"aisi sardi men shart chadar hai oDhne ki ho ya bichhaune ki"

Paras Mazari
Paras Mazari
Paras Mazari
Sherشعر
Popular Sher & Shayari
2 totalaisi sardi mein shart chaadar hai
oDhne ki ho yaa bichhaune ki
Ghazalغزل
apni pasand chhoD di us ki kharid li
اپنی پسند چھوڑ دی اس کی خرید لی ورثے کا کھیت بیچ کے کوٹھی خرید لی اک عمر اپنے بیٹوں کو انگلی تھمائی پھر بوڑھے نے اک دکان سے لاٹھی خرید لی ویسے تو نرخ کم ہی تھے گندم کے اس برس آئی تھی تیرے گاؤں سے مہنگی خرید لی ہم دوستوں کے پیار میں ہم رنگ ہیں لباس اور لوگ کہہ رہے ہیں کہ وردی خرید لی تصویر اپنی خود ہی مصور کو بھا گئی خود گیلری میں پیش کی خود ہی خرید لی اے ہجر زاد تم کو بھی ہے آرزوئے وصل اے دشت زاد تم نے بھی کشتی خرید لی دراصل مسئلہ تو ہے چلنا گھڑی کے ساتھ اس سے غرض نہیں ہے کہ کیسی خرید لی
pasina maathe se bah rahaa hai na koi silvaT libaas par hai
پسینہ ماتھے سے بہہ رہا ہے نہ کوئی سلوٹ لباس پر ہے عجب تھکن ہے جو کام کرنے سے قبل طاری حواس پر ہے سفید رت میں گلاب ہاتھوں سے سات رنگوں کے خواب چنتی کپاس چننے کو آئی لڑکی کا دھیان تھوڑی کپاس پر ہے سمندروں کے مسافرو کچھ اضافی پانی بھی ساتھ رکھنا کہ اک جزیرہ بڑی ہی مدت سے چند قطروں کی آس پر ہے مری محبت ابلتے الفاظ کی نہ محتاج ہے نہ ہوگی یہ ٹھنڈا پانی گلاس میں ہے مگر پسینہ گلاس پر ہے بدن کا ہر ایک عضو دل کا کیا کرایا بھگت رہا ہے اس اک سٹوڈنٹ کی خطا کا عتاب ساری کلاس پر ہے
tumhaare ghar pe main aa to nahin rahaa mire dost
تمہارے گھر پہ میں آ تو نہیں رہا مرے دوست گھما پھرا کے بتاؤ نہ راستہ مرے دوست ہوا ہو گرم کہ ٹھنڈی پسینہ سوکھتا ہے وہ میرا دوست ہے اچھا ہے یا برا مرے دوست بچھڑتے وقت ضرورت نہیں ہوئی محسوس اور اب نہ رابطہ نمبر نہ رابطہ مرے دوست میں یوں تو ایک محبت کے قائلین میں تھا تجھے ملا تو رہا ہی نہیں گیا مرے دوست ہماری آنکھ میں قوت ہے رنگ چکھنے کی ہماری آنکھ بتاتی ہے ذائقہ مرے دوست پرانے گیت میں شامل کیے ہیں ساز نئے سخن میں اتنا تو حصہ رہا مرا مرے دوست
libaas-e-zist kabhi yuun bhi teraa darshan ho
لباس زیست کبھی یوں بھی تیرا درشن ہو سجی سجائی ہوئی جیسے کوئی دلہن ہو یہ قحط شعر پڑا ہو نہ قحط غم کے سبب چراغ اتنا ہی جلتا ہے جتنا ایندھن ہو یہ میں ہی ہوں جو اداسی نکالتا ہوں تری ہر اک فصیل میں لازم نہیں کہ روزن ہو تو اپنے خواب مری آنکھ سے نہ دیکھا کر برتنے کے لیے بہتر ہے اپنا برتن ہو عجیب جلدی تھی بچپن میں کب بڑے ہوں گے بڑے ہوئے ہیں تو جی چاہتا ہے بچپن ہو کڑی جو ٹوٹی تو ثابت نہیں رہی زنجیر اہم ہے وہ بھلے چھوٹا سا کوئی بندھن ہو
kyaa aziyyat hai mard hone ki
کیا اذیت ہے مرد ہونے کی کوئی بھی جا نہیں ہے رونے کی دائرہ قید کی علامت ہے چاہے انگوٹھی پہنو سونے کی سانس پھونکی گئی بڑا احسان چابی بھر دی گئی کھلونے کی ایسی سردی میں شرط چادر ہے اوڑھنے کی ہو یا بچھونے کی بوجھ جیسا تھا جس کا تھا مجھے کیا مجھے اجرت ملی ہے ڈھونے کی میں جزیرے ڈبونے والا ہوں خو نہیں کشتیاں ڈبونے کی





