SHAWORDS
N

Nazir Siddiqi

Nazir Siddiqi

Nazir Siddiqi

poet
1Shayari
4Ghazal

Popular Shayari

1 total

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

مقتل سے میرا کاسۂ سر کون لے گیا اس تک یہ دل خراش خبر کون لے گیا چہرے پہ گرد راہ بھی باقی نہیں رہی مجھ سے مرا ثبوت سفر کون لے گیا راس آ چلی تھی دل کی فضائے جنون شوق بہکا کے مجھ کو دشت سے گھر کون لے گیا بے لوث دوستی کے زمانے کہاں گئے سرمایۂ خلوص بشر کون لے گیا یہ دیکھنے کی کوئی ضرورت نہیں رہی کس کا ہنر تھا داد ہنر کون لے گیا گھر سے نکل پڑے ہیں تو اب کیا یہ دیکھنا رستے سے سایہ دار شجر کون لے گیا دریا وہی ہے اس کی روانی وہی مگر روپوش تھا جو تہہ میں گہر کون لے گیا اعمال اپنے دیکھ کے یہ تجزیہ بھی کر ناظرؔ تری دعا سے اثر کون لے گیا

maqtal se meraa kaasa-e-sar kaun le gayaa

غزل · Ghazal

فصیل جاں پہ رکھی تھی نہ بام و در پہ رکھی تھی زمانے بھر کی بے خوابی مرے بستر پہ رکھی تھی ابھر آئی تھی پیشانی پہ نقش معتبر بن کر پرانی فکر کی خوشبو نئے منظر پہ رکھی تھی نظر اٹھی تو بس حیرت سے ہم دیکھا کئے اس کو ہماری گمشدہ دستار اس کے سر پہ رکھی تھی اسی کو زخم دینے پر تلا تھا سرپھرا سورج مری تخئیل کی بنیاد جس شہ پر پہ رکھی تھی زمیں پر روشنی آتی رہی جاتی رہی لیکن ہماری خانہ ویرانی بس اک محور پہ رکھی تھی پسینہ میری محنت کا مرے ماتھے پہ روشن تھا چمک لعل و جواہر کی مری ٹھوکر پہ رکھی تھی مرے سر پر مسلسل آگ برساتا رہا سورج نہ جانے کیسی ٹھنڈک میری چشم تر پہ رکھی تھی مری گردن جو زینت بن چکی تھی قتل گاہوں کی کبھی نیزے پہ رکھی تھی کبھی خنجر پہ رکھی تھی بدل کر پیرہن قدموں کے نیچے آ گئی ناظرؔ وہی مٹی جو اک دن دست کوزہ گر پہ رکھی تھی

fasil-e-jaan pe rakkhi thi na baam-o-dar pe rakkhi thi

غزل · Ghazal

گھر سے اب باہر نکلنے میں بھی گھبراتے ہیں ہم سنگ باری ہو کہیں بھی زد میں آ جاتے ہیں ہم آ گلے لگ جا ہمارے تیرگیٔ شام غم روشنی کے نام پر دھوکے بہت کھاتے ہیں ہم ان کا کہنا ہے کہ بس ترک تعلق ہو چکا ہم یہ کہتے ہیں کہ اب تنہا رہے جاتے ہیں ہم یوں تو دنیا نے بھی رکھا ہے نشانے پر ہمیں وحشت دل سے بھی کچھ آب و ہوا پاتے ہیں ہم اس کے رخ پر ڈالتے ہیں اک اچٹتی سی نظر اور پھر فکر سخن میں غرق ہو جاتے ہیں ہم ہنس کے کر لیتے ہیں وہ اپنے ستم کا اعتراف اور ان کی اس ادا پر قتل ہو جاتے ہیں ہم دیکھتے ہیں مسکرا کر اپنے بچوں کی طرف جب تھکن کا بوجھ اوڑھے اپنے گھر آتے ہیں ہم اس قدر حالات نے ناظرؔ بدل ڈالا ہمیں دوستوں کے درمیاں اب کم نظر آتے ہیں ہم

ghar se ab baahar nikalne mein bhi ghabraate hain ham

غزل · Ghazal

شاخ پہ چڑیا گاتی ہے جو کچھ ہے لمحاتی ہے پلکیں بھیگی رہتی ہیں دل کی فضا جذباتی ہے بات کروں یا شعر کہوں ایک سی خوشبو آتی ہے شہر میں ہوں اور تنہا ہوں رنگ مرا قصباتی ہے فکر ہے مجھ کو اپنی ہی غم بھی میرا ذاتی ہے حکم نہ دو بے داری کا نیند ہی کس کو آتی ہے لمس انا پر اتنا ناز خوشبو ہے اڑ جاتی ہے شمع کی صورت قسمت بھی جلتے ہی بجھ جاتی ہے قید قفس میں اب ناظرؔ روح بہت گھبراتی ہے

shaakh pe chiDiyaa gaati hai

Similar Poets