"yahi to hota hai shishe ke karobar ka hashr ujaD gaya hai achanak hara-bhara bazar"

Qaus Siddiqui
Qaus Siddiqui
Qaus Siddiqui
Sherشعر
Popular Sher & Shayari
2 totalyahi to hotaa hai shishe ke kaarobaar kaa hashr
ujaD gayaa hai achaanak haraa-bharaa baazaar
Ghazalغزل
ye aaina hai aaina tamaasha ho nahin saktaa
یہ آئینہ ہے آئینہ تماشہ ہو نہیں سکتا جسے سچ بولنا آتا ہو رسوا ہو نہیں سکتا بہت مشکل سے تحریکیں کبھی تاریخ بنتی ہیں کسی پتھر کا نقش و نام کتبہ ہو نہیں سکتا خدا موجود ہے اس میں یہ میری ماں کا آنچل ہے یہ عرش آفریں کچھ ہو شکستہ ہو نہیں سکتا مجھے مجبور مت کرنا میری مجبوریاں بھی ہیں میں تیرا دوست ہوں پر تیرے جیسا ہو نہیں سکتا کسی سادہ ورق پر بھی کوئی خط کھینچ لیتا ہے یہ بندہ فطرتاً اے قوسؔ تنہا ہو نہیں سکتا
koi detaa hai kisi ko bhi to kyaa detaa hai
کوئی دیتا ہے کسی کو بھی تو کیا دیتا ہے دست احسان کو میزان پہ لا دیتا ہے کوئی تو سنگ لب راہ سا مونس ٹھہرے راہ کا موڑ جو چپکے سے بتا دیتا ہے شہر گم گشتہ کا وہ کتبہ جو ہے گرد آلود ہر مسافر اسے جینے کی دعا دیتا ہے یہ مرا عہد ہے تاویل سکونت دے کر گھر کے دروازے کو دیوار بنا دیتا ہے قوسؔ بے سود نہیں جاتا ہے پانی کا لہو یہ ٹپکتا ہے تو رنگین فضا دیتا ہے
lauh-e-mahfuz tiraa zer-o-zabar kaisaa hai
لوح محفوظ ترا زیر و زبر کیسا ہے یہ خط بو العجبی پیش نظر کیسا ہے تو کہیں اور بسا ہے تو یہ گھر کیسا ہے لا مکاں والے یہ محراب یہ در کیسا ہے نقش ابھرا بھی نہیں تھا کہ مٹانے بیٹھے میرے پیکر سے جہاں والوں کو ڈر کیسا ہے نہ کوئی شاخ نہ پتے نہ کوئی گل نہ شجر بیچ آنگن میں کھڑا ہے جو شجر کیسا ہے میں اسی واسطے ڈوبا کہ سمجھ پاؤ تم زیر ساحل جو بھنور ہے وہ بھنور کیسا ہے
aate jaate logon ko ham dekh rahe hain barson se
آتے جاتے لوگوں کو ہم دیکھ رہے ہیں برسوں سے کچھ تو اپنے ہی ٹھہرے ہیں کچھ لگتے ہیں اپنوں سے آوارہ بے سمت ہوائیں آخر پہونچیں بادل تک دھول کے چہروں کو دھوئیں اب قوس قزح کے رنگوں سے ساری بنیادوں کا حاصل دل کو مسرت دینا تھا لیکن ایک المیہ ہے یہ دل کا نکلنا سینوں سے میناروں پر چڑھ کے یوں تو خود کو اونچا کر لو گے لیکن کیا بچ پاؤ گے تم چونچ پسارے چیلوں سے پربت لوک کو موسیٰ دوڑے اور کشتی کو حضرت نوح جب بھی نکلی پگلی خوشبو ناحق خون کے چھینٹوں سے ٹوٹے پھوٹے خوابوں کو ہم جوڑنے بیٹھے ہی تھے قوسؔ پیٹھ لگا کہ پھٹ جائے گی کچھ انجانے بوجھوں سے
is safar kaa chehra chehra aaina vaalaa lagaa
اس سفر کا چہرہ چہرہ آئنہ والا لگا چل پڑا تو مجھ کو سارا راستہ دیکھا لگا ان بدلتے منظروں میں ہم تو ٹھہرے بے وقار آپ ہی کہہ دیں یہ موسم آپ کو کیسا لگا ٹوٹتے رشتوں کے یگ میں ایسا بھی لمحہ ملا اپنا گھر تو اپنا گھر تھا سارا گھر اپنا لگا اب کے جب پردیس سے لوٹے تو اپنے دیس میں نیم کا بھی ذائقہ ہم کو بہت اچھا لگا کوچۂ اسود کے باشندے ہیں ہم اپنا وجود ماں کے آنچل میں لگے پیوند کا بخیہ لگا ڈوبتے سورج کو دیکھو زندگی اپنی لگے صبح کا نکلا مسافر شام کو گھر جا لگا





