"luT ga.e ek hi angDa.i men aisa bhi hua umr-bhar phirte rahe ban ke jo hoshiyar bahut"

Qais Rampuri
Qais Rampuri
Qais Rampuri
Sherشعر
Popular Sher & Shayari
2 totalluT gae ek hi angDaai mein aisaa bhi huaa
umr-bhar phirte rahe ban ke jo hoshiyaar bahut
Ghazalغزل
khudaa thaa muntazir ik aadmi kaa
خدا تھا منتظر اک آدمی کا یہ قصہ ہے کسی روشن صدی کا ملے جلتا ہوا گھر جب کسی کا تو لکھنا مرثیہ تم روشنی کا جو ممکن ہو تو زندہ رکھنا رشتہ انا کا اور نیزے کی انی کا کہیں خوشبو نفس کی اڑ نہ جائے لفافہ بند رکھنا زندگی کا شریف شہر سمجھے گا بھی کیسے مزہ ہم جیسوں کی آوارگی کا
zaaviya honTon kaa vo dilkash banaataa kis tarah
زاویہ ہونٹوں کا وہ دل کش بناتا کس طرح روح زخمیدہ بہت تھی مسکراتا کس طرح انگلیاں بھی قوت بینائی رکھتی ہیں بہت میں کسی کے جسم کو یہ سچ بتاتا کس طرح کل مرے بچے بھی آ سکتے ہیں خوشبو کے لیے شہر گل میں زہر کے کانٹے بچھاتا کس طرح فن کی دولت بڑھ گئی تو دل کے ٹکڑے ہو گئے میں سمندر بن گیا تو گھر بچاتا کس طرح میں ہوں اک پتھر مگر دست ہنر میں رہ گیا شیش محلوں کی ہے قسمت کیا بتاتا کس طرح
ek shab mein kamre kaa ruup Dhal gayaa kaise
ایک شب میں کمرے کا روپ ڈھل گیا کیسے وہ تو گیلی لکڑی تھا رات جل گیا کیسے ایک طرفہ چاہت بھی کیسا درد ہوتی ہے میں ہوں آج تک پتھر وہ بدل گیا کیسے کل تمام بستی میں سیل خوں بہا لیکن ایک سر پھرا قاتل کل سنبھل گیا کیسے وہ زمین زادوں کی خوں کشی کا عادی تھا آج اپنا خوں پی کر دم نکل گیا کیسے چاند کی حقیقت کو خوب جانتا ہوں میں پھر بھی چاند راتوں کا جادو چل گیا کیسے
fasil-e-shahr se niklo bhalaa isi mein hai
فصیل شہر سے نکلو بھلا اسی میں ہے کہ زلزلوں کی حکومت گلی گلی میں ہے دیا کہیں بھی جلانا مجھے خبر کرنا مرے لہو کا اجالا بھی روشنی میں ہے وہ مسکرا کے خدا کا پتا بتاتا ہے نہ جانے کون سا جادو اس آدمی میں ہے چلا ہوں موت کے پیکر کو قتل کرنے مگر یہ وصف خاص تو خود میری زندگی میں ہے دریچے اپنے کھلے رکھنا شب کے پچھلے پہر سنا ہے عشق کا انداز چاندنی میں ہے
jo chand log mire she'r sun ke jaate hain
جو چند لوگ مرے شعر سن کے جاتے ہیں طلسم ہوش ربا پڑھنے بیٹھ جاتے ہیں مسرتوں کو سمجھنے کی کیسی رت آئی سگان شہر بھی اب قہقہے لگاتے ہیں لباس مانگ کے پہنا ہے کچھ رفیقوں نے اور اس پہ لطف مجھے آئنہ دکھاتے ہیں وہی بتائیں گے تنہا شبوں کی معراجیں جو اپنی ذات کے مدفن میں ڈوب جاتے ہیں ہر ایک لمحہ کسی جا رہی ہیں زنجیریں عجب غلام ہیں ہم پھر بھی مسکراتے ہیں نجانے کون مجھے یاد کر کے رویا قیسؔ ہوا کے دوش پہ اشکوں کے جام آتے ہیں





