
Nirmal Nadeem
Nirmal Nadeem
Nirmal Nadeem
Ghazalغزل
kaabe se ranj hai na adaavat kunisht se
کعبے سے رنج ہے نہ عداوت کنشت سے دل یہ بہل نہ پائے گا اپنا بہشت سے اس آرزو میں ایک ہی پل کو سکوں ملے ہم دل بدل رہے ہیں ترے سنگ و خشت سے اک تم ہی تھے نہ جس کو کبھی راس آ سکی دنیا یہ چل رہی ہے مری سرگزشت سے راہ وفا میں اب کیا لٹاؤ گے سوچ لو داخل تو ہو گئے ہو دل و جاں کی کشت سے جس سے عذاب عشق کی طاقت میں ہو کمی منہ ہم نہیں لگاتے کبھی اس پلشت سے دل ہے کے رقص کرتا ہے زنجیر باندھ کر لگ کر کہیں نہ بیٹھا ہو یہ اہل چشت سے ہر گوشہ ہے سکون کے آب بقا سے تر باہر نکل کے دیکھ ذرا خوب و زشت سے بڑھ کر جنوں نے کر ہی دیا آسماں بلند تعلیم لے رہا تھا وہ میری سرشت سے ٹھہرو ندیمؔ سانس تو لینے دو ضعف میں گھبرا رہا ہے عشق مرے سرنوشت سے
bazm-e-khubaan se uThe daar-o-rasan tak pahunche
بزم خوباں سے اٹھے دار و رسن تک پہنچے آپ ہی آپ مرے پاؤں گگن تک پہنچے ایک میں ہی تھا جو صیاد کی جھولی میں گرا اڑ گئے سارے پرندے جو چمن تک پہنچے صرف دل ہی کو جلانا تو کوئی بات نہیں عشق اک آگ اگر ہے تو بدن تک پہنچے بندشوں ہی کی نمائش ہے حیات آدم ایک دھاگے سے بندھے اور کفن تک پہنچے عمر کمتر ہی سے کوشش تھی مسلسل جاری شعر اپنا بھی کوئی طرز سخن تک پہنچے آخری ایک یہ خواہش ہے مرے سینے میں خاک جب میری اڑے اپنے وطن تک پہنچے شرم کا پھول میں آنکھوں سے تیری چن لوں گا اس سے پہلے کہ جھڑے اور دہن تک پہنچے آسمانوں کو دبا لے گا وہ پیروں کے تلے شوق انسان کا گر اس کی لگن تک پہنچے کیا ضرورت کہ کریں چل کے طواف دنیا فکر اپنی یہ اگر گنگ و جمن تک پہنچے سوچ لینا تھا تجھے اتنا کہ کیا ہوگا ندیمؔ آج کا شعر اگر تیرے سجن تک پہنچے
nibhaayaa ishq ne rishta jo pyaas paani kaa
نبھایا عشق نے رشتہ جو پیاس پانی کا اڑا کے لے گیا ہوش و حواس پانی کا کٹے شجر کے سسکتے ہوئے سے پتوں پر دکھائی دیتا ہے چہرہ اداس پانی کا شریف لوگوں کی آنکھوں میں آگ رکھ دے گی پہن کے نکلے گی جب وہ لباس پانی کا وہ ایسے دیکھتا رہتا ہے میری آنکھوں میں لگانے بیٹھا ہوں جیسے قیاس پانی کا کنارے ہو کے کھڑے شور سن رہے ہو کیا اتر کے دیکھو تہوں میں ہراس پانی کا تمہیں سنورنے کی سجنے کی کیا ضرورت ہے چمکتا رہتا ہے رخ پر اجاس پانی کا لپٹ گئے ہیں مرے پاؤں سے سبھی افلاک جو میرے ہاتھ میں آیا گلاس پانی کا اسی لئے تو مرا سر بلند رہتا ہے ہمیشہ عزم رہا میرے پاس پانی کا ندیمؔ گھوم کے سارے جہاں میں دیکھ لیا کوئی بچا ہی نہیں اب شناس پانی کا
vafaa ki raah mein dushvaariyaan bahut si hain
وفا کی راہ میں دشواریاں بہت سی ہیں مگر جنوں کی بھی تیاریاں بہت سی ہیں جلال اپنی محبت کا سب سے اونچا ہے بدن میں ایسے تو بیماریاں بہت سی ہیں ہمارے پاس فقط دل کا درد ہے لیکن تمہارے پاس تو عیاریاں بہت سی ہیں ہر ایک شخص کی فکریں جدا جدا ٹھہریں جہان عام میں خودداریاں بہت سی ہیں وفا کی ساری مثالیں گنا تو دوں لیکن وطن میں اپنے بھی غداریاں بہت سی ہیں دلوں میں پلتے ہوئے خواب جانتے ہی نہیں تباہ کرنے کو بے کاریاں بہت سی ہیں کسی نے مجھ سے کہا تھا کہ یار سن تو سہی ادا میں حسن کی مکاریاں بہت سی ہیں سجی ہے بزم محبت یہ جان کس کے لئے یہاں تو لوگوں میں بیزاریاں بہت سی ہیں ندیمؔ کیوں تو تہ اضطراب ڈوب گیا دلوں کے کھیل میں بھی پاریاں بہت سی ہیں
ragon mein meri sharaaron kaa raqs jaari hai
رگوں میں میری شراروں کا رقص جاری ہے جنوں ہے رنج ہے غم ہے کہ بے قراری ہے دل اسیر کے زخموں میں کیا نہیں موجود وفا ہے عشق ہے وحشت ہے جاں نثاری ہے لبوں پہ دشت ہے آنکھوں میں خون کے دھبے سمندروں سے مگر اپنی روبکاری ہے ادائے ناز سے کرتا ہے ظلم وہ مجھ پر اسے نہ خوف خدا ہے نہ شرمساری ہے ہوا میں گھلتی ہوئی خوشبوؤں نے فرمایا گریز تم سے نہیں جگ سے پردہ داری ہے جسے گلے سے لگایا بنا دیا سورج بلندیوں سے کہیں بڑھ کے خاکساری ہے تھرک رہے ہیں منڈیروں پہ مور خواہش کے وہ جب سے آیا ہے دل میں سرور طاری ہے تمہارے چہرے سے بہتا ہے نور کا جھرنا تمہاری زلفوں سے عالم میں آبیاری ہے فلک سے ہوتی ہے نازل دعاؤں کی تنویر عبادتوں سے مرا رنگ آہ و زاری ہے قریب آ کے کبھی دیکھو میری تنہائی اس انتظار کے دامن میں کیا خماری ہے پرندے شاخ سے اک ایک کر کے اڑتے گئے ہمیں بچے ہیں ہماری بھی اب کے باری ہے بدن تو صورت دیوار اشتہار ہوا زباں پہ عشق کے چھالوں کی لالہ کاری ہے ڈھلی ہے شام بجھانے میں آگ سورج کی چراغ درد جلانے میں شب گزاری ہے ہمارے خواب بھٹکتے ہیں دشت و صحرا میں کسے بتائیں کہ کیا آرزو ہماری ہے ندیمؔ دونوں جہاں اس کی دوستی پہ نثار اسی سے رنج اسی سے ہی غم گساری ہے
bhanvar se bach ke vo saahil ke paas Duub gayaa
بھنور سے بچ کے وہ ساحل کے پاس ڈوب گیا جہاں کا دیکھ کے خوف و ہراس ڈوب گیا عجب سے خوف میں لپٹا ہے گاؤں کا پنگھٹ سنا ہے پھر سے کوئی دیوداس ڈوب گیا مجھے شراب ہی اتنی ملی تھی دنیا سے کہ مارے شرم کے میرا گلاس ڈوب گیا گوارہ ہو نہ سکا اس کو بحر کا احسان لبوں پہ لے کے قیامت کی پیاس ڈوب گیا کہوں تو کس سے کہوں اپنے دل کی تکلیفیں مرے ہی غم میں مرا غم شناس ڈوب گیا ہوا جو سامنا سورج کا میرے زخموں سے فلک پہ چھوڑ کے اپنا لباس ڈوب گیا ندیمؔ اپنے غموں سے نکل چکا تھا مگر غم جہان سے ہو کر اداس ڈوب گیا





