
Obaidullah Aleem
Obaidullah Aleem
Obaidullah Aleem
Ghazalغزل
ہنسو تو رنگ ہوں چہرے کا رؤو تو چشم نم میں ہوں تم مجھ کو محسوس کرو تو ہر موسم میں ہوں چاہا تھا جسے وہ مل بھی گیا پر خواب بھرے ہیں آنکھوں میں اے میرے لہو کی لہر بتا اب کون سے میں عالم میں ہوں لوگ محبت کرنے والے دیکھیں گے تصویر اپنی ایک شعاع آوارہ ہوں آئینۂ شبنم میں ہوں اس لمحے تو گردش خوں نے میری یہ محسوس کیا جیسے سر پہ زمیں اٹھائے اک رقص پیہم میں ہوں یار مرا زنجیریں پہنے آیا ہے بازاروں میں میں کہ تماشا دیکھنے والے لوگوں کے ماتم میں ہوں جو لکھے وہ خواب مرے اب آنکھوں آنکھوں زندہ ہیں جو اب تک نہیں لکھ پایا میں ان خوابوں کے غم میں ہوں
hanso to rang huun chehre kaa rovo to chashm-e-nam mein huun
صاحب مہر و وفا ارض و سما کیوں چپ ہے ہم پہ تو وقت کے پہرے ہیں خدا کیوں چپ ہے بے سبب غم میں سلگنا مری عادت ہی سہی ساز خاموش ہے کیوں شعلہ نوا کیوں چپ ہے پھول تو سہم گئے دست کرم سے دم صبح گنگناتی ہوئی آوارہ صبا کیوں چپ ہے ختم ہوگا نہ کبھی سلسلۂ اہل وفا سوچ اے داور مقتل یہ فضا کیوں چپ ہے مجھ پہ طاری ہے رہ عشق کی آسودہ تھکن تجھ پہ کیا گزری مرے چاند بتا کیوں چپ ہے جاننے والے تو سب جان گئے ہوں گے علیمؔ ایک مدت سے ترا ذہن رسا کیوں چپ ہے
saahib-e-mehr-o-vafaa arz-o-samaa kyuun chup hai
چہرہ ہوا میں اور مری تصویر ہوئے سب میں لفظ ہوا مجھ میں ہی زنجیر ہوئے سب بنیاد بھی میری در و دیوار بھی میرے تعمیر ہوا میں کہ یہ تعمیر ہوئے سب ویسے ہی لکھو گے تو مرا نام بھی ہوگا جو لفظ لکھے وہ مری جاگیر ہوئے سب مرتے ہیں مگر موت سے پہلے نہیں مرتے یہ واقعہ ایسا ہے کہ دلگیر ہوئے سب وہ اہل قلم سایۂ رحمت کی طرح تھے ہم اتنے گھٹے اپنی ہی تعزیر ہوئے سب اس لفظ کی مانند جو کھلتا ہی چلا جائے یہ ذات و زماں مجھ سے ہی تحریر ہوئے سب اتنا سخن میرؔ نہیں سہل خدا خیر نقاد بھی اب معتقد میرؔ ہوئے سب
chehra huaa main aur miri tasvir hue sab
یہ اور بات کہ اس عہد کی نظر میں ہوں ابھی میں کیا کہ ابھی منزل سفر میں ہوں ابھی نظر نہیں ایسی کہ دور تک دیکھوں ابھی خبر نہیں مجھ کو کہ کس اثر میں ہوں پگھل رہے ہیں جہاں لوگ شعلۂ جاں سے شریک میں بھی اسی محفل ہنر میں ہوں جو چاہے سجدہ گزارے جو چاہے ٹھکرا دے پڑا ہوا میں زمانے کی رہ گزر میں ہوں جو سایہ ہو تو ڈروں اور دھوپ ہو تو جلوں کہ ایک نخل نمو خاک نوحہ گر میں ہوں کرن کرن کبھی خورشید بن کے نکلوں گا ابھی چراغ کی صورت میں اپنے گھر میں ہوں بچھڑ گئی ہے وہ خوشبو اجڑ گیا ہے وہ رنگ بس اب تو خواب سا کچھ اپنی چشم تر میں ہوں
ye aur baat ki is ahd ki nazar mein huun
پا بہ زنجیر سہی زمزمہ خواں ہیں ہم لوگ محفل وقت تری روح رواں ہیں ہم لوگ دوش پر بار شب غم لئے گل کی مانند کون سمجھے کہ محبت کی زباں ہیں ہم لوگ خوب پایا ہے صلہ تیری پرستاری کا دیکھ اے صبح طرب آج کہاں ہیں ہم لوگ اک متاع دل و جاں پاس تھی سو ہار چکے ہائے یہ وقت کہ اب خود پہ گراں ہیں ہم لوگ نکہت گل کی طرح ناز سے چلنے والو ہم بھی کہتے تھے کہ آسودۂ جاں ہیں ہم لوگ کوئی بتلائے کہ کیسے یہ خبر عام کریں ڈھونڈتی ہے جسے دنیا وہ نشاں ہیں ہم لوگ قسمت شب زدگاں جاگ ہی جائے گی علیمؔ جرس قافلۂ خوش خبراں ہیں ہم لوگ
paa-ba-zanjir sahi zamzama-khvaan hain ham log
کچھ تو بتاؤ شاعر بیدار کیا ہوا کس کی تلاش ہے تمہیں اور کون کھو گیا آنکھوں میں روشنی بھی ہے ویرانیاں بھی ہیں اک چاند ساتھ ساتھ ہے اک چاند گہہ گیا تم ہم سفر ہوئے تو ہوئی زندگی عزیز مجھ میں تو زندگی کا کوئی حوصلہ نہ تھا تم ہی کہو کہ ہو بھی سکے گا مرا علاج اگلی محبتوں کے مرے زخم آشنا جھانکا ہے میں نے خلوت جاں میں نگار جاں کوئی نہیں ہے کوئی نہیں ہے ترے سوا وہ اور تھا کوئی جسے دیکھا ہے بزم میں گر مجھ کو ڈھونڈنا ہے مری خلوتوں میں آ اے میرے خواب آ مری آنکھوں کو رنگ دے اے میری روشنی تو مجھے راستا دکھا اب آ بھی جا کہ صبح سے پہلے ہی بجھ نہ جاؤں اے میرے آفتاب بہت تیز ہے ہوا یارب عطا ہو زخم کوئی شعر آفریں اک عمر ہو گئی کہ مرا دل نہیں دکھا وہ دور آ گیا ہے کہ اب صاحبان درد جو خواب دیکھتے ہیں وہی خواب نارسا دامن بنے تو رنگ ہوا دسترس سے دور موج ہوا ہوئے تو ہے خوشبو گریز پا لکھیں بھی کیا کہ اب کوئی احوال دل نہیں چیخیں بھی کیا کہ اب کوئی سنتا نہیں صدا آنکھوں میں کچھ نہیں ہے بجز خاک رہ گزر سینے میں کچھ نہیں ہے بجز نالہ و نوا پہچان لو ہمیں کہ تمہاری صدا ہیں ہم سن لو کہ پھر نہ آئیں گے ہم سے غزل سرا
kuchh to bataao shaair-e-bedaar kyaa huaa





