SHAWORDS
N

Nudrat Kanpuri

Nudrat Kanpuri

Nudrat Kanpuri

poet
1Sher
1Shayari
6Ghazal

Sherشعر

Popular Sher & Shayari

2 total

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

mohabbat kaa zamaanaa yaad aayaa

محبت کا زمانا یاد آیا مجھے اپنا فسانا یاد آیا جبیں کی شورشیں اللہ اکبر پھر ان کا آستانہ یاد آیا وہ روداد الم پھر یاد آئی ترا آنسو بہانا یاد آیا اسیروں کو قفس کی زندگی میں نشیمن کا زمانا یاد آیہ لب گل کا تبسم کچھ نہ پوچھو تمہارا مسکرانا یاد آیا وہ عالم اپنی ازخود رفتگی کا وہ ان کا پاس آنہ یاد آیا گلے شکوے کہاں تک ان سے ندرتؔ یہ کب کا دوستانہ یاد آیا

غزل · Ghazal

mukhtalif tariqon se ranj umr bhar paayaa

مختلف طریقوں سے رنج عمر بھر پایا زندگی تو کیا پائی ہم نے درد سر پایا دوست سے توقع تھی کچھ کرم نمائی کی میں طویل شکوے کو مختصر نہ کر پایا واقعہ سہی لیکن جرم ہے یہ کہنا بھی میں نے اپنے عالم سے ان کو بے خبر پایا بوالہوس میں اور مجھ میں فرق کچھ بتاؤ تو کس کو دوربیں پایا کس کو کم نظر پایا اس جہان رنگیں سے مطمئن نہیں کوئی میں نے اہل دنیا کو عازم سفر پایا دل میں ان کی آمد سے نور کی کرن پھوٹی رات کے اندھیرے نے جلوۂ سحر پایا کاش ابھی حیات اپنی اور کچھ وفا کرتی میں ترے تغافل کا شکر ادا نہ کر پایا ہم نے کیا ترقی کی کسب علم و فن کر کے باوجود کوشش بھی خود کو بے ہنر پایا اب تو حادثے دل کے یاد بھی نہیں ندرتؔ کس مقام پر کھویا کس مقام پر پایا

غزل · Ghazal

gham-e-hayaat ko naa-khush-gavaar kar na sakaa

غم حیات کو ناخوش گوار کر نہ سکا مرا ضمیر مجھے شرمسار کر نہ سکا خرد کو نذر فریب بہار کر نہ سکا جنوں کی عام روش اختیار کر نہ سکا نہ پوچھ غم کی نزاکت عجیب راز ہے یہ کہ میں نگاہ سے بھی آشکار کر نہ سکا قلیل وقفۂ ہستی نے کر دیا مجبور بقدر ذوق ترا انتظار کر نہ سکا

غزل · Ghazal

ravaa nahin hai agar ye to naaravaa bhi nahin

روا نہیں ہے اگر یہ تو ناروا بھی نہیں کہ عرض شوق سے توہین مدعا بھی نہیں جنوں کو عشق کی معراج جاننے والے یہ انتہا تو محبت کی ابتدا بھی نہیں کہاں یہ تھا کہ ترے مرکزنظر تھے ہمیں کہاں یہ ہے کہ سزاوار اعتنا بھی نہیں کرم نہ تھا تو ترستے تھے ہم جفا کے لیے کرم ہوا تو مظالم کی انتہا بھی نہیں تو ہی بتا کہ ترے در سے اٹھ کے جائیں کہاں ترے سوا تو ہمیں کوئی آسرا بھی نہیں

غزل · Ghazal

bayaan-e-dard ko kis husn se tamaam kiyaa

بیان درد کو کس حسن سے تمام کیا مری زباں سے زیادہ نظر نے کام کیا اس آستاں پہ بشر کیا ملائکہ ہیں نثار مری جبیں نے جسے سجدہ گاہ عام کیا تلاش دوست اک امر محال تھا لیکن یہ واقعہ ہے کہ ذوق عمل نے کام کیا انہیں دلا کے تغافل شعاریوں کی قسم اک آہ سرد بھری اور گلہ تمام کیا

غزل · Ghazal

sukun ki mauj uThi shor-o-shar ravaana huaa

سکوں کی موج اٹھی شور و شر روانہ ہوا مرا ورود حریفوں کو تازیانہ ہوا بہ پاس وضع مرا مسلک وفا ہے وہی اگرچہ آپ کو بدلے ہوئے زمانہ ہوا خوشا وہ سر کہ جھکا جو حد تعین میں زہے وہ سجدہ کہ جو صرف آستانہ ہوا ستم کیا جو بہ منشائے دشمنی تو نے مری طرف سے جواب اس کا مخلصانہ ہوا غم حیات کی دیرینہ سرگزشت نہ پوچھ تری نگاہ کو بدلے ہوئے زمانہ ہوا وہ ان سے پائے گا داد کلام اے ندرتؔ مذاق جس کی طبیعت کا عاشقانہ ہوا

Similar Poets