"kya kya dil-e-muztar ke arman machalte hain tasvir-e-qayamat hai zalim tiri angDa.i"

Ram Krishn Muztar
Ram Krishn Muztar
Ram Krishn Muztar
Sherشعر
Popular Sher & Shayari
2 totalkyaa kyaa dil-e-muztar ke armaan machalte hain
tasvir-e-qayaamat hai zaalim tiri angDaai
Ghazalغزل
kahin raaz-e-dil ab ayaan ho na jaae
کہیں راز دل اب عیاں ہو نہ جائے نگاہ محبت زباں ہو نہ جائے وہ کچھ مہرباں سے نظر آ رہے ہیں کہیں وقت نا مہرباں ہو نہ جائے چھپاتا تو ہوں دل کی حالت کو لیکن کسی کی نظر راز داں ہو نہ جائے کوئی پرسش حال کو آ رہا ہے غم آرزو پھر جواں ہو نہ جائے زمانے میں اب میرے چرچے ہیں مضطرؔ مری زندگی داستاں ہو نہ جائے
majbur to bahut hain mohabbat mein ji se ham
مجبور تو بہت ہیں محبت میں جی سے ہم یہ اور بات ہے نہ کہیں کچھ کسی سے ہم اک شام ہم سخن تھے چمن میں کلی سے ہم یادش بخیر پھر نہ ملے زندگی سے ہم اللہ رے وہ وقت وہ مجبورئ حیات رو رو کے ہو رہے تھے جدا جب کسی سے ہم تکلیف التفات نہ کر اے نگاہ ناز اب مطمئن ہیں اپنے غم زندگی سے ہم ہیں یاد اس نظر کی تغافل شعاریاں با وصف ارتباط بھی تھے اجنبی سے ہم بڑھتی ہی جا رہی ہیں عبث بدگمانیاں نا آشنا نہیں ہیں تری برہمی سے ہم ایک اک ادائے حسن گریزاں نظر میں ہے پامال ہو رہے ہیں بڑی بے رخی سے ہم ہر سو ہے ایک عالم وحشت شب فراق گھبرا رہے ہیں سلسلۂ تیرگی سے ہم غارت کیا ہے جس نے ہمارا سکون دل مضطرؔ سکون دل کے ہیں خواہاں اسی سے ہم
phir bhiig chalin aankhein chalne lagi purvaai
پھر بھیگ چلیں آنکھیں چلنے لگی پروائی ہر زخم ہوا تازہ ہر چوٹ ابھر آئی پھر یاد کوئی آیا پھر اشک امڈ آئے پھر عشق نے سینے میں اک آگ سی بھڑکائی برباد محبت کا عالم ہی عجب دیکھا سو بار لہو رویا سو بار ہنسی آئی رہتا ہے خیالوں میں پھرتا ہے نگاہوں میں اک شاہد رنگیں کا وہ عالم رعنائی کس رنگ سے گلشن میں وہ جان بہار آیا آنچل کی ہوا آئی زلفوں کی گھٹا چھائی پھر صحن گلستاں میں اک موج ہوئی رقصاں پھر میری نگاہوں میں زنجیر سی لہرائی اے حسن ترے در کی عظمت ہے نگاہوں میں کب عشق کو آتے تھے آداب جبیں سائی کیا کیا دل مضطر کے ارمان مچلتے ہیں تصویر قیامت ہے ظالم تری انگڑائی اک روح ترنم نے اک جان تغزل نے پھر آج نئی دھن میں مضطرؔ کی غزل گائی
miri zindagi bhi tu hai miraa muddaaa bhi tu hai
مری زندگی بھی تو ہے مرا مدعا بھی تو ہے میں تجھی کو چاہتا ہوں تو ہی میری آرزو ہے کسے ڈھونڈھتی ہیں ہر سو مری بے قرار نظریں تو یہ خوب جانتا ہے مجھے کس کی جستجو ہے مری چشم حسن ہی میں ترے رخ کی تابشیں ہیں مرے حلقۂ نظر میں تری زلف مشک بو ہے جو کرم پہ تم ہو مائل تو یہ شان ہے تمہاری نہ سوال کیوں کروں میں کہ سوال میری خو ہے مری روح خوش ہے مضطرؔ کہ مری طلب ہے صادق جو نظر سے چھپ رہا تھا وہی آج روبرو ہے
dard-e-hayaat-e-ishq hai naghma-e-jaan-gudaaz mein
درد حیات عشق ہے نغمۂ جاں گداز میں غرق ہے ساری کائنات لذت سوز و ساز میں شوق کا حال کیا ہوا دل کا مآل کیا ہوا ایک جہان راز ہے دیدۂ دل نواز میں کیف خود آگہی بھی ہے عالم بے خودی بھی ہے شوق سپردگی بھی ہے آج نگاہ ناز میں پچھلے پہر جو حسن کے رخ سے ہٹیں خنک لٹیں جاگ اٹھا نیا فسوں چشم فسوں طراز میں آہ وہ عالم شباب ہائے وہ نشۂ شراب جھلکا ہوا وہ رنگ خواب نرگس نیم باز میں
mere tasavvuraat mein ab koi dusraa nahin
میرے تصورات میں اب کوئی دوسرا نہیں آپ کو جانتا ہوں میں غیر سے واسطا نہیں دیکھ تو اے نگاہ دوست کیا تجھے دل دیا نہیں کون ہے مجھ سے آشنا تو اگر آشنا نہیں دل کو سکون کر عطا جان کو بخش دے قرار تیرے کرم کی دیر ہے درد یہ لا دوا نہیں جس سے نہ ہو مرا گزر رہ نہیں تری رہ گزر جس پہ نہ میرا سر جھکے وہ ترا نقش پا نہیں چشم کرم کا شکریہ پرسش غم سے فائدہ کیا مری بے بسی کا حال آپ پر آئینہ نہیں ایک حسین عہد کی یاد دلا کے رہ گئی ان کی نظر نے دل سے آج اور تو کچھ کہا نہیں کیوں نہ کرم کے واسطے آپ سے التجا کروں آپ بتائیں کیا مجھے آپ کا آسرا نہیں دل میں ہے عکس آپ کا لب پہ ہے نام آپ کا آپ کا مضطرؔ حزیں آپ کو بھولتا نہیں





