SHAWORDS
Parveen Kaif

Parveen Kaif

Parveen Kaif

Parveen Kaif

poet
14Ghazal

Ghazalغزل

See all 14
غزل · Ghazal

payaam gham kaa vahi gham-gusaar dete hain

پیام غم کا وہی غم گسار دیتے ہیں تسلیاں جو نئی بار بار دیتے ہیں کہاں کا ہوش انہیں یہ تری ہے رسوائی صدائیں تجھ کو جو دیوانہ وار دیتے ہیں وہ آتے آتے یہ کہتے ہیں جلد جانا ہے وہ جاتے جاتے نیا انتظار دیتے ہیں بچا سکیں گے سفینوں کو خاک طوفاں سے وہ ناخدا کہ جو ہمت ہی ہار دیتے ہیں میں جب بھی ذکر کروں دل کی بے قراری کا وہ مجھ کو صبر کا دشمن قرار دیتے ہیں

غزل · Ghazal

ab vo aangan vo ghar na khaprelein

اب وہ آنگن وہ گھر نہ کھپریلیں پیڑ پنچھی نہ پھول اور بیلیں زندگی ہم ترے محافظ ہیں کیوں نہ پھر اپنی جان پر کھیلیں آسماں سے ہمکتا رہتا ہے چاند کو لاؤ گود میں لے لیں اپنے گھر کی گھٹن ہی بہتر ہے ہجرتوں کا عذاب کیوں جھیلیں وزن پر ہوں غزل کے سب مصرعے پیڑھیوں سے نہ اتریں یہ ریلیں کیا جرائم کا سد باب ہوا اور آباد ہو گئیں جیلیں اب تو سستی ہے شاعری پروینؔ لگتی رہتی ہیں آئے دن سیلیں

غزل · Ghazal

bas gayaa hai vo chaand par jaa kar

بس گیا ہے وہ چاند پر جا کر آؤ ملتے ہیں اس کے گھر جا کر رخ بدل کر قریب سے گزرا بات کی اس نے دور تر جا کر وہی ماحول ہے وہی کہرام ہم نے دیکھا نگر نگر جا کر تم کو جانے تو دوں سوال یہ ہے آئے واپس نہ تم اگر جا کر وہی چہرہ تھا شاہکار ازل بس وہیں رک گئی نظر جا کر آسماں ہے ہمارے پاؤں تلے کیوں زمیں سے لگے نہ سر جا کر اپنے آنگن کو کہہ رہے ہو اجاڑ دیکھ آئے ہو کس کا گھر جا کر

غزل · Ghazal

na bulaao mujhe khudaa ki taraf

نہ بلاؤ مجھے خدا کی طرف میں اسی کی ہوں بندگی میں لگی جس میں تھی جنگلوں کی بے نظمی وہ نمائش بھی شہر ہی میں لگی رات میں نے پڑھی جو دھوپ کی نظم بے مزہ ان کو چاندنی میں لگی جام سقراط کیا پیا میں نے پیاس مجھ کو نہ زندگی میں لگی اور کچھ کام بھی کروں پروینؔ تم تو ہو صرف شاعری میں لگی

غزل · Ghazal

ye chhoTaa saa makaan baghiyaa lagaane kaun detaa hai

یہ چھوٹا سا مکاں بغیا لگانے کون دیتا ہے در و دیوار پر سبزہ اگانے کون دیتا ہے کبھی نازاں تھے ہم آنسو بہانے کون دیتا ہے مگر اے چشم نم اب مسکرانے کون دیتا ہے مری آنکھوں کو یہ سپنے سہانے کون دیتا ہے وہ آئے گا دلاسے دل کو جانے کون دیتا ہے پتہ چلتا ہے کیسے میرے ان کے چھپ کے ملنے کا خبر تجھ کو ہماری اے زمانے کون دیتا ہے نہیں آنا نہیں آنا یہی ضد ہے یہی ضد ہے وہ آ تو جائیں پھر دیکھوں کہ جانے کون دیتا ہے تمہیں دل میں بسا رکھا ہے میری سادگی دیکھو زمانے میں کسی کو سر چھپانے کون دیتا ہے خود اپنے دل سے کہہ لیتے ہیں تنہائی میں غم اپنا تمہارے سامنے دکھڑے سنانے کون دیتا ہے

غزل · Ghazal

abr-e-rahmat gharon pe rahte the

ابر رحمت گھروں پہ رہتے تھے جب دوپٹے سروں پہ رہتے تھے وہ بھی پردہ دروں میں شامل ہیں پردے جن کے دروں پہ رہتے تھے آج کے تاجور ہیں جو کل تک وقت کی ٹھوکروں پہ رہتے تھے ان کی کرچوں سے پاؤں زخمی ہیں ہونٹ جو ساغروں پہ رہتے تھے رقص کرتے تھے ہم بھی لیکن ہاں مرکزوں محوروں پہ رہتے تھے ہم کو رہنا پڑا وہاں پروینؔ دل جہاں خنجروں پہ رہتے تھے

Similar Poets