SHAWORDS
R P Shokh

R P Shokh

R P Shokh

R P Shokh

poet
11Ghazal

Ghazalغزل

See all 11
غزل · Ghazal

گلوں کو چوم کر آئی صبا سی لگتی تھی تھی اک نظر پہ معطر ہوا سی لگتی تھی میں زخم زخم تھا لیکن گلاب ہاتھوں میں بڑی تھی چوٹ تو لیکن ذرا سی لگتی تھی وہ ترش گو لب جاں بخش بھی تھا کیا کہئے کہ تلخ بات بھی اس کی دوا سی لگتی تھی ستم کو حسن ستم کر گیا وہی ورنہ یہی تھی زندگی لیکن سزا سی لگتی تھی مری تڑپ کو سمجھتا تھا اک عبادت وہ مجھے بھی اس کی محبت دعا سی لگتی تھی چلو وہ آنکھ میں پانی تو دے گیا ورنہ یہ سانس اندھے کنویں میں صدا سی لگتی تھی

gulon ko chuum kar aai sabaa si lagti thi

1 views

غزل · Ghazal

جو نہ گلشن نہ گلابوں سے نکل کر آئے وہ تو خوشبو ہے جو خوابوں سے نکل کر آئے اتنی رنگیں تو نہیں ہوتی قبا کیا ہوگا گر مرا چاند سحابوں سے نکل کر آئے غم کے تارے بھی بجھے جاتے ہیں اس سے کہہ دو صورت صبح حجابوں سے نکل کر آئے زندگی اب تو ترا شہر حقائق یہ کہے کوئی صحرا نہ سرابوں سے نکل کر آئے کبھی وہ بھی تو ثنا خواں ہو کہ جس کی خاطر اتنے خوں‌ ریز عذابوں سے نکل کر آئے جب کوئی لفظ ترے پیار کے قابل نہ ملا کوئی معنی نہ کتابوں سے نکل کر آئے

jo na gulshan na gulaabon se nikal kar aae

1 views

غزل · Ghazal

پوچھو گے تو کھل جائے گی زخموں کی زباں اور پرشش تو گزرتی ہے غم دل پہ گراں اور منظور جلانا ہے تو اک بار جلا دو یوں دل کے سلگنے سے تو اٹھتا ہے دھواں اور خاموشی نے رسوائی کے گل اور کھلائے دفنایا محبت کو تو ابھرے ہیں نشاں اور اس جیسا زمانے میں کوئی ایک تو ہوتا اس در سے اٹھیں اٹھ کے مگر جائیں کہاں اور چومے گا ترے پاؤں کو خود مرکز امید ہاں رقص میں آ رقص میں آ عمر رواں اور تا عمر سنا کیجئے اب نغمۂ خاموش کہتے نہ تھے نازک ہے نہ چھیڑو رگ جاں اور

puchhoge to khul jaaegi zakhmon ki zabaan aur

1 views

غزل · Ghazal

کوہ کن شب تھے رہا شغل سحر ہونے تک سر پٹکنا اسی دیوار میں در ہونے تک اس کی عادت تھی مرے خون کو پانی کرنا رنگ کیا کیا نہ اڑا آنکھ کے تر ہونے تک اب دوا ہے نہ دعا ہے نہ مسیحا گویا ہر خدائی تھی مرا خون جگر ہونے تک عمر بھر پھر سے جدائی کو محبت کہنا دیکھنا بھی ہے زمانے کی نظر ہونے تک اپنی آہیں ہی سبک گام نہ ہونے دیں گی پا بہ زنجیر چلو ختم سفر ہونے تک شہر کا شہر ہوا اب تو تعاقب میں مرے تیرا جادو بھی تھا مجھ خاک بسر ہونے تک یہ تو میں تھا کہ تراشا ہے ہر اک زخم سے پھول ہاتھ کٹ جاتے ہیں ناخن میں ہنر ہونے تک

kohkan-e-shab the rahaa shaghl sahar hone tak

غزل · Ghazal

جسم کا گھر ہی گرا ہے تو نہ جاں ٹھہرے گی یاد آئی بھی کسی کی تو کہاں ٹھہرے گی تھک کے بیٹھا ہوں مگر زندگی بھاگی جائے میں چلا جاؤں گا تو عمر رواں ٹھہرے گی اس کے در سے جو اٹھے شہر سے پھر کیا مطلب کسی صحرا میں ہی اب نقل مکاں ٹھہرے گی بھول کر بھی نہ بھلانا اسے اے دل ورنہ یہ سبک دوشی بھی اک بار گراں ٹھہرے گی خود پہ ہر رت کو گزرتے ہوئے دیکھا تھا مگر کیا خبر تھی کہ یہیں ایک خزاں ٹھہرے گی

jism kaa ghar hi giraa hai to na jaan Thahregi

غزل · Ghazal

شہروں میں ناچتا ہوا جنگل ہے اور میں صدیوں کے بعد بھی وہی قاتل ہے اور میں پاؤں کی گرد ہو چکیں کتنی مسافتیں اب بھی مگر وہ دورئ منزل ہے اور میں سمجھوں اب اور کیا تجھے کافر ادا نظام برسوں سے ایک وعدۂ باطل ہے اور میں پوچھو پسند تو ہے وہی چشم نیم باز ویسے ہر ایک گام پہ مقتل ہے اور میں

shahron mein naachtaa huaa jangal hai aur main

Similar Poets