aap akhbaar dekhiye tab tak
main abhi chaae le kar aati huun

Rakhshan Hashmi
Rakhshan Hashmi
Rakhshan Hashmi
Popular Shayari
2 totalmain us ki chaae ki pyaali thi lekin
use piine ki jurat hi nahin thi
Ghazalغزل
دیکھو آقا کی گلی اور وہ روضہ دیکھو اپنی نظروں کو سکوں بخش دو کعبہ دیکھو میں دل و جان سے روضے پہ جھکی جاتی ہوں دل پکارے ہی چلا جاتا ہے جلوہ دیکھو مشکلوں میں بھی وہی عشق تجھے تھا مے کا غم سلامت رہے خوشیوں کا فرشتہ دیکھو سارے عالم میں کوئی روشنی سی پھوٹی ہے ساری دنیا میں کوئی نور ابھرتا دیکھو آنکھ ویران پریشان رہا کرتی ہے اک جھلک تم بھی یہاں آؤ مدینہ دیکھو زخم بھی پھولوں کی مانند مہک اٹھیں گے اک نظر میری طرف جان مسیحا دیکھو مرے آقا کی عقیدت سے کتابیں روشن آؤ آؤ مرے محبوب کا قصہ دیکھو تم کو ہر خواب کی تعبیر ملے گی رخشاںؔ پہلے سوچوں میں بسا کر وہ عقیدہ دیکھو
dekho aaqaa ki gali aur vo rauza dekho
کہا گیا نہ کبھی اور کبھی سنا نہ گیا میں ایسا حرف ہوں جو آج تک لکھا نہ گیا دبا کے ہونٹوں میں لائی تھی مدعا کیا کیا مگر وہ سامنے آیا تو کچھ کہا نہ گیا بچھڑ کے تم سے ابھی تک بھٹک رہی ہوں میں تمہارے گھر کی طرف کوئی راستہ نہ گیا ابھی بھی یاد ہے تم کو ہمارے ہاتھ کی چائے خدا کا شکر ابھی تک وہ ذائقہ نہ گیا کئی مواقع مری زندگی میں آئے مگر کسی پہ ہنس لئے اتنا کہ پھر ہنسا نہ گیا میں اپنے چہرے پر آنکھیں تلاش کرتی رہی وہ جب تلک مجھے اپنی جھلک دکھا نہ گیا میں آتے آتے نشانے پہ رہ گئی رخشاںؔ کہ اب کے بار بھی اس کا غلط نشانہ گیا
kahaa gayaa na kabhi aur kabhi sunaa na gayaa
ہر قدم پر نئی دیوار اٹھانے والے بڑے آئے مجھے تہذیب سکھانے والے تو ہی ہر رند کا قبلہ ہو ضروری تو نہیں شہر میں کم نہیں آنکھوں سے پلانے والے کوئی اس خواب کی تعبیر بتا سکتا ہے روز آتے ہیں مجھے خواب ڈرانے والے جس کو دیکھو ہے وہی پیکر آلام یہاں کھو گئے جانے کہاں ہنسنے ہنسانے والے وقت کے آگے سپر ڈالے ہوئے کون ہیں یہ ہم تو تھے وقت کی بنیاد ہلانے والے سات پردوں میں تجھے ڈھونڈھ ہی لیں گے رخشاںؔ چین سے رہنے کہاں دیں گے زمانے والے
har qadam par nai divaar uThaane vaale
محبت تو محبت ہی نہیں تھی حقیقت میں حقیقت ہی نہیں تھی میں اس کی چائے کی پیالی تھی لیکن اسے پینے کی جرأت ہی نہیں تھی بچھڑنے کا بھی اک اپنا مزہ تھا مگر مجھ میں یہ ہمت ہی نہیں تھی برا مت ماننا پر سچ یہی ہے تجھے میری ضرورت ہی نہیں تھی کسے میں ڈھونڈھتی اپنی خوشی میں تمہارے غم سے فرصت ہی نہیں تھی ہمیں دل چاہیے تھا اس کو دولت ہمارے پاس دولت ہی نہیں تھی بچھڑنے کا خیال آتا بھی کیسے ہمارے بیچ قربت ہی نہیں تھی کہ ہم انمول تھے کہنے کی حد تک ہماری قدر و قیمت ہی نہیں تھی غزل میں جان رخشاںؔ کیسے آتی ترے جذبوں میں شدت ہی نہیں تھی
mohabbat to mohabbat hi nahin thi





