SHAWORDS
Qadir Siddiqi

Qadir Siddiqi

Qadir Siddiqi

Qadir Siddiqi

poet
1Shayari
11Ghazal

Popular Shayari

1 total

Ghazalغزل

See all 11
غزل · Ghazal

سوچو تو قیامت ہے چھلاوا ہے بلا ہے دیکھو تو فقط راہ میں نقش کف پا ہے مانا کہ ترے حق سے تجھے کم ہی ملا ہے یہ بھی کبھی سوچا ہے کہ کیا تو نے دیا ہے میں قافلۂ وقت کے ہم راہ چلوں کیا جو شخص ہے پیچھے کی طرف دیکھ رہا ہے اوروں کے تقابل میں سدا پست رہا ہوں یہ بھی مری نا کردہ گناہی کی سزا ہے اب اپنے ہی ماضی پہ یقیں آ نہیں پاتا لگتا ہے یہ قصہ بھی کبھی میں نے سنا ہے دنیا کو جو چھوڑا تھا تو کچھ اور تھا عالم دنیا کو جو چاہا تو عجب حال ہوا ہے اس دور کو کیا سعیٔ ہدایت کی ضرورت جس دور کا جو شخص ہے فرزانہ بنا ہے یہ بھی مری قسمت کہ الجھ بیٹھا میں ان میں کچھ ایسے عمل جن کی سزا ہے نہ جزا ہے اس غم کو بھلا کیوں نہ میں سینہ سے لگاؤں وہ غم جو مرے دوست ترا حسن عطا ہے ممکن ہو تو مل جاؤ کسی حال میں اک بار اب وقت کا سورج ہے کہ جو ڈوب رہا ہے قادرؔ کو شکایت نہیں غیروں کی روش سے قادرؔ کو تو اپنوں ہی نے مایوس کیا ہے

socho to qayaamat hai chhalaavaa hai balaa hai

2 views

غزل · Ghazal

وائے قسمت کہ قریب اس نے نہ آنا چاہا عمر بھر ہم نے جسے اپنا بنانا چاہا کیا کہیں اس کو غم دنیا نے کتنا گھیرا ہم نے جس دل کو ترے غم سے سجانا چاہا کر دیا اور بھی مدہوش زمانے نے اسے تیرے دیوانے نے جب ہوش میں آنا چاہا ہو گئی اور سوا لذت غم کی تاثیر جب کبھی ہم نے ترے غم کو بھلانا چاہا وقت کے شعلوں سے محفوظ بھلا کیا رہتے یوں تو دامن کو بہت ہم نے بچانا چاہا تیری یادوں کے دیے جلتے رہے جلتے رہے آندھیوں نے تو کئی بار بجھانا چاہا بس اسی جرم پہ ناراض ہیں دنیا والے اپنے خوابوں کا محل ہم نے بنانا چاہا جو اٹھا اس کو گرانے کی تو سوچی سب نے جو گرا اس کو نہ دنیا نے اٹھانا چاہا قصر و ایواں کا گرانا تو کوئی بات نہ تھی کعبۂ دل کو بھی کچھ لوگوں نے ڈھانا چاہا جب بھی سوچا کہ حقیقت نہ چھپائیں قادرؔ ہم سے دنیا نے نیا کوئی بہانا چاہا

vaae qismat ki qarib us ne na aanaa chaahaa

1 views

غزل · Ghazal

غم گناہ سے فکر نجات سے الجھے تمام عمر ہم افسون ذات سے الجھے توہمات سے اک جنگ تھی جو جاری رہی سحاب مرگ نہ ابر حیات سے الجھے نفس نفس پہ نگاہیں تری بدلتی رہیں قدم قدم پہ نئے حادثات سے الجھے تجھے جو مان لیا ہم نے بس وہ مان لیا زباں صفت پہ نہ کھولی نہ ذات سے الجھے کبھی خرد سے نپٹنا پڑا کبھی دل سے تغیرات سے الجھے ثبات سے الجھے بہت ستایا گزشتہ دنوں کی یادوں نے یہی نہیں کہ نئے واقعات سے الجھے تضاد لاکھ رہا پھر بھی زندگی کے لیے غم انا سے غم کائنات سے الجھے ہم اس زمانے میں کس کو سنائیں کون سنے دل و نگاہ کی جن واردات سے الجھے بساط زیست سجائی تری خوشی کے لیے نہ جیت سے کبھی الجھے نہ مات سے الجھے ہمیں نے تیری نگاہ غضب کو جھیلا ہے ہمیں تری نگہ التفات سے الجھے

gham-e-gunaah se fikr-e-najaat se uljhe

1 views

غزل · Ghazal

رہے ہمیشہ مخاطب بس اپنی ذات سے ہم رجوع ہوتے بھی کیا حسن کائنات سے ہم اب آ گئی ہے وہ ساعت کہ دن کی بات کریں ڈرا کریں گے کہاں تک اندھیری رات سے ہم قدم قدم پہ تو ہم نے ہے ذہن کو گھیرا قدم قدم پہ بچے گو توہمات سے ہم خدا کے واسطے اب دام آگہی نہ بچھا ڈرا کئے ہیں خرد تیری بات بات سے ہم نہ چھوٹ پائے ہیں اب تک نہ چھوٹ پائیں گے دل و نگاہ کے رنگیں معاملات سے ہم کھلیں تو کیسے کھلیں راز ہائے عقل و جنوں نگاہ پھیرے ہوئے ہیں مشاہدات سے ہم ہمیں یقیں میں بھی اب شک دکھائی دیتا ہے گھرے ہوئے ہیں کچھ ایسے ہی واقعات سے ہم زمانہ لاکھ کرے کوششیں بچانے کی نکل سکیں گے نہ افسون التفات سے ہم ہمیں ڈرائیں نہ احباب اب حوادث سے بنے ہوئے ہیں حقیقت میں حادثات سے ہم زمانہ اردو ادب کو بھلا نہ پائے گا بنا رہے ہیں وہ تصویر اپنے ہاتھ سے ہم زباں تک آ نہیں پائی صدائے دل قادرؔ بندھے ہوئے ہیں کچھ ایسے تکلفات سے ہم

rahe hamesha mukhaatib bas apni zaat se ham

1 views

غزل · Ghazal

حق وفاؤں کا جفاؤں سے ادا کرتے ہیں لوگ آج کی دنیا کو کیا کہیے کہ کیا کرتے ہیں لوگ آنکھ پر نم ہونٹ لرزاں دل غموں سے پاش پاش اس طرح بھی زندگی کا سامنا کرتے ہیں لوگ اے زمانے کی روش تیری وفا کوشی کی خیر عہد و پیماں توڑ کر وعدہ وفا کرتے ہیں لوگ اے وفور زندگی یہ بھی ترا اعجاز ہے زہر پیتے ہیں مسلسل اور جیا کرتے ہیں لوگ اتنا اتنا دل میں اٹھتا ہے بغاوت کا غبار جتنا جتنا دل کو پابند وفا کرتے ہیں لوگ اس کے پانے کی مسرت چند لمحے بھی نہیں جس کو کھو کر عمر بھر آہ و بکا کرتے ہیں لوگ میری روداد الم میں کوئی پہلو ہے ضرور سن کے روداد الم کیوں ہنس دیا کرتے ہیں لوگ جب بھی ہوتا ہے جفاؤں کا کہیں بھی تذکرہ نام جانے کیوں تمہارا لے لیا کرتے ہیں لوگ صبح نو کی یاد میں کٹتی ہے ہر شام فراق سکھ کی امیدوں میں اکثر دکھ سہا کرتے ہیں لوگ رنج و غم عیش و مسرت دھوپ بھی ہے چھاؤں بھی ہنستے ہنستے زندگی میں رو دیا کرتے ہیں لوگ کون کام آتا ہے آڑے وقت پر قادرؔ یہ دیکھ زیست کے ہر موڑ پر یوں تو ملا کرتے ہیں لوگ

haq vafaaon kaa jafaaon se adaa karte hain log

1 views

غزل · Ghazal

حیراں ہیں سارے آئینے ماضی و حال کے جلوے بکھر گئے ہیں یہ کس خوش جمال کے اس بد گماں کی ہوں گی نہ کم بدگمانیاں ہم چاہے رکھ دیں اپنا کلیجہ نکال کے دنیا سے بے نیاز ہوں خود سے بھی بے خبر کیا کیا کرم ہیں مجھ پہ غم لا زوال کے للہ دل کی بات پہ پردہ نہ ڈالیے اسباب کچھ تو ہوں گے ضرور اس ملال کے ان کی تلاش میں میں وہاں تک نکل گیا کٹتے ہیں پر جس اوج پہ وہم و خیال کے

hairaan hain saare aaine maazi-o-haal ke

Similar Poets