"Gratitude is more of a compliment to yourself than someone else."

Raheel Farooq
Raheel Farooq
Raheel Farooq
Popular Quotes
3 total"The problem with the world is that everyone does not have a brain, but everyone does have a tongue."
"Hundreds of wise men cannot make the world a heaven, but one idiot is enough to turn it into a hell."
Ghazalغزل
mahshar ki is ghaDi mein hamaaraa koi to ho
محشر کی اس گھڑی میں ہمارا کوئی تو ہو اے رات اے فراق خدارا کوئی تو ہو یہ بد دعا نہیں مگر اس دل کا ہم نوا کوئی تو ہو نصیب کا مارا کوئی تو ہو تنکا ہے آشیانے کی کیا خوب یادگار اچھا ہے ڈوبتے کو سہارا کوئی تو ہو سرکار ہاتھ پاؤں تو سب دے گئے جواب اس نا مراد دل کا بھی چارا کوئی تو ہو کیا ہجر کیا وصال وہی عاشقوں کا حال آخر قرار میں بھی بچارا کوئی تو ہو راحیلؔ غم کے بعد خوشی بھی ملے مگر اس بحر بیکراں کا کنارا کوئی تو ہو
tere kuche mein jaa ke bhuul gae
تیرے کوچے میں جا کے بھول گئے خود کو ہم یاد آ کے بھول گئے زخم خنداں ہیں آج بھی میرے آپ تو مسکرا کے بھول گئے بحث گو ناصحوں نے اچھی کی مدعا سٹپٹا کے بھول گئے جو بھلائے نہ بھولتے تھے ستم سامنے ان کو پا کے بھول گئے کون تھے کیا تھے ہم کہاں کے تھے جانے کس کو بتا کے بھول گئے ہم تو خیر ان کو بھولتے تھے کہاں وعدے لیکن وفا کے بھول گئے ایسے بھی کیا الاؤ بجھتے ہیں دل کو سمجھا بجھا کے بھول گئے ہائے آنکھیں تو ہم بھی رکھتے تھے ہائے ہم تو ملا کے بھول گئے بھول جاتا ہے آدمی لیکن آپ نزدیک لا کے بھول گئے عشق راحیلؔ اسی کو کہتے ہیں رنج اٹھائے اٹھا کے بھول گئے
chhin gae khud se tumhaare ho gae
چھن گئے خود سے تمہارے ہو گئے تم پہ عاشق دل کے مارے ہو گئے کچھ دن آوارہ پھرے سیارہ وار رہ گئے تم پر ستارے ہو گئے تجھ پہ قرباں اے جمال عہد سوز جس کے بیاہے بھی کنوارے ہو گئے کیا اسی کو کہتے ہیں ربط دلی چور دل کے جاں سے پیارے ہو گئے ہم تھے تیرے خاکساروں میں شمار حاسدوں میں چاند تارے ہو گئے چار نظریں چار باتیں چار دن ہم تمہارے تم ہمارے ہو گئے اک نظر کرنے سے تیرا کیا گیا اہل دل کے وارے نیارے ہو گئے کچھ تو خود دل پھینک تھے راحیلؔ ہم کچھ ادھر سے بھی اشارے ہو گئے
tum apne husn pe ghazlein paDhaa karo baiThe
تم اپنے حسن پہ غزلیں پڑھا کرو بیٹھے کہ لکھنے والے تو مدت سے ہوش کھو بیٹھے ترس گئی ہیں نگاہیں زیادہ کیا کہیے صنم صنم رہے بہتر خدا نہ ہو بیٹھے خدا کے فضل سے تعلیم وہ ہوئی ہے عام خرد تو خیر جنوں سے بھی ہاتھ دھو بیٹھے برا کیا کہ تلاطم میں نا خدائی کی کنارہ بھی نہ ملا ناؤ بھی ڈبو بیٹھے مریض عشق کا جلدی جنازہ نکلے گا کچھ اور دیر پتا پوچھتے رہو بیٹھے تمام شہر میں بانٹی ہے درد کی خیرات ہم اس کی دین کو دل میں نہیں سمو بیٹھے تمہاری بزم بہت تنگ اور دشت وسیع چلے تو آئے گھڑی دو گھڑی ہی گو بیٹھے بجھی نہ آتش دل ہی کسی طرح راحیلؔ وگرنہ یار تو آنکھیں بہت بھگو بیٹھے
saaqi bhale phaTakne na de paas jaam ke
ساقی بھلے پھٹکنے نہ دے پاس جام کے نیت تو باندھ سکتے ہیں پیچھے امام کے قدموں میں دیں جگہ ہمیں اہل کرم کہیں ہم راندگاں ہیں سجدہ گہ خاص و عام کے آنکھوں کی بات چھڑ گئی باتوں کے درمیان مے خانہ والے رہ گئے پیمانے تھام کے واعظ کو اونچ نیچ محبت کی کیا پتا یہ مسئلے نہیں علمائے کرام کے کیا خوب وحی پیر خرابات کو ہوئی جھگڑے ہیں سب حرام حلال و حرام کے دو چار اشک حال پہ میرے بہائیے شبنم گرے لبوں پہ کسی تشنہ کام کے آتا نہ ہو برات ستاروں کی لے کے چاند رخسار سرخ کیوں ہوئے جاتے ہیں شام کے انسان ہیں فرشتہ و ابلیس ہم نہیں قائل نہیں رکوع و سجود و قیام کے اہل زمانہ ان سے نہ باندھیں توقعات عشاق آدمی ہیں حسینوں کے کام کے شہر بتاں میں ہیں جو در مے کدہ پہ دفن پہنچے ہوئے بزرگ تھے راحیلؔ نام کے
koi din hogaa ki haare hue lauT aaeinge ham
کوئی دن ہوگا کہ ہارے ہوئے لوٹ آئیں گے ہم تیری گلیوں سے گئے بھی تو کہاں جائیں گے ہم آنسوؤں کا تو تکلف ہی کیا آنکھوں نے خون کے گھونٹ سے کیا شوق نہ فرمائیں گے ہم زندگی پہلے ہی جینے کی طرح کب جی ہے اب ترے نام پہ مرنے کی سزا پائیں گے ہم کب تک اے عہد کرم باندھنے والے کب تک دل کو سمجھائیں گے بہلائیں گے پھسلائیں گے ہم آہ سے عرش معلےٰ کو نہ لرزا دیں گے تو سمجھتا ہے قیامت ہی فقط ڈھائیں گے ہم لاکھ مرتد سہی بے دین نہیں ہیں واعظ بت نئے ہیں تو خدا کیا نہ نیا لائیں گے ہم جاودانی کا تصور میں بھی آیا نہ خیال ہم سمجھتے تھے ترے عشق میں مر جائیں گے ہم بس اب اے دل کہ قسم کھائی ہے اس ظالم نے جو تڑپتا ہے اسے اور بھی تڑپائیں گے ہم دور تجھ سے تو قضا بھی نہیں لے جائے گی سر بھی آخر تری دیوار سے ٹکرائیں گے ہم بھولتا ہی نہیں ہم کو وہ ستم گر راحیلؔ خاک اسے یاد نہ کرنے کی قسم کھائیں گے ہم





