"bahar se vaar karta to marta faqat badan dil men utar ke ruuh ka bhi qatl kar gaya"
Rajeev Riyaz Pratapgarhi
Rajeev Riyaz Pratapgarhi
Rajeev Riyaz Pratapgarhi
Sherشعر
Popular Sher & Shayari
2 totalbaahar se vaar kartaa to martaa faqat badan
dil mein utar ke ruuh kaa bhi qatl kar gayaa
Ghazalغزل
palkon mein hi apnaa ashk sukhaanaa hotaa hai
پلکوں میں ہی اپنا اشک سکھانا ہوتا ہے کچھ خوابوں کو زندہ ہی دفنانا ہوتا ہے جانا پڑتا ہے کس کس کے در مجبوری میں لیکن وہ جانا جیسے مر جانا ہوتا ہے ٹھیک اسی پل مجھ میں چیخا کرتا ہے کوئی جس دم میری نیندوں کو گہرانا ہوتا ہے قد چھوٹا کر دیتی ہے بس پانے کی خواہش جیون میں کچھ چیزوں کو ٹھکرانا ہوتا ہے جتنی ذلت سہہ کر سینہ تان کے چلتے ہو اتنے میں تو لوگوں کو مر جانا ہوتا ہے
byaaj mein khet na zevar na vo dhan chaahtaa hai
بیاج میں کھیت نہ زیور نہ وہ دھن چاہتا ہے سود خور آج تو بیوہ کا بدن چاہتا ہے سوچ کر مجھ کو یہ اب نیند نہیں آتی ہے کھیلنے کے لیے بچہ مرا گن چاہتا ہے سانولا رنگ ہے خود اس کی بہن کا لیکن میرا بیٹا ہے کہ وہ گوری دلہن چاہتا ہے شاعری کے لیے کیا کیا نہیں چھوڑا ہم نے ساتھ دولت کے زمانہ ہے کہ فن چاہتا ہے گاؤں کا بوڑھا وہ اب جس کا نہیں ہے کوئی اپنے گھر بار کے بدلے میں کفن چاہتا ہے
mil ke qatre bhi samundar se samundar ho gae
مل کے قطرے بھی سمندر سے سمندر ہو گئے کتنے پستہ قد مقدر کے سکندر ہو گئے چھوڑ کر سب لہلہاتے کھیت پاگل پن میں ہم شہر آئے اور یہاں بنیوں کے نوکر ہو گئے آج تک ہیں منتظر جو کر نہ پائے دستیاب قدر اس نے کی نہیں جس کو میسر ہو گئے چاہتے تھے درد ہم کرنا زمانے سے بیاں بس اسی کوشش میں جانے کب سخنور ہو گئے گاؤں میں یاروں سے لڑ کر ہنستے روتے تھے ریاضؔ ٹھوکریں کھا کھا کے ہم شہروں میں پتھر ہو گئے
pusht-haa-pusht tujhe khuun pilaayaa laala
پشت ہا پشت تجھے خون پلایا لالہ پھر بھی رہتا ہے ترا سود بقایا لالہ تو ہی پوجا بھی بہت کرتا ہے مندر مندر اور تو نے ہی غریبوں کو ستایا لالہ ہائے بھی تجھ کو غریبوں کی نہیں لگتی ہے کیسا پرساد شوالے میں چڑھایا لالہ دروپدی کو تو بچایا تھا کنہیا تو نے کیوں نہ ملاح کی بیٹی کو بچایا لالہ سارے بھگوان ترے حق میں کھڑے رہتے ہیں مجھ پہ رہتا ہے کسی بھوت کا سایہ لالہ
phir bhanvar mein hai safina is liye bechain huun
پھر بھنور میں ہے سفینہ اس لئے بے چین ہوں ہو گیا ضائع پسینہ اس لئے بے چین ہوں پھر ٹھٹھرتی رات میں فٹ پاتھ پر ہوگا غریب آ گیا پھر وہ مہینہ اس لئے بے چین ہوں پھر سنا ہے سرحدوں پر بڑھ گئیں سرگرمیاں پھر سے ہوگا چاک سینہ اس لئے بے چین ہوں سیکھ پایا ہی نہیں اب تک معافی کا ہنر ہے ابھی سینے میں کینہ اس لئے بے چین ہوں کنکروں کو جڑ لیا لوگوں نے سرکے تاج میں ٹھوکروں میں ہے نگینہ اس لئے بے چین ہوں آ گئے ہیں لوٹ کر سب چوم کر مٹی ریاضؔ میں نہ جا پایا مدینہ اس لئے بے چین ہوں





