SHAWORDS
Pratap Somvanshi

Pratap Somvanshi

Pratap Somvanshi

Pratap Somvanshi

poet
3Sher
3Shayari
11Ghazal

Sherشعر

Popular Sher & Shayari

6 total

Ghazalغزل

See all 11
غزل · Ghazal

ye jo ik laDki pe hain tainaat pahre-daar sau

یہ جو اک لڑکی پہ ہیں تینات پہرے دار سو دیکھتی ہیں اس کی آنکھیں بھیڑیے خوں خوار سو دقتیں اکثر وہ میری بانٹتی ہے اس طرح اپنے بکسے سے نکالے گی ابھی دو چار سو آئیں گی جب مشکلیں تو وہ بچا لے گا مجھے اک بھروسہ دے گا اور کروائے گا بیگار سو ریس میں ہوگی سڑک پر زندگی کی گاڑیاں ایک اسی پر چلے گی ایک کی رفتار سو کتنا مشکل کام ہے اچھائیوں کو ڈھونڈھنا یوں تو خبروں سے بھرے ہیں روز ہی اخبار سو

غزل · Ghazal

chaandi kaa badan sone kaa man DhunD rahaa hai

چاندی کا بدن سونے کا من ڈھونڈ رہا ہے اوروں میں ہی اچھائی کا دھن ڈھونڈھ رہا ہے کچھ پیڑ ہیں نفرت کی ہوا جن سے بڑھی ہے یہ باغ مگر اب بھی امن ڈھونڈ رہا ہے سنگم کے علاقے سے ہے پہچان ہماری یہ دل تو وہی گنگ و جمن ڈھونڈ رہا ہے انجان سے اک خوف کو ڈھوتا ہوا انسان اپنے کو بچانے کا جتن ڈھونڈ رہا ہے گاؤں کے ہر اک خواب میں شہروں کی کہانی شہروں میں جسے دیکھو وطن ڈھونڈ رہا ہے لوگوں نے یہاں رام سے سیکھا تو یہی بس ہر شخص ہی سونے کا ہرن ڈھونڈ رہا ہے

غزل · Ghazal

rishte ke uljhe dhaagon ko dhire dhire khol rahi hai

رشتے کے الجھے دھاگوں کو دھیرے دھیرے کھول رہی ہے بٹیا کچھ کچھ بول رہی ہے پورے گھر میں ڈول رہی ہے دل کے کہے سے آنکھوں نے بازار میں اک سامان چنا ہے ہاتھ بچارا سوچ رہا ہے جیب بھی خود کو تول رہی ہے رات کی آنکھیں بانچ رہا ہوں کچھ کچھ تو میں بھانپ رہا ہوں کچھ کچھ اندر سوچ رہی ہے کچھ کچھ باہر بول رہی ہے ایک اکیلا کچھ بھی بولے کون شہر میں اس کی سنتا پیڑ پہ ایک اکیلی بلبل جنگل میں رس گھول رہی ہے جب بھی خود کے ہاتھ جلے تب بات یہ سب کو یاد آتی ہے بچپن میں جو سیکھ ملی تھی اب تک وہ انمول رہی ہے

غزل · Ghazal

laaeq kuchh naalaaeq bachche hote hain

لائق کچھ نا لائق بچے ہوتے ہیں شعر کہاں سارے ہی اچھے ہوتے ہیں اوروں کے دکھ میں آنکھیں بھر آتی ہیں ایسے آنسو خالص سچے ہوتے ہیں بچوں کی خوشیاں ڈھیروں سکھ دیتی ہیں ہاتھ میں امیدوں کے لچھے ہوتے ہیں ہم ہی الٹا سیدھا سوچا کرتے ہیں رشتے تھوڑے پکے کچے ہوتے ہیں جب آنکھوں کا ایک بھروسہ ڈھہتا ہے سپنوں کے لاکھوں پرخچے ہوتے ہیں میٹھے لوگوں سے مل کر ہم نے جانا تیکھے کڑوے اکثر سچے ہوتے ہیں

غزل · Ghazal

tamaashe chuTkule taali mein mat rakh

تماشے چٹکلے تالی میں مت رکھ ادب کو ایسی بد حالی میں مت رکھ کہ زہر ہو جائیں گے پکوان سارے انہیں احساس کی تھالی میں مت رکھ خیالوں کا پرندہ کہہ رہا ہے مجھے آکاش دے جالی میں مت رکھ اداسی خون میں گھل جائے گی پھر اسے تو چائے کی پیالی میں مت رکھ بڑکپن پیڑ سکھلاتے ہیں ہم کو پکے پھل کو کبھی ڈالی میں مت رکھ کمانے میں بہت کچھ کھو گیا ہے کسی کو ایسی کنگالی میں مت رکھ

غزل · Ghazal

har mauqe ki har rishte ki Dher nishaani us ke paas

ہر موقعے کی ہر رشتے کی ڈھیر نشانی اس کے پاس البم کے ہر اک فوٹو کی ایک کہانی اس کے پاس شہر وہ ساہوکار ہے جس کو کوس رہا ہے ہر کوئی یہ سچ بھی سب کو معلوم ہے دانہ پانی اس کے پاس اماں کی باتوں میں آنکھیں سکھ دکھ سپنے سب تو ہیں رام کہانی اس کے پاس کبرا بانی اس کے پاس کئی خزانے قصے والے اک بچے کے پاس ملے دادا دادی اس کے پاس نانا نانی اس کے پاس سوچ رہا ہوں گاؤں میں جا کر کچھ دن اب آرام کروں وہیں کہیں پر رکھ آیا ہوں نیند پرانی اس کے پاس

Similar Poets