SHAWORDS
N

Nusrat Ateeq Gorakhpur

Nusrat Ateeq Gorakhpur

Nusrat Ateeq Gorakhpur

poet
8Ghazal

Ghazalغزل

See all 8
غزل · Ghazal

شام کو گھر لوٹ کے جی بھر کے پچھتاتے رہے کل کے چکر میں ہم اپنے آج سے جاتے رہے زندگی کا اور کوئی پہلو نظر آیا نہیں کچھ نیا کرنے کی دھن میں خود کو دہراتے رہے جو جہاں جیسے تھا وہ ویسے کا ویسا ہی رہا میرے جیسے سیکڑوں آتے رہے جاتے رہے درد کچھ اتنا زیادہ تھا کے ساری زندگی درد ہی لکھتے رہے اور درد ہی گاتے رہے یہ مسیحا ہیں نہیں یہ سب کے سب جراح ہیں آپ کن لوگوں کو اپنے زخم دکھلاتے رہے اس نے پتھر ہی چلائے ہم پہ نصرتؔ رات دن جس کی راہوں میں صدا ہم پھول برساتے رہے

shaam ko ghar lauT ke ji bhar ke pachhtaate rahe

غزل · Ghazal

ہم تمہیں بد دعا نہیں دیں گے اتنی لمبی سزا نہیں دیں گے غم کو محسوس کیجیے صاحب غم تو ایسے مزہ نہیں دیں گے اپنی بد صورتی کرو محسوس ہم تمہیں آئنہ نہیں دیں گے یہ مرض ٹھیک ہی نہیں ہوگا آپ جب تک دوا نہیں دیں گے تم کو کر دیں گے بس سپرد خدا ہم کوئی فیصلہ نہیں دیں گے خود ہی خوش ہوئیے وفا کر کے لوگ داد وفا نہیں دیں گے چین ان کو نہ آئے گا جب تک اپنے احساں گنا نہیں دیں گے اپنی بے لوث چاہتوں کا کبھی ہم تمہیں واسطہ نہیں دیں گے تم مرے دوست رہ چکے ہو کبھی اتنی جلدی بھلا نہیں دیں گے دل جو ماں باپ کا دکھایا تو دل سے وہ بھی دعا نہیں دیں گے ہم مبلغ ہیں عشق کے نصرتؔ نفرتوں کو ہوا نہیں دیں گے

ham tumhein badduaa nahin deinge

غزل · Ghazal

آزمائش کے سمندر سے گزرنا بھی تو ہے اپنے خوابوں میں نئے رنگوں کو بھرنا بھی تو ہے تم نے جینے کے لئے آسائشیں سب کر تو لیں تم یہ شاید بھول بیٹھے ہو کہ مرنا بھی تو ہے پھول کی چاہت میں تم کو ہوش اتنا بھی نہیں ان کو پانا ہے تو کانٹوں سے گزرنا بھی تو ہے تم کسی سے ٹوٹ کر ملتے نہیں ہو ہاں مگر ایک صدقہ مسکرا کر بات کرنا بھی تو ہے جانتی ہوں عہد حاضر ہے پراگندہ بہت پر اسی ماحول میں مجھ کو نکھرنا بھی تو ہے نشۂ عظمت میں تم کو یاد اتنا بھی نہیں ایک دن شہرت کے زینے سے اترنا بھی تو ہے تم نے کانٹے بو دئے راہوں میں سوچا تک نہیں کتنے لوگوں کو اسی رہ سے گزرنا بھی تو ہے زندگی کی یہ جو اک ترتیب ہے نصرتؔ یہاں ان عناصر کو بہر صورت بکھرنا بھی تو ہے

aazmaaish ke samundar se guzarnaa bhi to hai

غزل · Ghazal

نہ کوئی خواہش نہ کوئی حسرت نہ کوئی رنج و ملال مجھ کو رلا رہا ہے کئی دنوں سے نہ جانے کس کا خیال مجھ کو یہ کس نے نیندیں چرائیں میری یہ کس نے میرا سکون چھینا یہ کون ہے جو کہ کر رہا ہے ذرا ذرا پائمال مجھ کو مرے تصور کی چاندنی میں تمہارا چہرہ چمک رہا ہے نہ گل کا چرچا کرے کوئی اب نہ چاند کی دے مثال مجھ کو مرا تجھے گر خیال ہے کچھ مرے دکھوں کا ملال ہے کچھ بکھر نہ جاؤں میں ٹوٹ کر کے خدارا آ کے سنبھال مجھ کو ابھر رہی ہوں غموں سے نصرتؔ ملی ہے ایسی مجھے مسرت کوئی بتا دے یہ حاسدوں سے ابھی نہیں ہے زوال مجھ کو

na koi khvaahish na koi hasrat na koi ranj-o-malaal mujh ko

غزل · Ghazal

دل کھول کر ہنسیں نہ تو آنسو بہائیں لوگ چیخوں کو پھر بتاؤ کہ کیسے دبائیں لوگ رہنا پڑے گا ایسے ہی تا زندگی ہمیں جو دن گزر گئے ہیں انہیں بھول جائیں لوگ لاشوں کے اس ہجوم میں اک فکر یہ بھی ہے کس کو اتاریں قبر میں کس کو جلائیں لوگ پہلے تو دل سے دل کو ملانے کی بات تھی اب حکم یہ ہوا ہے کہ دوری بنائیں لوگ آثار زندگی ہی نہیں زندگی میں کچھ جب دل ہی بجھ گیا ہو تو کیا مسکرائیں لوگ بھولے سے بھی نہ بھولے گا سن دو ہزار بیس جو دل پہ نقش ہو گیا کیسے مٹائیں لوگ تم کو خدا نے دی ہے جو لفظوں کی سلطنت ایسی غزل کہو کے جسے گنگنائیں لوگ رکھتے نہیں ہو رشتہ کسی سے بھی تم مگر امید یہ کہ تم سے ہی رشتہ نبھائیں لوگ دولت سے بھی سکون میسر نہیں ہوا نصرتؔ کا مشورہ ہے کہ نیکی کمائیں لوگ

dil khol kar hansein na to aansu bahaaein log

غزل · Ghazal

اک تماشہ ذات کا اپنی بنا کر دیکھ لو قصۂ غم اپنے لوگوں کو سنا کر دیکھ لو وہ دھواں ہوگا کہ پھر بے موت مر جائیں گے لوگ یہ چراغ عشق ہے اس کو بجھا کر دیکھ لو اک نہ اک دن چیخ بن کر سامنے آ جائیں گی خواہشوں کو آپ بھی اپنی دبا کر دیکھ لو درد کے نغمات دنیا میں کوئی سنتا نہیں تم کو خواہش ہے سنانے کی سنا کر دیکھ لو ساری دنیا کے حسیں منظر نظر میں آئیں گے تم کبھی بزم محبت میں تو جا کر دیکھ لو کوششیں جتنی کرو تم بھول جانے کی مگر بھولنا آسان ہے کیا آزما کر دیکھ لو نقش اول ہوں کوئی حرف غلط تو ہوں نہیں تم مٹانا چاہتے ہو تو مٹا کر دیکھ لو دوست دشمن سب نظر آ جائیں گے نصرتؔ تمہیں وہ جو دل میں ہے اسے ہونٹوں پے لا کر دیکھ لو

ik tamaasha zaat kaa apni banaa kar dekh lo

Similar Poets