SHAWORDS
Nilofar Noor

Nilofar Noor

Nilofar Noor

Nilofar Noor

poet
12Ghazal

Ghazalغزل

See all 12
غزل · Ghazal

نظروں سے نوچ ڈالی سب نے قبا گلوں کی لاشیں پڑی ہوئی گلشن میں پتیوں کی رسی پہ چل رہی ہے ننھی سی ایک گڑیا مجبوریاں ہیں شاید درپیش روٹیوں کی ہر کوئی چاہتا ہے گھر گھر میں چاند اترے چاہت نہیں کسی کو آنگن میں تتلیوں کی عالم پناہ کا اب فرمان آ گیا ہے آواز تک نہ آئے محلوں میں مفلسوں کی لہجے کو اور کتنا نازک بنا کے بولیں گنتی کریں کہاں تک ماتھے کی سلوٹوں کی تم نورؔ کو نہ سمجھے تم نورؔ کو نہ جانے شیدا ہے آندھیوں کی شوقین بجلیوں کی

nazron se noch Daali sab ne qabaa gulon ki

غزل · Ghazal

ہر دم روٹھے رہتے ہو تم بھی قسمت جیسے ہو ہنس کر بولی زندہ ہوں جب جب پوچھا کیسے ہو تم نے مجھ کو یاد کیا سچ مچ کتنے جھوٹے ہو دونوں کا دل ٹوٹ گیا اب کیوں جھگڑا کرتے ہو کیا وہ مجھ سے اچھی ہے جس کی خاطر بدلے ہو میں بھی خوش ہوں تم بھی خوش میں جھوٹی تم جھوٹے ہو جیسا دنیا کہتی ہے اچھا تو تم ویسے ہو

har dam ruThe rahte ho

غزل · Ghazal

کس حال میں رہتی ہوں کسی طور سے سن لے للہ کسی اور کسی اور سے سن لے پتھر کے بھی کانوں سے لہو بہنے لگے گا روداد غم عشق اگر غور سے سن لے اک بار نہیں ایسا کئی بار ہوا ہے دھیمے سے اگر نام لوں وہ زور سے سن لے جو دل پہ گزرتی ہے کسی سے نہ کہوں گی سننا ہے جسے جائے وہ چت چور سے سن لے لگتی ہیں بری آج تجھے نور کی باتیں اچھا تو نہ بولوں گی کبھی غور سے سن لے

kis haal mein rahti huun kisi taur se sun le

غزل · Ghazal

عین ممکن ہے مری بات ذرا سی نکلے کوئی تصویر مرے دل سے تمہاری نکلے آج آنگن میں ترے ہجر کا سورج نکلا آج ممکن ہے مرے زخم سے کرچی نکلے اس نے اس شرط پہ رونے کی اجازت دی ہے آہ نکلے نہ لبوں سے کوئی سسکی نکلے جاں کنی وہ کہ فرشتے بھی پناہیں مانگے آپ آئیں تو مری آخری ہچکی نکلے ایسے نکلا ہے مرے بخت کا تارا دیکھو ہاتھ سے ٹوٹ کے بیوہ کے جیوں چوڑی نکلے کوئی آئے مرے جینے کا سہارا بن کر شاخ سے پھوٹ کے کونپل کوئی ایسی نکلے آج پھر دل میں ترے دید کی حسرت جاگی کاش پھر کام کوئی تجھ سے ضروری نکلے

ain mumkin hai miri baat zaraa si nikle

غزل · Ghazal

جس طرح ہاتھ کی چوڑی کا کھنکنا طے ہے ٹھیک ویسے ہی مرے دل کا دھڑکنا طے ہے لوٹ آئے ہیں تجھے غیر کی قسمت کر کے آج کی رات تو آنکھوں کا چھلکنا طے ہے کیفیت دل کی اگر تو نے دکھائی مجھ کو آئنے پھر تو مرا تجھ پہ بھڑکنا طے ہے میں نے الفاظ نہیں درد پرو رکھے ہیں یہ غزل سن کے مری جان سسکنا طے ہے بے حسی نے تو بنا ڈالا تھا پتھر مجھ کو اس تبسم سے تو آنچل کا ڈھلکنا طے ہے کچھ خبر بھی ہے تجھے دل کو جلانے والے زخم کھلتے ہیں تو پھر ان کا مہکنا طے ہے

jis tarah haath ki chuDi kaa khanaknaa tai hai

غزل · Ghazal

محبتوں میں حساب ہوگا یہ طے کہاں تھا ہر ایک لمحہ عذاب ہوگا یہ طے کہاں تھا یہ طے ہوا تھا وفا کی شمع جلا کرے گی اندھیرا ہم پہ عتاب ہوگا یہ طے کہاں تھا خزاں نہ آئے گی زندگی میں کبھی ہماری اداس بیلا گلاب ہوگا یہ طے کہاں تھا ہماری نظریں سوال بن کر اٹھا کریں گی سکوت لب پر جواب ہوگا یہ طے کہاں تھا یقیں دلایا تھا ساتھ مل کر رہا کرو گے کہ بیچ اپنے چناب ہوگا یہ طے کہاں تھا عذاب ہوں گی پلک جھپکنے تلک کی دوری وصال اپنا بھی خواب ہوگا یہ طے کہاں تھا یہ پھول بن کر مہک اٹھیں گے خیال میرے مزاج اتنا خراب ہوگا یہ طے کہاں تھا مجھے پکاریں گے تو کہیں گے خوشی ملے گی کہ نام اپنا جناب ہوگا یہ طے کہاں تھا

mohabbaton mein hisaab hogaa ye tai kahaan thaa

Similar Poets