
Neeraj Naveed
Neeraj Naveed
Neeraj Naveed
Ghazalغزل
جو باوجود ہواؤں کے تابناک ہوئے انہیں چراغوں سے لڑ کر اندھیرے خاک ہوئے یہ عشق کھیل نہیں ہے میاں سنبھل جاؤ ہزاروں قیس اسی عشق میں ہلاک ہوئے اگر گناہ کیا ہے سزا بھی چاہتے ہیں بہا کے اشک ندامت کے ہم نہ پاک ہوئے وہ چاہتے تھے حکومت ہو روشنی پہ مگر کئی پتنگے اسی آرزو میں خاک ہوئے کہ جیسے دنیا میں کچھ بھی نہیں ہو غم کے سوا جدھر بھی دیکھو وہیں پر جگر ہیں چاک ہوئے چنا تھا ضد میں بہت تنگ قافیہ ہم نے خدا کا شکر کے کچھ شعر ٹھیک ٹھاک ہوئے
jo baavajud havaaon ke taabnaak hue
دنیا کے مایا جال سے آگے نکل گئے جو ہجر اور وصال سے آگے نکل گئے سوچا تجھے ہے اتنا کے اس بے خودی میں ہم اکثر ترے خیال سے آگے نکل گئے مدت کے بعد پھر کوئی اچھا لگا ہمیں یعنی کے ہم ملال سے آگے نکل گئے رشتے کا اک جواب پہ دار و مدار تھا اور وہ اسی سوال سے آگے نکل گئے اس اجنبی سے پہلی ملاقات میں ہی ہم کب جانے بول چال سے آگے نکل گئے دیکھا اسے جو سامنے آنکھیں برس پڑیں جذبات میرے حال سے آگے نکل گئے محرومیوں میں جینا بھی خود میں کمال ہے دیوانے اس کمال سے آگے نکل گئے
duniyaa ke maayaa-jaal se aage nikal gae
جتنے ضروری کام ہیں وہ کل پہ ٹال کر بیٹھے ہیں ان کے سامنے دل کو سنبھال کر اس کو بھی مشکلوں کا کوئی ڈر نہیں ہے اور کرتا ہوں میں بھی فیصلہ سکہ اچھال کر تعبیر خواب ہو نہ سکا خواب ہی تو تھا اب بھول جا اب اور نہ اس کا ملال کر میں خوش نہیں ہوں تجھ سے بچھڑ کر مرے حبیب تو خوش ہے ایک بار یہ خود سے سوال کر اب مجھ میں اور لڑنے کی ہمت نہیں رہی اے زندگی اب اور نہ مجھ کو نڈھال کر نیرجؔ انا تو ٹھیک مراسم نہ ترک ہو جو کچھ ہوا وہ بھول کے رشتہ بحال کر
jitne zaruri kaam hain vo kal pe Taal kar
جن کی باتوں میں کوئی خم نہ ملے خوب ڈھونڈھا خدا قسم نہ ملے ان سے مل کر تو آ گئے لیکن بعد ملنے کے ہم کو ہم نہ ملے کون تا عمر خوش رہا ہے یہاں کون ایسا ہے جس کو غم نہ ملے میں کہیں ہوش ہی نہ کھو بیٹھوں اس سے کہنا کہ ایک دم نہ ملے ہم کہیں پیچھے رہ گئے خود سے وقت کے ساتھ یہ قدم نہ ملے عمر کم ہے تو کیا ہوا کہ ہمیں تجربے زندگی سے کم نہ ملے تب سمجھنا کہ کامیاب ہو تم اگر اپنوں کی آنکھ نم نہ ملے بس یہی ہے دعا خدا ہم کو جو ضرورت ہے اس سے کم نہ ملے
jin ki baaton mein koi kham na mile
ہر شخص یوں تو بزم میں عزت مآب تھا لیکن ہر ایک چہرے پہ اک اضطراب تھا یہ تھا سوال کون نبھائے گا عمر بھر وہ تھا خموش اور میں بھی لاجواب تھا نا کامیاب تھے سو رہے دور تجھ سے ہم جو بھی ترے قریب تھا وہ کامیاب تھا آخر یہ راز کھل گیا سچ کیا ہے جھوٹ کیا سچائی اس کے چہرے پہ بس اک نقاب تھا ہاں مجھ کو اس سے پیار ہے اور بے حساب ہے ہاں اس کو مجھ سے پیار تھا اور بے حساب تھا اکتا گئے ہو دنیا سے تم چند روز میں نیرجؔ تمہارا دنیا بدلنے کا خواب تھا
har shakhs yuun to bazm mein 'izzat-maaab thaa
خار ہی خار ہیں گلاب نہیں اس کے تحفے کا بھی جواب نہیں چاند ہو تم میں اک چراغ سہی پر میں سورج سے فیضیاب نہیں نیند ٹوٹے گی جان جاؤ گے میں حقیقت ہوں کوئی خواب نہیں سب کو اوقات کے سوا بخشا رحمتوں کا تری حساب نہیں جو بھی مانگا ملا ہمیں لیکن اک وہی ہے جو دستیاب نہیں حسن سج کر بہت نکھرتا ہے سادگی کا مگر جواب نہیں عشق کی قید سے نکلنے کو کوئی ترکیب کامیاب نہیں ایسی تقدیر بھی نہ ہو نیرجؔ شام ہجراں ہے اور شراب نہیں
khaar hi khaar hain gulaab nahin





