SHAWORDS
Nazeer Akbarabadi

Nazeer Akbarabadi

Nazeer Akbarabadi

Nazeer Akbarabadi

poet
110Sher
195Ghazal

Sherشعر

See all 110

Popular Sher

110 total

Ghazalغزل

See all 195
غزل · Ghazal

shahr-e-dil aabaad thaa jab tak vo shahr-aaraa rahaa

شہر دل آباد تھا جب تک وہ شہر آرا رہا جب وہ شہر آرا گیا پھر شہر دل میں کیا رہا کیا رہا پھر شہر دل میں جز ہجوم درد و غم تھی جہاں فوج طرب واں لشکر غم آ رہا آ رہا آنکھوں میں دم تو بھی نہ آیا وہ صنم حیف کس سے پوچھیے جا کر کہ وہ کس جا رہا

غزل · Ghazal

karne lagaa dil talab jab vo but-e-khush-e-mizaaj

کرنے لگا دل طلب جب وہ بت خوش مزاج ہم نے کہا جان کل اس نے کہا ہنس کے آج زلف نے اس کی دیا کاکل سنبل کو رشک چشم سیہ نے لیا چشم سے آہو کے باج اس کی وہ بیمار چشم دیکھ رہا تو جو دل رہ تو سہی میں تیرا کرتا ہوں کیسا علاج کام پڑا آن کر چاہ سے جس دن ہمیں چھٹ گئے اس روز سے اور جو تھے کام کاج دل تو نہ دیتے ہم آہ لے گئی لیکن نظیرؔ اس کی جبیں کی حیا اور وہ آنکھوں کی لاج

غزل · Ghazal

saaqi ye pilaa us ko jo ho jaam se vaaqif

ساقی یہ پلا اس کو جو ہو جام سے واقف ہم آج تلک مے کے نہیں نام سے واقف مستی کے سوا دور میں اس چشم سیہ کے کافر ہو جو ہو گردش ایام سے واقف مر کر بھی تہ خاک نہ آسودہ ہوئے آہ اے عشق نہ تھے ہم ترے انجام سے واقف صیاد کی الفت سے پھنسے آن کے ورنہ تھے کاہے کو ہم اس قفس و دام سے واقف ملنے کا پیام اس سے کہو جا کے عزیزو جو اس کے نہ ہو وصل کے پیغام سے واقف اوروں سے قسم کھائیے اور ہم تو مری جاں ہیں خوب تمہاری قسم اقسام سے واقف کوئی نہیں کرتا جو کیا تو نے نظیرؔ آہ دل اس کو دیا جس کے نہیں نام سے واقف

غزل · Ghazal

khayaal-e-yaar sadaa chashm-e-nam ke saath rahaa

خیال یار سدا چشم نم کے ساتھ رہا مرا جو چاہ میں دم تھا وہ دم کے ساتھ رہا گیا سحر وہ پری رو جدھر جدھر یارو میں اس کے سایہ صفت ہر قدم کے ساتھ رہا پھرا جو بھاگتا مجھ سے وہ شوخ آہو چشم تو میں بھی تھک نہ رہا گو وہ رم کے ساتھ رہا اکیلا اس کو نہ چھوڑا جو گھر سے نکلا وہ ہر اک بہانے سے میں اس صنم کے ساتھ رہا نظیرؔ پیر ہوا تو بھی بار ناز بتاں کچھ اس کے دوش کے کچھ پشت خم کے ساتھ رہا

غزل · Ghazal

miraa dil hai mushtaaq us gul-badan kaa

مرا دل ہے مشتاق اس گل بدن کا کہ یہ باغ اک گل ہے جس کے چمن کا وہی زلف ہے جس کی نکہت سے اب تک پڑا خون سوکھے ہے مشک ختن کا وہی لعل لب ہے کہ حسرت سے جس کے جگر آج تک خوں ہے لعل یمن کا عجب سیر دیکھی نظیرؔ اس چمن کی ابھی وصل تھا نرگس و نسترن کا ابھی یک دگر جمع تھے سنبل و گل ابھی تھا بہم جوش سرو و سمن کا ابھی چہچہے بلبلوں کے عیاں تھے ابھی شور تھا قمریٔ نعرہ زن کا گھڑی بھر کے ہی بعد دیکھا یہ عالم کہ نام و نشاں بھی نہ واں تھا چمن کا

غزل · Ghazal

vo sanam jo mehr-ezaar hai use ham se milne mein aar hai

وہ صنم جو مہر عذار ہے اسے ہم سے ملنے میں عار ہے ولے اپنا جو دل زار ہے وہ ہزار جاں سے نثار ہے ملے جب سے کوچے میں اس کے جا یہ سرور عیش ہے برملا لب دل ہے اور وہ نقش پا بر جاں ہے اور در یار ہے وہ نگہ جو اس کی ہے فتنہ گر اسے مشق صید ہے پیشتر ہے جو دل کا طائر تیز پر اسی باز کا یہ شکار ہے وہ مژہ لگا کے جو ایک سناں گئی پھر تو کر نہ دل اب فغاں کئی ایسے ہوویں گے امتحاں یہ ابھی تو پہلا ہی وار ہے جو بہار گل پہ رہی ہے تل ہمیں کیا جو حسن کی پی ہے مل جنہیں چاہئے ہے وہ رشک گل انہیں گل سے کیا سروکار ہے جو بتوں کو دیویں دل اور دیں رکھیں اس کو یہ بہ الم قریں بھلا کہئے کیا اسے ہم نشیں یہ عجب کچھ ان کا شعار ہے کئی دن ہوئے ہیں نظیرؔ اب کہ خفا ہے ہم سے وہ غنچہ لب اسے کیا ولے ہمیں روز و شب نہ تو صبر ہے نہ قرار ہے

Similar Poets