SHAWORDS
Sardar Panchhi

Sardar Panchhi

Sardar Panchhi

Sardar Panchhi

poet
11Ghazal

Ghazalغزل

See all 11
غزل · Ghazal

صنم کے خیالوں میں یوں کھو گیا ہوں کہ میں ایک پتھر کا بت ہو گیا ہوں نہیں دھو سکا داغ جو گنگا جل بھی اسے اپنے اشکوں سے میں دھو گیا ہوں بجائے شجر اگتے ہیں صرف پتھر میں زرخیز دھرتی میں کیا بو گیا ہوں نہیں آنچ آئے گی اپنی انا پر بلایا تھا اس نے تبھی تو گیا ہوں کرو گے مجھے دفن تو یوں لگے گا کہ میں ماں کی گودی میں ہی سو گیا ہوں وضع داری کا پاس تھا جو چمن میں میں کلیوں کا سر چومنے کو گیا ہوں مجھے فخر ہے پنچھیؔ بزم سخن میں گیا ہوں بہ صورت غزل گو گیا ہوں

sanam ke khayaalon mein yuun kho gayaa huun

غزل · Ghazal

سوچتے کیا ہیں چھلکتا جام لے کر پیجیے اس بے وفا کا نام لے کر آئے تھے تو ہاتھ خالی تھے ہمارے جا رہے ہیں سینکڑوں الزام لے کر اک دیا گھر میں جلایا تھا اسے بھی لے گیا کوئی تمہارا نام لے کر دھوپ آ سکتی تھی وہ آتی نہیں ہے کون آئے گا یہاں پیغام لے کر کاٹ لیں دربار نے سب کی زبانیں بلبلیں خاموش ہیں انعام لے کر کون سی گنگا نہایا ہے یہ سورج جب بھی آیا ہے تو قتل عام لے کر اب نہیں کوئی ضرورت ہم سفر کی چل پڑا ہوں گردش ایام لے کر آشیاں ہوتا تو ہوتا لوٹنا بھی کیا کرے پنچھیؔ اودھ کی شام لے کر

sochte kyaa hain chhalaktaa jaam le kar

غزل · Ghazal

تم ہو مجرم ہم ہیں ملزم چلو نیا انصاف کریں تم بھی ہمیں معافی دے دو ہم بھی تمہیں معاف کریں پھر اجلی کرسی پر بیٹھیں ملزم کا انصاف کریں پہلے منصف گنگا جل سے اپنی نیت صاف کریں جس نے جتنے قتل کئے ہیں ان کا وہ اقبال کرے میں مقتولوں سے کہہ دوں گا اب وہ اسے معاف کریں یہ بھی مرہم ہے زخموں کا حاکم اور جلاد سبھی دنگا پیڑت ہر بستی کا ننگے پیر طواف کریں کچھ زہریلے اخباروں نے سب کو میرے خلاف کیا ان میں ہمت ہو تو میرے رب کو مرے خلاف کریں آنے والی نسلوں کو یہ دیتی رہیں گی درس وفا نئے مصور تصویروں میں میرا لہو مضاف کریں اک دوجے کے آنسو لے لیں اک دوجے کو خوشیاں دیں پیار کی شمع کا یہ اجالا آؤ ہر اطراف کریں ووٹ نہ بیچیں کیوں بے چارے بس کمبل کے بدلے میں جو سردی میں اپنی چمڑی بستر کریں لحاف کریں تخت نشینوں کے قدموں پر بوسے دینے والے اب ایک نظر میری قربانی پر بھی تو اوصاف کریں بادل فرض شناس نہیں ہے قید ہے یا زنجیروں میں شبنم کے قطرے ہی پیاسے پنچھیؔ پر الطاف کریں

tum ho mujrim ham hain mulzim chalo nayaa insaaf karein

غزل · Ghazal

صبح کانٹوں پہ شام کانٹوں پر عمر گزری تمام کانٹوں پر مرے اپنے قلم نے چپکے سے لکھ دیا میرا نام کانٹوں پر تیری کرنیں بھی رقص کرتی ہیں روز ماہ تمام کانٹوں پر رنگ اور بوئے گل کے عاشق سب کون بھیجے سلام کانٹوں پر روز شبنم سے غسل کرتے ہیں ہے گلوں کا حمام کانٹوں پر ابتدائے حیات پھولوں سے اور ہے اختتام کانٹوں پر ایسی مستی کہ تتلیاں بھنورے ہو گئے ہم کلام کانٹوں پر حسن کی ہر ادا گلوں پر ہے عشق کا احتشام کانٹوں پر شاخ گل پر قفس ہے پنچھیؔ کا اور شیریں طعام کانٹوں پر

subh kaanTon pe shaam kaanTon par

غزل · Ghazal

چمک چہرے کی ہونٹوں کی ہنسی دیکھی نہیں جاتی ستم گر سے مری زندہ دلی دیکھی نہیں جاتی گلوں سے کہہ رہی ہیں تتلیاں مت خندہ زن ہونا کہ ہم سے باغباں کی بے رخی دیکھی نہیں جاتی ہمیں آنکھیں ملی ہیں شاعروں جیسی کہ ہم سے تو کسی دشمن کی کشتی ڈوبتی دیکھی نہیں جاتی ندی خود خشک ہو جاتی ہے دونوں کو ملانے میں ندی سے ساحلوں کی بے بسی دیکھی نہیں جاتی خزانہ آب کا یہ آبشاریں کیوں لٹاتی ہیں کہ ان سے کوئی بھی سوکھی ندی دیکھی نہیں جاتی وہی بس چاند سورج سے بہت ناراض رہتی ہیں کہ جن آنکھوں سے ان کی روشنی دیکھی نہیں جاتی وہ امبر ہے میں پنچھی ہوں وہ گل ہے تو میں بلبل ہوں کہیں بھی اس طرح کی دوستی دیکھی نہیں جاتی

chamak chehre ki honTon ki hansi dekhi nahin jaati

غزل · Ghazal

ستم گر کو بھی اہل درد کا ہم ماجرا کر دے خدایا درد مندوں کا اسے درد آشنا کر دے تہی دامن وہ کیوں جس پر تری چشم کرم مولا در الطاف وا کر دے مراد دل عطا کر دے وہ دیوانہ گرفتار غم دنیا نہیں ہوتا جسے تیرا جنوں آزاد فکر ماسوا کر دے بہت ہی قیمتی تحفے یہ ہوں گے اے مری قسمت مرے احباب کے رنج و الم مجھ کو عطا کر دے محبت ہے اسے تیری ادا سے بحر طوفانی تو اب طوفان کو کشتی مری کا ہم نوا کر دے کہیں محروم رہ جائے نہ پنچھیؔ تیری بخشش سے ادھر بھی اہتمام بادہ نوشی ساقیا کر دے

sitamgar ko bhi ahl-e-dard kaa ham-maajraa kar de

Similar Poets