
Nihal Rizvi
Nihal Rizvi
Nihal Rizvi
Ghazalغزل
جو اب جواں ہے وہ عزم جواں رہے نہ رہے بہار آئے نہ آئے خزاں رہے نہ رہے پتہ نہیں کہ سمندر میں بعد طوفاں بھی سفینہ ہو کے نہ ہو بادباں رہے نہ رہے قدم قدم پہ اگی رنجشوں کے عالم میں جوار یار در دوستاں رہے نہ رہے گھر اپنا بھر لو ابھی خیر ہے اجالوں سے جب آندھیاں ہوں دیا ضو فشاں رہے نہ رہے ہم انقلاب کا باعث جسے سمجھتے ہیں وہ گرم خون رگوں میں رواں رہے نہ رہے نفس نفس ہے شرابور جس کی نکہت سے وہ گل کھلیں نہ کھلیں گلستاں رہے نہ رہے بھٹک رہے ہیں نشانوں سے تیر اب اس کے کڑی ابھی بھی وہ دیکھو کماں رہے نہ رہے ابھی ابھار لو الفاظ جو دبے ہوں نہالؔ دہن کے ساتھ ہمیشہ زباں رہے نہ رہے
jo ab javaan hai vo azm-e-javaan rahe na rahe
1 views
گھیر کر جرأت انکار تلک لے آئے لوگ ہم کو رسن و دار تلک لے آئے ہم کو ان پر ہی بھروسہ تھا جو اکثر ہم کو دے کے پھولوں کی قسم خار تلک لے آئے دل کے امراض یہ دیکھا ہے کہ درماں کے لئے ایک بیمار کو بیمار تلک لے آئے روک پائی نہ زباں بھی مری الفاظ مرے ولولے قوت اظہار تلک لے آئے آسماں ہم نے بنائے تھے جو اپنی خاطر ہم جہاں کو اسی معیار تلک لے آئے رہ گیا مل کے سمندر کف افسوس اور ہم ناؤ اس پار سے اس پار تلک لے آئے تھا ہمیں شوق اسیری نہ سمجھنا یہ نہالؔ لو کے جھونکے در و دیوار تلک لے آئے
gher kar jurat-e-inkaar talak le aae
دھوپ کیوں کر نہ ہو عتاب زدہ سایہ سایہ ہے آفتاب زدہ نیند آنا وہاں برا کیوں ہے جاگنا بھی جہاں ہو خواب زدہ ہے تبھی سے ہجوم ساحل پر جب سے طوفاں ہوئے حباب زدہ بحر کی کیفیت خدا کی پناہ قطرہ قطرہ ہے سیل آب زدہ لے کے رونے سے مسکرانے تک کیا نہیں آج اضطراب زدہ کیسے آخر شناخت کرتے ہم دوست دشمن تھے سب نقاب زدہ بے مزہ امتحان زیست ہوا ہر سوال آ گیا جواب زدہ کھل کے ملتے نہالؔ کیا جس کی بے حجابی بھی تھی حجاب زدہ
dhuup kyunkar na ho itaab-zada
مجھ کو شاہی نہیں توفیق فقیرانہ دے رکھ مجھے بزم میں چاہے مجھے ویرانہ دے بھر دے بھرنا ہے اگر عشق کا سودا سر میں مجھ کو دینا ہے اگر جرأت رندانہ دے آخرش حد بھی ہے ایثار کی کوئی کہ نہیں شمع پر جان کہاں تک کوئی پروانہ دے میں حقیقت کی تہیں کھول کے رکھ سکتا ہوں مجھ کو ترتیب تو دینے کوئی افسانہ دے یہ نہ اٹھیں گے کبھی سطح سے اپنی اوپر ان خرد والوں کو شہہ کتنی بھی دیوانہ دے عدل و انصاف روا تاکہ دوبارہ ہو جائیں فیصلہ کرنے نہ منصف کو بھی من مانا دے تو جو چاہے تو بدل جائے جہاں کی تصویر انہیں شاہوں کو جو احساس فقیہانہ دے کس کو اپنا کہیں اور غیر کہیں کس کو نہالؔ دے نہ اپنا کوئی کچھ اور نہ بیگانہ دے
mujh ko shaahi nahin taufiq-e-faqiraana de
کوئی شعلہ ہے کہ شبنم نہیں دیکھا جاتا جادۂ عشق پہ موسم نہیں دیکھا جاتا آنا ہوتا ہے تو آ جاتا ہے طوفان ضرور خشک ساحل ہے کہ ہے نم نہیں دیکھا جاتا دیکھا جاتا ہے کہ کون آ گیا منزل پہلے راہ میں کس نے لیا دم نہیں دیکھا جاتا دیکھا جاتا ہے دیے کس نے جلائے کتنے صرف ظلمات کا ماتم نہیں دیکھا جاتا حال بھی صاف نظر آئے ضروری ہے نہالؔ صرف ماضی ہی کا البم نہیں دیکھا جاتا
koi shoala hai ki shabnam nahin dekhaa jaataa
حصار جسم سے آزاد ہونے والا ہوں کسی کو پا کے کسی شے کو کھونے والا ہوں جو مٹ گئے ہیں وہ اقدار جمع کرنے ہیں بکھر گئے ہیں جو موتی پرونے والا ہوں ہے قحط آب کا منظر تو چار سو لیکن میں اپنی چشم حقیقت بھگونے والا ہوں میں اپنے درد کے طوفاں دبائے سینے میں ہنسا چکا ہوں زمانے کو رونے والا ہوں یہ جانتا ہوں پھر اک بار کوئی کاٹے گا وفا کی فصل پھر اک بار بونے والا ہوں یہ جان کر بھی ندی پر نظر ٹکائے ہوں سراب بن کے سرابوں میں کھونے والا ہوں ہزار دن میں میں سورج بنا پھروں پھر بھی سیاہ رات کے مقتل میں کھونے والا ہوں تھپک تھپک کے سلاتے ہیں اس لئے ہی نہالؔ کہ خواب جان گئے ہیں میں سونے والا ہوں
hisaar-e-jism se aazaad hone vaalaa huun





