ye aur baat ki raste bhi ho gae raushan
diye to ham ne tire vaaste jalaae the

Nisar Rahi
Nisar Rahi
Nisar Rahi
Popular Shayari
1 totalGhazalغزل
فضا میں نغمگی کچھ کم ہوئی ہے ہر اک لب پر ہنسی کچھ کم ہوئی ہے یہ مانا ٹوٹ کر برسے ہیں بادل مگر کیا تشنگی کچھ کم ہوئی ہے اندھیرا جب سے پھیلا ہے دلوں میں مسلسل روشنی کچھ کم ہوئی ہے وہی باتیں وہی چہرا ہے لیکن غزل میں تازگی کچھ کم ہوئی ہے تمہارے دل سے میرے دل کی دوری خیالوں میں سہی کچھ کم ہوئی ہے اسے شدت سے اب بھی چاہتا ہوں مگر دیوانگی کچھ کم ہوئی ہے نثارؔ آواز جب بھی دی ہوا نے گلوں کی بے رخی کچھ کم ہوئی ہے
fazaa mein naghmagi kuchh kam hui hai
لفظ نکلا زبان سے باہر تیر جیسے کمان سے باہر میرے وہم و گمان سے باہر تیری عظمت بیان سے باہر ساری دنیا اسی میں رہتی تھی میں رہا جس مکان سے باہر سب کو منظور کس طرح ہوتا فیصلہ تھا گمان سے باہر ذہن و دل پر حکومتیں جس کی ہو گیا کیسے دھیان سے باہر راستے منتظر ہیں برسوں سے آئے کوئی مکان سے باہر سب سے پہلے وہی بکے ہیں نثارؔ جو پڑے تھے دکان سے باہر
lafz niklaa zabaan se baahar
راہ میں ایک ستارا ہی بہت ہوتا ہے یاد کا اس کی سہارا ہی بہت ہوتا ہے روبرو ملنے کی اس سے کبھی ہمت نہ ہوئی خواب میں اس کا نظارہ ہی بہت ہوتا ہے دل کی گہرائی نگاہوں سے زیادہ ہے مگر ڈوبنا ہو تو کنارا ہی بہت ہوتا ہے بے خبر اتنے بھی موسم سے پرندے کیوں تھے جب ہواؤں کا اشارہ ہی بہت ہوتا ہے ہو گیا عشق سے سونے میں سہاگا ورنہ صرف تقدیر کا مارا ہی بہت ہوتا ہے اعتماد اس نے کہاں مجھ پہ کیا ہے ورنہ ایک تنکے کا سہارا ہی بہت ہوتا ہے انتظار آج بھی کیوں چاند کا کرتے ہو نثارؔ جب اندھیرے میں ستارا ہی بہت ہوتا ہے
raah mein ek sitaaraa hi bahut hotaa hai
دیکھیے تو شجر بھی لگتا ہے چھونا چاہیں تو ڈر بھی لگتا ہے تیری یادیں بھی ساتھ رہتی ہیں اور تنہا سفر بھی لگتا ہے موسموں کا قصور ہے ورنہ شاخ پر تو ثمر بھی لگتا ہے کوئی آہٹ کوئی نشان نہیں کیوں تمہارا گزر بھی لگتا ہے ان کے آنے سے یہ ہوا معلوم اک پیمبر بشر بھی لگتا ہے اپنے الفاظ کو تراش نثارؔ بات کرنا ہنر بھی لگتا ہے
dekhiye to shajar bhi lagtaa hai
تمہیں دامن بھگونا چاہئے تھا کبھی تو کھل کے رونا چاہئے تھا نگاہوں میں بھرے ہیں خواب کتنے کوئی منظر بھی ہونا چاہئے تھا تمہیں لڑیوں میں یارو آنسوؤں کی خیالوں کو پرونا چاہئے تھا جو دل میں ہے اسے پانی کی خواہش تو پہلے خود کو کھونا چاہئے تھا بچایا ہے اگر اس نے بھنور میں کنارے پر ڈبونا چاہئے تھا زمین دل پہ جب اتنی ہے بارش تمہیں بھی خواب بونا چاہئے تھا نثارؔ اپنی حقیقت صرف مٹی مگر اس کو تو سونا چاہئے تھا
tumhein daaman bhigonaa chaahiye thaa





