"amman ki baton men ankhen sukh-dukh sapne sab to hain ram-kahani us ke paas kabira-bani us ke paas"

Pratap Somvanshi
Pratap Somvanshi
Pratap Somvanshi
Sherشعر
amman ki baton men ankhen sukh-dukh sapne sab to hain
اماں کی باتوں میں آنکھیں سکھ دکھ سپنے سب تو ہیں رام کہانی اس کے پاس کبرا بانی اس کے پاس
laxman-rekha bhi akhir kya kar legi
لکشمن ریکھا بھی آخر کیا کر لے گی سارے راون گھر کے اندر نکلیں گے
raam tumhare yug ka ravan achchha tha
رام تمہارے یگ کا راون اچھا تھا دس کے دس چہرے سب باہر رکھتا تھا
Popular Sher & Shayari
6 total"laxman-rekha bhi akhir kya kar legi saare ravan ghar ke andar niklenge"
"raam tumhare yug ka ravan achchha tha das ke das chehre sab bahar rakhta tha"
ammaan ki baaton mein aankhein sukh-dukh sapne sab to hain
raam-kahaani us ke paas kabira-baani us ke paas
laxman-rekhaa bhi aakhir kyaa kar legi
saare raavan ghar ke andar nikleinge
raam tumhaare yug kaa raavan achchhaa thaa
das ke das chehre sab baahar rakhtaa thaa
Ghazalغزل
ye jo ik laDki pe hain tainaat pahre-daar sau
یہ جو اک لڑکی پہ ہیں تینات پہرے دار سو دیکھتی ہیں اس کی آنکھیں بھیڑیے خوں خوار سو دقتیں اکثر وہ میری بانٹتی ہے اس طرح اپنے بکسے سے نکالے گی ابھی دو چار سو آئیں گی جب مشکلیں تو وہ بچا لے گا مجھے اک بھروسہ دے گا اور کروائے گا بیگار سو ریس میں ہوگی سڑک پر زندگی کی گاڑیاں ایک اسی پر چلے گی ایک کی رفتار سو کتنا مشکل کام ہے اچھائیوں کو ڈھونڈھنا یوں تو خبروں سے بھرے ہیں روز ہی اخبار سو
chaandi kaa badan sone kaa man DhunD rahaa hai
چاندی کا بدن سونے کا من ڈھونڈ رہا ہے اوروں میں ہی اچھائی کا دھن ڈھونڈھ رہا ہے کچھ پیڑ ہیں نفرت کی ہوا جن سے بڑھی ہے یہ باغ مگر اب بھی امن ڈھونڈ رہا ہے سنگم کے علاقے سے ہے پہچان ہماری یہ دل تو وہی گنگ و جمن ڈھونڈ رہا ہے انجان سے اک خوف کو ڈھوتا ہوا انسان اپنے کو بچانے کا جتن ڈھونڈ رہا ہے گاؤں کے ہر اک خواب میں شہروں کی کہانی شہروں میں جسے دیکھو وطن ڈھونڈ رہا ہے لوگوں نے یہاں رام سے سیکھا تو یہی بس ہر شخص ہی سونے کا ہرن ڈھونڈ رہا ہے
rishte ke uljhe dhaagon ko dhire dhire khol rahi hai
رشتے کے الجھے دھاگوں کو دھیرے دھیرے کھول رہی ہے بٹیا کچھ کچھ بول رہی ہے پورے گھر میں ڈول رہی ہے دل کے کہے سے آنکھوں نے بازار میں اک سامان چنا ہے ہاتھ بچارا سوچ رہا ہے جیب بھی خود کو تول رہی ہے رات کی آنکھیں بانچ رہا ہوں کچھ کچھ تو میں بھانپ رہا ہوں کچھ کچھ اندر سوچ رہی ہے کچھ کچھ باہر بول رہی ہے ایک اکیلا کچھ بھی بولے کون شہر میں اس کی سنتا پیڑ پہ ایک اکیلی بلبل جنگل میں رس گھول رہی ہے جب بھی خود کے ہاتھ جلے تب بات یہ سب کو یاد آتی ہے بچپن میں جو سیکھ ملی تھی اب تک وہ انمول رہی ہے
laaeq kuchh naalaaeq bachche hote hain
لائق کچھ نا لائق بچے ہوتے ہیں شعر کہاں سارے ہی اچھے ہوتے ہیں اوروں کے دکھ میں آنکھیں بھر آتی ہیں ایسے آنسو خالص سچے ہوتے ہیں بچوں کی خوشیاں ڈھیروں سکھ دیتی ہیں ہاتھ میں امیدوں کے لچھے ہوتے ہیں ہم ہی الٹا سیدھا سوچا کرتے ہیں رشتے تھوڑے پکے کچے ہوتے ہیں جب آنکھوں کا ایک بھروسہ ڈھہتا ہے سپنوں کے لاکھوں پرخچے ہوتے ہیں میٹھے لوگوں سے مل کر ہم نے جانا تیکھے کڑوے اکثر سچے ہوتے ہیں
tamaashe chuTkule taali mein mat rakh
تماشے چٹکلے تالی میں مت رکھ ادب کو ایسی بد حالی میں مت رکھ کہ زہر ہو جائیں گے پکوان سارے انہیں احساس کی تھالی میں مت رکھ خیالوں کا پرندہ کہہ رہا ہے مجھے آکاش دے جالی میں مت رکھ اداسی خون میں گھل جائے گی پھر اسے تو چائے کی پیالی میں مت رکھ بڑکپن پیڑ سکھلاتے ہیں ہم کو پکے پھل کو کبھی ڈالی میں مت رکھ کمانے میں بہت کچھ کھو گیا ہے کسی کو ایسی کنگالی میں مت رکھ
har mauqe ki har rishte ki Dher nishaani us ke paas
ہر موقعے کی ہر رشتے کی ڈھیر نشانی اس کے پاس البم کے ہر اک فوٹو کی ایک کہانی اس کے پاس شہر وہ ساہوکار ہے جس کو کوس رہا ہے ہر کوئی یہ سچ بھی سب کو معلوم ہے دانہ پانی اس کے پاس اماں کی باتوں میں آنکھیں سکھ دکھ سپنے سب تو ہیں رام کہانی اس کے پاس کبرا بانی اس کے پاس کئی خزانے قصے والے اک بچے کے پاس ملے دادا دادی اس کے پاس نانا نانی اس کے پاس سوچ رہا ہوں گاؤں میں جا کر کچھ دن اب آرام کروں وہیں کہیں پر رکھ آیا ہوں نیند پرانی اس کے پاس





