Nazim Qamar
saamnaa aandhiyon kaa kyaa kartaajab havaaon se Doltaa huun main
راستہ تنگ ہے لیکن ہمیں چلنا ہوگا بھیڑ سے بچ کے بہرحال نکلنا ہوگا لے لیا ہم نے مقدر سے گلابوں میں جنم اب یہ سچائی ہے کانٹوں میں ہی پلنا ہوگا جن چراغوں پہ اجالوں کی ہے ذمہ داری آندھیوں میں بھی بلا خوف انہیں جلنا ہوگا ہم نے برفیلی چٹانوں سے محبت کر لی وہ پگھلتی ہیں تو ہم کو بھی پگھلنا ہوگا آدمی سے لقب انسان کا پانے کے لئے اپنے ارمان کو سختی سے کچلنا ہوگا اے قمرؔ پیچ و خم راہ پہ چلنا ہے تجھے ہر قدم پر ترے ٹھوکر ہے سنبھلنا ہوگا
raasta tang hai lekin hamein chalnaa hogaa