SHAWORDS
P

Parkash Nath Parvez

Parkash Nath Parvez

Parkash Nath Parvez

poet
9Ghazal

Ghazalغزل

See all 9
غزل · Ghazal

na ahl-e-dil se na ahl-e-nazar se miltaa hai

نہ اہل دل سے نہ اہل نظر سے ملتا ہے شعور ذات فقط اپنے در سے ملتا ہے تمہارے فیض سے کھلتے ہیں زندگی میں گلاب جنوں کو رنگ تمہاری نظر سے ملتا ہے بکھر رہی ہیں ضیائیں نکھر رہی ہے فضا تمہارا حسن جمال سحر سے ملتا ہے فروغ شوق ہے یا ارتقائے جذب دروں پتا اب اپنا تمہاری خبر سے ملتا ہے وہی ہے حاصل عشرت وہی وقار حیات سکون دل جو غم معتبر سے ملتا ہے کہاں پھر اذن سفر مل گئی اگر منزل سفر کا ذوق فقط رہ گزر سے ملتا ہے وہ کم سخن ہیں مگر ہم سے بے نیاز نہیں سراغ دل سخن مختصر سے ملتا ہے نثار اس پہ دو عالم کے میکدے پرویزؔ وہ ایک جام جو ان کی نظر سے ملتا ہے

غزل · Ghazal

saaz-e-aalaam pe dil naghma-saraa hotaa hai

ساز آلام پہ دل نغمہ سرا ہوتا ہے اے محبت یہ ترے دور میں کیا ہوتا ہے پھیل جاتی ہے فضاؤں میں اداسی کی گھٹا عشق جب حسن سے رو رو کے جدا ہوتا ہے حوصلہ دید کا ہرگز نہ کریں اہل نظر جلوۂ حسن بہت ہوش ربا ہوتا ہے وہ ہوس ہے جو گلہ کرتی ہے رنج و غم کا عشق ہر حال میں راضی بہ رضا ہوتا ہے ان کے مبہم سے اشاروں کا تأثر توبہ دل میں کیا معرکۂ یاس و رجا ہوتا ہے ہم جو کہتے ہیں اسے وقت کا شہکار جمیل بات کچھ بھی نہیں لیکن وہ خفا ہوتا ہے روش خاص پہ چلتا ہوں ادب میں پرویزؔ میرے ہر شعر کا انداز نیا ہوتا ہے

غزل · Ghazal

ai kaaenaat tere sahaare hamin to hain

اے کائنات تیرے سہارے ہمیں تو ہیں تیرے نظر نواز اشارے ہمیں تو ہیں امواج حسن و عشق کا عرفاں ہمیں سے ہے دریائے زندگی کے کنارے ہمیں تو ہیں طوفان حادثات کے خالق تمہیں تو ہو طوفان جن کو پار اتارے ہمیں تو ہیں ہم سے سوا حیات کو سمجھے گا اور کون ان کی نوازشات کے مارے ہمیں تو ہیں یہ اور بات ہے کہ تمہیں علم ہی نہیں ورنہ بھرے جہاں میں تمہارے ہمیں تو ہیں دنیائے زندگی کا نظارہ کریں تو کیا دنیائے زندگی کے نظارے ہمیں تو ہیں پرویزؔ شاعری کی حرارت ہمیں سے ہے علم و ادب کے شوخ شرارے ہمیں تو ہیں

غزل · Ghazal

pyaar ke bandhan kaaT rahe hain prem kaa rishta toD rahe hain

پیار کے بندھن کاٹ رہے ہیں پریم کا رشتہ توڑ رہے ہیں شہر محبت کے باشندے شہر محبت چھوڑ رہے ہیں ارمانوں کے رہواروں کو جانب دنیا موڑ رہے ہیں الفت کا دم بھرنے والے الفت کا دل توڑ رہے ہیں اتنا ہم کو علم نہیں تھا ہجر کے صدمے سہنے ہوں گے یہ قطعاً احساس نہیں تھا کس سے ناطہ جوڑ رہے ہیں اس بستی میں رہنا بسنا اپنے بس کی بات نہیں ہے خودداری کی فرمائش پر شہر محبت چھوڑ رہے ہیں دیکھیں اپنی سرکش توبہ ساتھ ہمارا دیتی بھی ہے آپ تو نفرت کے پتھر پر جام محبت پھوڑ رہے ہیں اے پرویزؔ یہ دنیا والے تدبیروں سے غافل ہو کر قسمت کی دہلیز پہ ناحق اپنے سر کو پھوڑ رہے ہیں

غزل · Ghazal

husn paaband-e-jafaa ho jaise

حسن پابند جفا ہو جیسے یہ کوئی خاص ادا ہو جیسے یوں تری یاد ہے میرے دل میں کسی مرگھٹ میں دیا ہو جیسے ہو گیا سوکھ کے کانٹا ہر پھول یہ مہکنے کی سزا ہو جیسے میری فرقت کا غم آگیں عالم چھپ کے تو دیکھ رہا ہو جیسے کشتیاں غرق ہوئی جاتی ہیں ناخدا ہو نہ خدا ہو جیسے اللہ اللہ ترا انداز خرام ہر قدم موج صبا ہو جیسے کتنی پر کیف ہے یہ ظلمت شب تیری زلفوں کی گھٹا ہو جیسے تیرے ہونٹوں پہ تبسم توبہ ماہ و انجم کی ضیا ہو جیسے ان سے کرتا ہوں تغافل کا گلہ عشق میں یہ بھی روا ہو جیسے اس طرح عشق سے دل شاد ہیں ہم یہی ہر غم کی دوا ہو جیسے اس سے آتی نہیں اب کوئی صدا ساز دل ٹوٹ گیا ہو جیسے دیکھ کر تجھ کو یہ ہوتا ہے گماں تو مرے دکھ کی دوا ہو جیسے ان کو یوں ڈھونڈ رہا ہوں پرویزؔ عشق سے حسن جدا ہو جیسے

غزل · Ghazal

khuub thiin mai-kade ki fazaaein

خوب تھیں میکدے کی فضائیں رہ گئیں چھٹ کے غم کی گھٹائیں موت امداد کو آ چکی ہے ان سے کہہ دو کہ وہ اب نہ آئیں شعلۂ حسن سے کیا بچے گا دامن دل کو ہم کیا بچائیں حشر ڈھاتی ہے جنبش نظر کی فتنہ گر ہیں کسی کی ادائیں سوچتے ہیں کہ اس بے وفا کو یاد رکھیں کہ ہم بھول جائیں حادثات جہاں توبہ توبہ اٹھ گئیں ہیں جہاں سے وفائیں دل میں آباد ہے ایک دنیا آپ محرومیوں پر نہ جائیں گوشۂ دل سے پرویزؔ اب تک آ رہی ہیں کسی کی صدائیں

Similar Poets