ik pal kaa qurb ek baras kaa phir intizaar
aai hai january to december chalaa gayaa

RuKHsaar Nazimabadi
ruKHsaar Nazimabadi
ruKHsaar Nazimabadi
Popular Shayari
1 totalGhazalغزل
اپنا عہد وفا نبھاتا ہوں اب اسے روز گنگناتا ہوں میری ہمت نہ پوچھئے صاحب ریت پر کشتیاں چلاتا ہوں دو فریقوں کے درمیاں اکثر میں محبت کے پل بناتا ہوں میری امداد اور کچھ بھی نہیں میں فقط حوصلے بڑھاتا ہوں آج کل پنسلوں سے کاغذ پر دھوپ میں روٹیاں بناتا ہوں میں کبھی دشمنی نہیں کرتا اور ہو جائے تو نبھاتا ہوں فیصلے اپنے چھوڑ کر ان پر ظرف لوگوں کے آزماتا ہوں
apnaa ahd-e-vafaa nibhaataa huun
اندھیری شب دیا جگنو قمر نئیں سفر میں اب کوئی بھی ہم سفر نئیں ہم ایسے بند کمروں کے مکیں ہیں جہاں تازہ ہواؤں کا گزر نئیں خوشامد چاپلوسی جھوٹ غیبت ہمارے پاس تو کوئی ہنر نئیں جو غربت کے اندھیروں میں پلے ہیں نئی تہذیب کا ان پر اثر نئیں عجب موسم ملا ہے زندگی کو نئی رت ہے درختوں پر ثمر نئیں سبب اپنی ہزیمت کے کئی تھے بس اک تنہا بہادر شہ ظفر نئیں یہ کس جانب سفر تم کر رہے ہو اب آنکھوں میں امیدوں کا نگر نئیں گزرنے کا ادھر سے لطف ہی کیا جدھر موجیں تلاطم اور بھنور نئیں اس آنے والے کل کا کیا بھروسہ جن اگلے چند لمحوں کی خبر نئیں کوئی اک رات ہی میں ختم کر لے میں قصہ اس قدر بھی مختصر نئیں جسے رخسارؔ اب میں سہہ رہا ہوں مسلسل اک اذیت ہے سفر نئیں
andheri shab diyaa jugnu qamar nain
یہ زندگی نئے منظر دکھا رہی ہے مجھے خزاں ہے آخری موسم بتا رہی ہے مجھے ہنسا رہی ہے کبھی یہ رلا رہی ہے مجھے غزل مری ہی کہانی سنا رہی ہے مجھے وہ ایک شے جو کہ سینے میں ہے کہیں موجود کسی کے حکم پہ پل پل چلا رہی ہے مجھے یہ اتفاق نہیں ہیں کوئی دعا ہے جو یوں حادثوں سے مسلسل بچا رہی ہے مجھے تو بزدلی نہ سمجھ یہ ہی تو شرافت ہے مرے لہو کی نفاست جھکا رہی ہے مجھے جو ایک لہر بھنور کے تھی آس پاس کہیں وہ دھیرے دھیرے کنارے لگا رہی ہے مجھے بغیر اس کے تھی ممکن کہاں رہائی مری یہ موت آ کے بلا سے چھڑا رہی ہے مجھے نئے لباس میں لپٹا ہوا ہوں اور یہ زمیں مرے وجود کی قیمت بتا رہی ہے مجھے یہ تیز دھوپ یہ صحراؤں کا سفر رخسارؔ یہی تپش ہے جو کندن بنا رہی ہے مجھے
ye zindagi nae manzar dikhaa rahi hai mujhe
لوگ جو صاحب کردار ہوا کرتے تھے بس وہی قابل دستار ہوا کرتے تھے یہ الگ بات وہ تھا دور جہالت لیکن لوگ ان پڑھ بھی سمجھ دار ہوا کرتے تھے سامنے آ کے نبھاتے تھے عداوت اپنی پیٹھ پیچھے سے کہاں وار ہوا کرتے تھے جن قبیلوں میں یہاں آج دئے ہیں روشن ان قبیلوں کے تو سردار ہوا کرتے تھے تب عدالت سے رعایت نہیں مل پاتی تھیں تب گنہ گار گنہ گار ہوا کرتے تھے کیا زمانہ تھا مہکتی تھیں وہ کیاری گھر کی گھر کے آنگن گل و گلزار ہوا کرتے تھے قید مذہب کی نہ تھی کل کے پڑوسی دونوں ایک دوجے کے مددگار ہوا کرتے تھے گھر کے سب لوگ نبھاتے تھے خوشی سے جن کو گھر کے ہر فرد کے کردار ہوا کرتے تھے
log jo saahab-e-kirdaar huaa karte the
لحاظ کرتے ادب احترام کرتے ہوئے گزر رہا ہوں محبت کو عام کرتے ہوئے یہ رات آ کے مجھے پھر سے جوڑ دیتی ہے میں ٹوٹ جاتا ہوں دن اختتام کرتے ہوئے بغیر زاد سفر ہم پہنچ گئے منزل بھٹکتے گرتے سنبھلتے قیام کرتے ہوئے کسی کا کوئی بھی کردار رہ نہ جائے کہیں خیال رکھنا کہانی تمام کرتے ہوئے مرا ضمیر ملامت کرے ہے یوں مجھ پر مجھے جو دیکھے ہے تجھ کو سلام کرتے ہوئے یہ میرے پشتۂ جاں میں شگاف تھے لیکن کسی نے دیکھا نہیں روک تھام کرتے ہوئے وہ بات بات پہ ناراض ہونے لگتا ہے سو خوف آتا ہے اس سے کلام کرتے ہوئے کوئی مذاق نہیں عمر بھر کی محنت کو کلیجہ چاہیے غیروں کے نام کرتے ہوئے
lihaaz karte adab ehtiraam karte hue
موت کا ڈر ناخدا کچھ بھی نہیں زندگی کا مسئلہ کچھ بھی نہیں آگ پانی اور ہوا کچھ بھی نہیں صرف مٹی تھی بنا کچھ بھی نہیں کچھ لہو کا رنگ اور کچھ آب و گل مجھ میں تو خود ساختہ کچھ بھی نہیں زندگی کی اس حسیں پازیب میں صرف گھنگرو کے سوا کچھ بھی نہیں دید کی خواہش کی موسیٰ نے وہاں لیکن ان پر بھی کھلا کچھ بھی نہیں ہو نہ جب تک ہجر کی مشکل ردیف وصل کا تو قافیہ کچھ بھی نہیں بے یقینی ہے یقینی کیفیت ہاتھ اٹھے ہیں پر دعا کچھ بھی نہیں ہاں اگر مقصود ہو دیدار یار تب خلا اور فاصلہ کچھ بھی نہیں اب زمیں پر میں اگر موجود ہوں اس میں تو میری خطا کچھ بھی نہیں جس طرح رخسارؔ گزری زندگی موت کا یہ مرحلہ کچھ بھی نہیں
maut kaa Dar naakhudaa kuchh bhi nahin





