"dekhun to jurm aur na dekhun to kufr hai ab kya kahun jamal-e-rukh-e-fitnagar ko main"

Panna Lal Noor
Panna Lal Noor
Panna Lal Noor
Sherشعر
Popular Sher & Shayari
2 totaldekhun to jurm aur na dekhun to kufr hai
ab kyaa kahun jamaal-e-rukh-e-fitnagar ko main
Ghazalغزل
adu ke haath se main jaam le kar pi nahin saktaa
عدو کے ہاتھ سے میں جام لے کر پی نہیں سکتا کسی کم ظرف کا احسان لے کر جی نہیں سکتا کبھی جی چاہتا ہے نام لے کر زور سے چیخوں نہ جانے نام کیوں ظالم کا پھر لے بھی نہیں سکتا مرے دل نے زمانے میں کچھ اتنے زخم کھائے ہیں مسیحا بھی دل صد چاک کو اب سی نہیں سکتا مری تشنہ لبی پر نورؔ یہ بھی طنز ساقی ہے بھرے ہیں ہر طرف جام و سبو اور پی نہیں سکتا
muhtaaj-e-did-o-jalva karun kyuun nazar ko main
محتاج دید و جلوہ کروں کیوں نظر کو میں نظروں میں کھینچ لاتا ہوں جب جلوہ گر کو میں دیکھوں تو جرم اور نہ دیکھوں تو کفر ہے اب کیا کہوں جمال رخ فتنہ گر کو میں ایسا نہیں کہ دل میں مرے زخم ہی نہ ہو آنکھوں میں روک لیتا ہوں خون جگر کو میں دامان صبر چھوٹنے لگتا ہے ہاتھ سے جب دیکھتا ہوں دوریٔ شام و سحر کو میں منزل پہ آ کے آج یہ سمجھا کہ آج تک منزل سمجھ رہا تھا فقط رہ گزر کو میں منزل کی جستجو میں نہ جانے کہاں کہاں سر پر لئے پھرا ہوں غبار سفر کو میں اک قصر آرزو تھا گرا ٹوٹ ٹوٹ کر حسرت سے دیکھتا رہا دیوار و در کو میں ملنے کو نورؔ یوں تو بہت غم یہاں ملے ترسا تمام عمر غم معتبر کو میں
hone ko to khilqat mein tiri honge jahaan aur
ہونے کو تو خلقت میں تری ہوں گے جہاں اور پر تیرا یہ در چھوڑ کے جاؤں میں کہاں اور یہ دیر سے بد ظن وہ گریزاں ہے حرم سے جیسے کہ حقیقت ہو یہاں اور وہاں اور رہ جائے نہ پھر شکوۂ بیداد کا امکاں سینہ جو ہوا چاک تو کٹ جائے زیاں اور ہم کون ہیں کیا ہیں یہ نہیں جانتے خود بھی ہم سا بھی کوئی ہوگا بھلا ہیچ مداں اور تقلید طبیعت کو گوارا نہیں اے نورؔ چلتا ہوں بناتا ہوا خود اپنے نشاں اور
darmaandagi-e-aah-e-shab-gir ko kyaa kahiye
درماندگیٔ آہ شب گیر کو کیا کہئے اک نالۂ بے کس کی تاثیر کو کیا کہئے محرومیٔ قسمت کی کیجے تو شکایت کیا تقدیر تو دشمن ہے تقدیر کو کیا کہئے جس بزم میں الفت کو تقصیر کہا جائے اس بزم کو کیا کہئے تقصیر کو کیا کہئے جو تیر کہ بن جائے اک جزو دل بسمل پیوست رگ جاں ہو اس تیر کو کیا کہئے جو حسن مکمل تھا اس ذہن مصور میں تصویر میں اترا ہے تصویر کو کیا کہئے ہر سانس پہ ٹوٹے ہے اک ایک کڑی پھر بھی ہستی ہے کہ جکڑی ہے زنجیر کو کیا کہئے
yuun guzre chaman se ki gulistaan nahin dekhaa
یوں گزرے چمن سے کہ گلستاں نہیں دیکھا کانٹوں پہ چلے اور بیاباں نہیں دیکھا اس شمع پہ جلنے کو تڑپتے ہیں پتنگے جس شمع کو آنکھوں سے فروزاں نہیں دیکھا رقصاں ہے یہاں نور بکف جلوۂ جاناں کیا تو نے ابھی دیدۂ حیراں نہیں دیکھا ہونے کو تو تھا نورؔ کے دل میں بھی بڑا درد لیکن کبھی چہرے سے نمایاں نہیں دیکھا





