب نہ تو صبر ہے نہ قرار ہے





