SHAWORDS
Nigar Azeem

Nigar Azeem

Nigar Azeem

Nigar Azeem

poet
10Ghazal

Ghazalغزل

See all 10
غزل · Ghazal

پہلی سی چاہتوں کے وہ منظر نہیں رہے عاشق تو بے شمار ہیں دلبر نہیں رہے اس عہد نو میں اور تو سب کچھ ملا مگر شرم و حیا کے قیمتی زیور نہیں رہے یہ پھول یہ چراغ یہ تاروں کا قافلہ سب کچھ ہے تیرے خواب کے پیکر نہیں رہ دل کے نگر میں قید ہیں چاہت کی بلبلیں وہ موسم بہار کے منظر نہیں رہے لائی تھی جتنی سیپیاں سب بانجھ ہو گئیں حیران ہوں کسی میں بھی گوہر نہیں رہے میں نے نگارؔ سانسیں بھی کر دیں تھی جن کے نام وہ ایک پل کو بھی مرے ہو کر نہیں رہے

pahli si chaahaton ke vo manzar nahin rahe

غزل · Ghazal

ذات کی سیر پہ نکلوں مری ہمت ہی نہیں اس بیاباں سے گزرنے کی جسارت ہی نہیں زندگی میں نے قناعت کا ہنر سیکھ لیا اب ترے ناز اٹھانے کی ضرورت ہی نہیں کوئی شکوہ نہ شکایت نہ ستم ہے نہ جفا ایک مدت سے تری ہم پہ عنایت ہی نہیں جب بھی ملتے ہیں چمک اٹھتی ہیں آنکھیں ان کی اور دعویٰ ہے انہیں ہم سے محبت ہی نہیں دل تو کیا چیز ہے پتھر بھی پگھل جائے مگر جذبۂ عشق میں تیرے وہ حرارت ہی نہیں اپنے اشکوں سے بنا دیتے بیاباں کو چمن کیا کریں ہم کو تو رونے کی اجازت ہی نہیں معتبر بھی وہی ارباب نظر میں ٹھہری جس کہانی میں کوئی حرف صداقت ہی نہیں اس کی یاد آئی ہے مت چھیڑ مجھے باد صبا تجھ سے پھر بات کروں گی ابھی فرصت ہی نہیں گلشن دل پہ خزاؤں کا تسلط ہے نگارؔ کوئی خواہش کوئی ارماں کوئی چاہت ہی نہیں

zaat ki sair pe niklun miri himmat hi nahin

غزل · Ghazal

تمام عمر کٹی دل کا چاک سینے میں ہزار بار مرے اک حیات جینے میں ترا خیال کچھ ایسے نہاں ہے دل میں مرے کہ جیسے رنگ سمائے کسی نگینے میں قدم قدم پہ بہاریں پکارتی ہیں مجھے میں شاد رہتی ہوں زہراب غم کا پینے میں یہ کس فضا کا تعارف ہوائیں دیتی ہیں کہ سارا باغ شرابور ہے پسینے میں

tamaam 'umr kaTi dil kaa chaak siine mein

غزل · Ghazal

صرف خاکہ ابھر رہا ہے ابھی کوئی چہرہ کہاں بنا ہے ابھی ریزہ ریزہ بکھرتی آنکھوں میں گھر کا سپنا بسا ہوا ہے ابھی کیسے کہہ دوں بدل گیا موسم زخم دل میں سجا ہوا ہے ابھی کن رتوں کا حساب دوں اس کو سبز موسم کہاں ملا ہے ابھی رات آدھی گزر چکی ہے مگر اک دریچہ کھلا ہوا ہے ابھی شمعیں سب بجھ گئیں خموش ہے رات اور دل ہے کہ جاگتا ہے ابھی کیا ملیں تجھ سے تو نے خود کو نگارؔ معتبر ہی کہاں کیا ہے ابھی

sirf khaaka ubhar rahaa hai abhi

غزل · Ghazal

محرومیٔ نظر نے دلاسے دئے بہت یوں ہم نے آندھیوں میں جلائے دیے بہت وہ سلسلے وفاؤں کے سب رائیگاں گئے اس نے مجھے بساط کے طعنے دئے بہت دیدہ وری پہ اپنی بہت تھا گماں تمہیں دیدہ وری نے ہی تمہیں دھوکے دئے بہت اللہ میری سادگی خود میں نے ہی اسے غیروں سے رسم و راہ کے موقعے دئے بہت غم مستقل مزاج تھا ٹس سے نہ مس ہوا میں نے اسے فرار کے رستے دئے بہت شعلہ فشاں نہ کیوں مرا لہجہ ہو اے نگارؔ دنیا نے ہر قدم پہ شرارے دئے بہت

mahrumi-e-nazar ne dilaase diye bahut

غزل · Ghazal

تقدیر کے خطوط میں الجھی ہوئی ہوں میں خود اپنے واسطے ہی پہیلی ہوئی ہوں میں یہ رنگ روپ پہلے تو ایسا نہ تھا مرا اس زندگی کی دھوپ سے میلی ہوئی ہوں میں کر تو دیا ہے اس نے مجھے دل بدر مگر کاجل سی اس کی آنکھ میں پھیلی ہوئی ہوں میں کس کی گلی کا جھونکا مجھے آ کے چھو گیا اس موسم خزاں میں بھی مہکی ہوئی ہوں میں اس کی نظر میں کتنی تمازت تھی اے نگارؔ مدت ہوئی پر آج بھی پگھلی ہوئی ہوں میں

taqdir ke khutut mein uljhi hui huun main

Similar Poets