"'nazir' log to chehre badalte rahte hain tu itna saada na ban muskurahaTen pahchan"

Nazeer Tabassum
nazeer Tabassum
nazeer Tabassum
Sherشعر
Popular Sher & Shayari
2 total'nazir' log to chehre badalte rahte hain
tu itnaa saada na ban muskuraahaTein pahchaan
Ghazalغزل
ye saliqa bhi hunar mein rakhnaa
یہ سلیقہ بھی ہنر میں رکھنا روشنی راہ گزر میں رکھنا یا تو خود میرے اثر میں رہنا یا مجھے اپنے اثر میں رکھنا مسئلہ غور طلب ہے اس میں کچھ اندیشے بھی نظر میں رکھنا کیا خبر وقت کہاں لے جائے جانے والوں کو خبر میں رکھنا دوستی جاہ طلب اور ہمیں ایک تنکا بھی نہ گھر میں رکھنا پر بریدہ بھی جو اڑنا چاہے اس پرندے کو نظر میں رکھنا
anaa ke moD par sochaa nahin hai
انا کے موڑ پر سوچا نہیں ہے پلٹ کر پھر اسے دیکھا نہیں ہے ڈرو اس عہد کے آئینہ گر سے وہ گونگا ہے مگر اندھا نہیں ہے میں جس میں ڈوب جانا چاہتا ہوں وہ دریا ہے مگر گہرا نہیں ہے اب اس موضوع پر کیا بحث کرنا تمہارا وہ لب و لہجہ نہیں ہے میں خود لفظوں کی بازی کھیلتا ہوں مگر اس بات کا موقع نہیں ہے ہمیشہ کی طرح محتاط ہے وہ مری دستک پہ بھی کھلتا نہیں ہے
yaqin khud ko dilaane mein abhi kuchh din lageinge
یقیں خود کو دلانے میں ابھی کچھ دن لگیں گے تمہیں یکسر بھلانے میں ابھی کچھ دن لگیں گے خزاں کی شدتوں سے خال و خد بجھ سے گئے ہیں سو پھر سے مسکرانے میں ابھی کچھ دن لگیں گے یہاں بوئی گئی ہیں دکھ کی بارودی سرنگیں نئی فصلیں اگانے میں ابھی کچھ دن لگیں گے یہ بستی مدتوں سرطان کی زد میں رہی ہے اسے پھر سے بسانے میں ابھی کچھ دن لگیں گے جوانی ایک محبوبہ ہے اور ناراض بھی ہے اسے تھوڑا منانے میں ابھی کچھ دن لگیں گے شعور ضبط کا ہر مرحلہ بے حد کڑا ہے سو تصویریں جلانے میں ابھی کچھ دن لگیں گے
kali kali mein nihaan hichkichaahaTein pahchaan
کلی کلی میں نہاں ہچکچاہٹیں پہچان تو شاخ گل پہ گل نو کی آہٹیں پہچان لہو کی آنکھ سے پڑھ میرے ضبط کی تحریر لبوں پہ لفظ نہ گن کپکپاہٹیں پہچان میں پنکھڑی کی طرح اپنے ہونٹ وا کر دوں تو تتلیوں کی طرح گنگناہٹیں پہچان محاذ کھول دیا ہے تو گہری نیند نہ سو ہوا کے بھیس میں ہیں سنسناہٹیں پہچان یہ جھوٹے نگ ہیں مگر حسن سے تراشے ہیں تو جوہری ہے اگر جگمگاہٹیں پہچان وہ کالا سانپ ہے تجھ کو نظر نہ آئے گا تو جھاڑیوں میں چھپی سرسراہٹیں پہچان نذیرؔ لوگ تو چہرے بدلتے رہتے ہیں تو اتنا سادہ نہ بن مسکراہٹیں پہچان
zindagi yuun hui basar tanhaa
زندگی یوں ہوئی بسر تنہا جیسے وادی میں اک شجر تنہا خوں طلب خواہشوں کے جنگل میں کیسے کاٹو گے یہ سفر تنہا چاندنی پتھروں پہ سوتی ہے چاند پھرتا ہے در بدر تنہا اپنی شاخوں کے ٹوٹ جانے پر پیڑ روتے ہیں رات بھر تنہا خوشبوؤں کی تلاش میں تتلی اڑ رہی ہے نگر نگر تنہا کون آئے گا اب نذیرؔ یہاں دور تک حد رہ گزر تنہا





