SHAWORDS
Qazi Ghulam Mohammad

Qazi Ghulam Mohammad

Qazi Ghulam Mohammad

Qazi Ghulam Mohammad

poet
7Ghazal

Ghazalغزل

See all 7
غزل · Ghazal

یادوں کے دریچوں سے بیتے ایام کی خوشبو آتی ہے تسکین کے جھونکے آتے ہیں آرام کی خوشبو آتی ہے کچھ بول کہ مستقبل کی گرہ ہم بے خبروں پہ کھل جائے ساقی تری میٹھی باتوں سے الہام کی خوشبو آتی ہے کس گلشن غیر ارضی میں مجھے رہوار صبا لے آیا ہے ہر سمت سے مجھ کو ایک گل بے نام کی خوشبو آتی ہے اک بار ترے آنے سے کبھی گلبن کی طرح جو مہکا تھا ہر گوشۂ شب سے آج اسی ہنگام کی خوشبو آتی ہے

yaadon ke darichon se biite ayyaam ki khushbu aati hai

غزل · Ghazal

ادھر بھی کبھی چارہ گر دیکھ لینا ہرا کیوں ہے زخم جگر دیکھ لینا اجالے یہیں آ کے دم توڑتے ہیں کبھی شام کو میرا گھر دیکھ لینا گراں تجھ پہ گزرے نہ میری رفاقت کڑے کوس ہیں ہم سفر دیکھ لینا نہیں عارضی دل کی غم پروری کچھ یوں ہی اپنی ہوگی بسر دیکھ لینا یہ ہنگامۂ قصر پرویز اے دل رہے گا فقط رات بھر دیکھ لینا بپا حشر کر دے گا راحت کدوں میں مرے رنج و غم کا اثر دیکھ لینا ستم گار کا جشن رامش گری ہے فقط ایک رقص شرر دیکھ لینا شبستان عشرت میں جو پردہ گر ہیں وہی ہوں گے پھر پردہ در دیکھ لینا فسانہ مرا غور سے سن رہا تھا ہے نم چشم نجم سحر دیکھ لینا

idhar bhi kabhi chaaraagar dekh lenaa

غزل · Ghazal

جب تیرے تصور سے تسلیم کہ شہہ پائی چپ چاپ رہا شاعر ڈستی رہی تنہائی صد رنگ گلستاں ہیں رقصاں پس منظر میں اللہ رے اس گل کی یہ انجمن آرائی شاید تری یادوں سے کچھ اس کا تعلق ہے اک آگ لگا بیٹھی یہ دور کی شہنائی یہ عجز ہنر کب ہے اظہار حقیقت ہے امکان سے آگے ہے ذرات کی پہنائی شاعر کی عبادت ہے مہتاب کے مندر میں تیرے بت سیمیں کے قدموں پہ جبیں سائی قاضیؔ مرے سینے کی یہ آگ سلگتی سی بھیگی ہوئی راتوں نے کچھ اور بھی بھڑکائی

jab tere tasavvur se taslim ki shah paai

غزل · Ghazal

درون میکدہ کس درجہ حسرت ریز ہے ساقی جو گرد آلود کرسی ہے تو ٹوٹی میز ہے ساقی نہ کیوں حور جناں کے ذکر سے محظوظ ہو واعظ یہ اس کے توسن دل کے لیے مہمیز ہے ساقی مرے اوقات گریہ ٹائم ٹیبل پر مقرر ہیں یہ بندہ عشق کے بارے میں بھی انگریز ہے ساقی جلا کر رکھ دیا ہے اس نے شہر آرزو میرا ترا دربان اصلی وارث چنگیز ہے ساقی ذرا اس اونگھتے مے کش کی اک بھرپور چٹکی لے گلابی ناخن تدبیر تیرا تیز ہے ساقی وہ میرے دو نئے پیسے ہی اپنے پرس میں رکھ لے کہ اس کے صبر کا پیمانہ اب لبریز ہے ساقی رقیب رو سیہ سر پھوڑ لے گا کوہ کن بن کر ترا شوہر خدا کے فضل سے پرویز ہے ساقی مرا حصہ مجھے چھپ کر ہی مل جائے تو بہتر ہے گدائے مے کدہ غیروں سے کم آمیز ہے ساقی

darun-e-mai-kadaa kis darja hasrat-rez hai saaqi

غزل · Ghazal

باندھا تھا کسی شوخ سے پیمان تمنا رنگیں ہے مرا عالم امکان تمنا اک زلف سیہ مست تھی ایمان تمنا اک چہرۂ گلنار تھا عنوان تمنا صد شکر کہ طوفان حوادث کے مقابل جلتی ہی رہی شمع شبستان تمنا وہ ارض مقدس ہے کہاں چاند ستارو کھلتے ہیں جہاں لالہ و ریحان تمنا آوارۂ درماں مجھے رکھے گا ازل تک یہ دل میں کھٹکتا ہوا پیکان تمنا زنداں سے کسی طرح نہیں کم یہ خدائی ہر دل ہے یہاں سوختہ سامان تمنا

baandhaa thaa kisi shokh se paimaan-e-tamanna

غزل · Ghazal

جب جوش بہاراں تھا ان چاندنی راتوں میں ہر ذرہ گلستاں تھا ان چاندنی راتوں میں جب اپنی اداؤں سے اک زہرہ جبیں پیکر غارت گر ایماں تھا ان چاندنی راتوں میں جنت تھی بہت دل کش شاداب نظاروں کی ہر لمحہ رگ جاں تھا ان چاندنی راتوں میں جب سرو کی صف کا وہ محراب نما سایہ تصویر شبستاں تھا ان چاندنی راتوں میں جب پھول سا وہ چہرہ اس جان بہاراں کا تقدیس کا عنواں تھا ان چاندنی راتوں میں جب وقت دمکتی سی شاخوں پہ صنوبر کی اک دیدۂ حیراں تھا ان چاندنی راتوں میں بھیگی ہوئی آنکھوں کا موہوم اشارا بھی اک خلد بداماں تھا ان چاندنی راتوں میں اعجاز محبت تھا اللہ کی رحمت تھی قسمت پہ میں نازاں تھا ان چاندنی راتوں میں مدت سے نہیں دیکھا اس حسن گلابی کو شاعر کا جو مہماں تھا ان چاندنی راتوں میں

jab josh-e-bahaaraan thaa un chaandni raaton mein

Similar Poets