SHAWORDS
Qamar Siddiqi

Qamar Siddiqi

Qamar Siddiqi

Qamar Siddiqi

poet
1Sher
1Shayari
5Ghazal

Sherشعر

Popular Sher & Shayari

2 total

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

ye martaba koshish se mayassar nahin hotaa

یہ مرتبہ کوشش سے میسر نہیں ہوتا ہر فاتح ایام سکندر نہیں ہوتا ہر روز نئی جنگ ہے ہر روز نئی جہد کب اپنے مقابل کوئی لشکر نہیں ہوتا بے سوچے ہوئے کام تو ہو جاتے ہیں سارے جو سوچتے ہیں ہم وہی اکثر نہیں ہوتا ہر پل وہی وحشت ہے وہی رقص ستم ناک کس لمحہ یہاں فتنۂ محشر نہیں ہوتا آ لیتے ہیں جذبات کو چپکے سے کسی پل ان حادثوں کا وقت مقرر نہیں ہوتا آوارہ ہیں اس آنکھ سے اس آنکھ تلک خواب جیسے کہ مسافر کا کوئی گھر نہیں ہوتا

غزل · Ghazal

khvaab nahin hai sannaaTaa hai lekin hai taabir bahut

خواب نہیں ہے سناٹا ہے لیکن ہے تعبیر بہت سچی باتیں کم کم ہیں اور جھوٹ کی ہے تشہیر بہت کیا کیا چہرے ہیں آنکھوں میں شکلیں کیا کیا ذہن میں ہیں یادیں گویا البم ہیں اور البم میں تصویر بہت قصہ ہے بس دو پل کا یہ ملنے اور بچھڑنے کا کرنے والے عشق کی یوں تو کرتے ہیں تفسیر بہت ہم تو صاحب اہل جنوں ہیں دنیا کھیل تماشا ہے اہل خرد کی خاطر ہوگی دنیا کی زنجیر بہت ساری شکلیں دھندلی دھندلی مبہم سا ہے منظر بھی خواب کی کچی بنیادوں پر کرنی ہے تعمیر بہت قصہ یہ محدود نہ تھا کچھ ہونٹوں کی خاموشی تک کہنے کو تو کہتی تھی ان آنکھوں کی تحریر بہت

غزل · Ghazal

log hanste hain muskuraate hain

لوگ ہنستے ہیں مسکراتے ہیں کون سا غم ہے جو چھپاتے ہیں دیکھیے ہو چلا سویرا بھی آؤ اب بتیاں بجھاتے ہیں چھوڑو رہنے دو اب ہٹاؤ بھی بات اتنی نہیں بڑھاتے ہیں راستے پر نہیں ہے کوئی نہیں ہاتھ کس کے لیے ہلاتے ہیں میں بھی خالی ہوں تم بھی خالی ہو تو چلو دونوں مسکراتے ہیں آج کھڑکی میں چاند اترا ہے آج ہی عید ہم مناتے ہیں ہو چکا ختم یہ ڈراما بھی آؤ اب سیٹیاں بجاتے ہیں بھیڑ کے ساتھ تو سبھی ہیں قمرؔ ہم نیا راستہ بناتے ہیں

غزل · Ghazal

dushman-vushman neza-veza khanjar-vanjar kyaa

دشمن وشمن نیزہ ویزا خنجر ونجر کیا عشق کے آگے مات ہے سب کی لشکر وشکر کیا ایک ترے ہی جلوے سے روشن ہیں یہ آنکھیں ساعت واعت لمحے وحے منظر ونظر کیا تیرے روپ کے آگے پھیکے چاند ستارے بھی بالی والی کنگن ونگن زیور ویور کیا تیرا نام ہی انتم سر ہے دھرتی تا آکاش سادھو وادھو پنڈت ونڈنت منتر ونتر کیا یار قمرؔ کی باتوں کا کیا اس کی ایک ہی رٹ لکھتا ہے بس نام ترا وہ کافر وافر کیا

غزل · Ghazal

rishte-naate kho gae sab gaanv kaa ghar kho gayaa

رشتے ناطے کھو گئے سب گاؤں کا گھر کھو گیا ریل کی سیٹی بجی اور سارا منظر کھو گیا چلتے پھرتے لوگ سڑکیں زندگی آوارگی ہر نظارہ ایک دن دل سے نکل کر کھو گیا رات میں نے خواب دیکھا خواب کی تعبیر بھی اک پرندہ چھت پہ بیٹھا اور اڑ کر کھو گیا کچھ نہیں اب آئنے میں صاف دھندلا کچھ نہیں عکس کی آنکھوں میں جو ہوتا تھا تیور کھو گیا ان سبھی حیران بچوں کی طرح ہیں ہم قمرؔ وقت کے اس میلے میں جن کا مقدر کھو گیا کھو گئے اس بار میرے خواب سارے دھند میں اور اب کے ریت میں یہ میرا بستر کھو گیا

Similar Poets