SHAWORDS
Nazr Fatmi

Nazr Fatmi

Nazr Fatmi

Nazr Fatmi

poet
1Shayari
12Ghazal

Popular Shayari

1 total

Ghazalغزل

See all 12
غزل · Ghazal

تری آمد نے سچ ہر خواب دیرینہ بنا ڈالا ہماری انجمن کو بزم خاصانہ بنا ڈالا اندھیروں سے نکل کر روشنی میں پاؤں رکھتے ہی دکھا کر آنکھ تم نے مجھ کو بیگانہ بنا ڈالا بہت چالاک ہے اس دور کا مجنوں جو چپکے سے سنا ہے اس نے صحرا میں ہی کاشانہ بنا ڈالا کیا جب عہد تم سے راز داری کا تو پھر میں نے زباں کر لی مقفل دل کو تہہ خانہ بنا ڈالا حکومت نے کیا جب میکدے کا بند دروازہ تو رندوں نے حسیں آنکھوں کو مے خانہ بنا ڈالا شکستہ دل کا کیا کرتے سو اک ترکیب یہ سوجھی ہر اک ٹکڑے سے میں نے ایک آئینہ بنا ڈالا مجھے کہنے لگے سب لوگ دیوانہ تو ظاہر ہے زمانے بھر کو میں نے نذرؔ دیوانہ بنا ڈالا

tiri aamad ne sach har khvaab-e-derina banaa Daalaa

غزل · Ghazal

ہو گئے جب ایک جا کچھ تشنگان شام غم سوئے مے خانہ چلا اک کاروان شام غم ہجر کے غم سے بڑا دنیا میں کوئی غم نہیں سامنے آئیں کہاں ہیں قاتلان شام غم جب جلا لیں بستیاں گرگوں نے جتنی بن پڑی پردۂ باطل سے نکلے حاکمان شام غم آج تو ساقی مجھے بس جام خالی چاہیئے آنسوؤں سے بھر چکا ہے مرتبان شام غم پنچھیوں نے اپنے اپنے گھونسلوں میں لی پناہ سونا سونا پڑ گیا ہے آسمان شام غم تشنگی آوارگی خانہ خرابی بیکلی ہے بہت وسعت لئے یہ خاندان شام غم دیر تک کرتے رہے باتیں تری تصویر سے اور کرتے نذرؔ کس کو رازدان شام غم

ho gae jab ek jaa kuchh tishnigaan-e-shaam-e-gham

غزل · Ghazal

پاتا ہوں لال طیش میں جان حیا کو میں کیسے زباں پہ لاؤں ابھی مدعا کو میں مشکل گھڑی ہے لے لیں عقائد کا امتحاں تم ہاتھ پاؤں مارو پکاروں خدا کو میں اک بار کی خطا ہو تو لغزش بھی مان لوں ہر بار ہو تو کیا کہوں ایسی خطا کو میں کرتا رہا پھر آج کی شب بھی اسی طرح جگنو کا انتظار بجھا کر دیا کو میں ایسا کبھی گناہ نہ کر بیٹھوں اے خدا منہ بھی دکھا سکوں نہ پھر اہل وفا کو میں جو راکھ بھی کرید کے شعلے نکال لے پہچانتا ہوں نذرؔ اک ایسی ہوا کو میں

paataa huun laal taish mein jaan-e-hayaa ko main

غزل · Ghazal

اس لیے شہر سے لوگوں نے نکالا مجھ کو مل گیا تھا مرا اک جاننے والا مجھ کو شکر اللہ کا میں ثابت و سالم نکلا آزمائش میں تو حالات نے ڈالا مجھ کو ان دنوں تیز بہت چرچے ہیں محروموں کے کچھ نظر آتا ہے اس دال میں کالا مجھ کو درج کر لیتا ہوں ہر دن کے بہانے تیرے کس طرح کون سی تاریخ میں ٹالا مجھ کو ہر طرف مجھ سے تعلق کا ڈھنڈورا پیٹا تم نے شہرت کے لئے اپنی اچھالا مجھ کو ہر گزرتا ہوا دن عمر گھٹا دیتا ہے اس حقیقت نے کہاں فکر میں ڈالا مجھ کو اس قدر ساتھ اندھیروں نے دیا نذرؔ مرا کاٹنے دوڑتا ہے دن کا اجالا مجھ کو

is liye shahr se logon ne nikaalaa mujh ko

غزل · Ghazal

بزم صہبا میں اچانک شور برپا ہو گیا ٹوٹ کر زاہد کا چکنا چور تقویٰ ہو گیا گردش دوراں کے ہاتھوں کا کھلونا ہو گیا سوچتا ہوں مجھ کو کیا ہونا تھا میں کیا ہو گیا کسمپرسی کا یہ عالم ہے مشینی دور میں بھیڑ میں رہتے ہوئے انسان تنہا ہو گیا وقت کے مرہم نے دکھلایا تو تھا اپنا اثر ایک ہچکی میں ہی سارا کھیل الٹا ہو گیا روز اول سے زمیں نے زہر اگلا اس قدر پیتے پیتے آسماں کا رنگ نیلا ہو گیا آپ کے قدموں کی خاطر ہی میں لایا تھا مگر ہاتھ لگنے سے مرا وہ پھول میلا ہو گیا مدعا لا کر زباں پر نذرؔ پھر رسوا نہ ہو آج تک تو یہ ہوا جو اس نے چاہا ہو گیا

bazm-e-sahbaa mein achaanak shor barpaa ho gayaa

غزل · Ghazal

چمن میں گل فشانی ہو رہی ہے ہوا کی مہربانی ہو رہی ہے یہاں میں قطرہ قطرہ گھل رہا ہوں محبت پانی پانی ہو رہی ہے میں اکثر نیند میں ڈرنے لگا ہوں مری بیٹی سیانی ہو رہی ہے ہمارے بچے بھی پڑھ لکھ رہے ہیں تمہیں کیوں بد گمانی ہو رہی ہے ادھر مہمان اکثر آ رہے ہیں ادھر چادر پرانی ہو رہی ہے انہیں پلکوں پہ رکھا ہے بٹھا کر انوکھی میزبانی ہو رہی ہے ابھی تک نذرؔ کی پلکیں ہیں بھاری بیاں شب کی کہانی ہو رہی ہے

chaman mein gul-fishaani ho rahi hai

Similar Poets