SHAWORDS
Neelam Malik

Neelam Malik

Neelam Malik

Neelam Malik

poet
1Sher
1Shayari
11Ghazal

Sherشعر

Popular Sher & Shayari

2 total

Ghazalغزل

See all 11
غزل · Ghazal

chashm-e-tar le ke jo us ghar se nikal jaaun main

چشم تر لے کے جو اس گھر سے نکل جاؤں میں سب بدل جائے جو منظر سے نکل جاؤں میں زندگی مجھ پہ مسلط ہے کسی ڈر کی طرح کیسے جی پاؤں جو اس ڈر سے نکل جاؤں میں میں یہاں قید ہوں مورت کی طرح سنگ تراش تو اگر چاہے تو پتھر سے نکل جاؤں میں پھر تو آگے کئی ندیاں کئی چشمے ہوں گے بس شب و روز کے استھر سے نکل جاؤں میں خیر مجھ کو جو پکارے کبھی باہر کی طرف اپنے اندر کے ہر اک شر سے نکل جاؤں میں دل یکتا جو مرا ساتھ گوارا ہی نہیں روح بن کر ترے پیکر سے نکل جاؤں میں جسم زنداں ہی سہی سوچ مگر بارہ دری جس طرف چاہوں کسی در سے نکل جاؤں میں

غزل · Ghazal

nafi ko yuun isbaat karo

نفی کو یوں اثبات کرو ختم تم اپنی ذات کرو دنیا سے جب ملنے جاؤ پہلے خود سے بات کرو دن بھر میرے ساتھ رہے خود میں بسر اب رات کرو رات کی زلف سنور جائے ہجر کو گر مشاط کرو نام مرا دل پر لکھواؤ دھڑکن کو خطاط کرو مجھ پر ایسے پیار لٹاؤ ساگر پر برسات کرو بات ہے میرے بارے میں لہجے کو محتاط کرو جب بھی سخن بساط بچھے ہر شاطر کو مات کرو عمر کی پونجی ختم نہ ہو کم کچھ اخراجات کرو عین کا امرت چکھنے کو ترک سبھی لذات کرو

غزل · Ghazal

vahi the jo apni justuju mein khare nahin the

وہی تھے جو اپنی جستجو میں کھرے نہیں تھے وگرنہ ہم ان کی دسترس سے پرے نہیں تھے تبھی وہ سمجھے کہ ہم کھلونے نہیں ہیں جب ہم وہاں سے ان کو ملے جہاں پر دھرے نہیں تھے درخت پھر سے ہرا پھلوں سے بھرا ہوا ہے مگر وہ پتے بہار میں جو ہرے نہیں تھے اس ایک لمحے کا رنگ عمروں پہ چھا گیا ہے وہ ایک لمحہ کہ رنگ جس میں بھرے نہیں تھے عجب سا اک خواب دیکھ کر آنکھ کھل گئی ہے ہم اپنے مرنے پہ روئے لیکن مرے نہیں تھے خود اپنے ہونے کے خوف میں اب جو مبتلا ہیں خدا کے ہونے سے بھی وہ پہلے ڈرے نہیں تھے یہ کیسی کایا پلٹ ہے شہہ مات دے رہے ہیں وہ جن سے شطرنج کے پیادے مرے نہیں تھے ہمیں زمانے نے کیمیا گر بنا دیا ہے جنم سے ہم لوگ یوں نہیں تھے ارے نہیں تھے

غزل · Ghazal

val-asr zamaana mire matlab kaa nahin hai

والعصر زمانہ مرے مطلب کا نہیں ہے یہ آئنہ خانہ مرے مطلب کا نہیں ہے کہتی ہیں نہ لا پائیں گی یہ تاب نظارہ آنکھوں کا بہانہ مرے مطلب کا نہیں ہے آئی ہوں ترے واسطے جنت سے زمیں پر ورنہ یہ ٹھکانہ مرے مطلب کا نہیں ہے اس میں ہے مرا ثانوی کردار لکهاری تیرا یہ فسانہ مرے مطلب کا نہیں ہے اک شخص کی خاطر ہے یہ سب ملنا ملانا ویسے وہ گھرانا مرے مطلب کا نہیں ہے جی خوب لگا وحشت بیداریٔ شب میں دن خواب سہانا مرے مطلب کا نہیں ہے جب مجھ سے ترے بارے میں پوچھے گا زمانہ کہہ دوں گی دوانہ مرے مطلب کا نہیں ہے احساس کا نیلمؔ جو نہیں تیرے بیاں میں لفظوں کا خزانہ مرے مطلب کا نہیں ہے

غزل · Ghazal

pahle jin saanchon se ham katraate hain

پہلے جن سانچوں سے ہم کتراتے ہیں وقت کے ساتھ انہی میں ڈھلتے جاتے ہیں ایک ہی زردی کیوں موسم پر چھائی ہے ساتوں رنگ پلٹ کر کیوں نہیں آتے ہیں ہم سے تو بس ایک مسافت ساتھ نبھا کون ہیں جو عمروں کی قسمیں کھاتے ہیں دن بھر اس دیوار سے لگ کے روئیں گے شب بھر جس کو دل کا حال سناتے ہیں مستقبل تالاب کہ جس کے پانی میں اندیشوں کے کالے ہنس نہاتے ہیں صبح سویرے آنکھوں سے رخصت ہو کر کون نگر کو خواب بھٹکنے جاتے ہیں

غزل · Ghazal

aakhirash mar hi gayaa yakh-bastagi sahtaa huaa

آخرش مر ہی گیا یخ بستگی سہتا ہوا وہ جو زندہ پل مری مٹھی میں تھا جکڑا ہوا اب کسی کو دیکھنا ان کو گوارا ہی نہیں دیکھ کر تجھ کو زمانے بھر سے دل اندھا ہوا ہر بن مو گوش بر آواز ہے اس کے لیے وہ مگر خاموش میری ہر صدا سنتا ہوا پر سلامت ہیں مگر پھر بھی وہ اڑ سکتا نہیں اک پرندہ کینوس پر کب سے ہے بیٹھا ہوا وقت کے سارے ستم ہم نے سہے مل کر تو پھر چاند میرے ساتھ آخر کیوں نہیں بوڑھا ہوا جان کر اپنا ہی گھر اب درد رہتا ہے یہاں دل کو خالی اس کی خاطر تو نہ تھا رکھا ہوا یوں مسلط زندگی کر دی گئی اعصاب پر بوجھ یہ ڈھونے میں شل احساس کا کندھا ہوا ہو گئے تحلیل سب منظر چھوا جب آئنہ کھل گیا یہ بھید عکس خواب تھا پھیلا ہوا

Similar Poets