SHAWORDS
Sayeed Ahsan

Sayeed Ahsan

Sayeed Ahsan

Sayeed Ahsan

poet
8Ghazal

Ghazalغزل

See all 8
غزل · Ghazal

میری طرح سکوں کے طلب گار تم بھی ہو بیمار میں اگر ہوں تو بیمار تم بھی ہو میں دل کا شاہزادہ ہوں تم رانی حسن کی میں ہوں اگر امیر تو زردار تم بھی ہو بھولے سے بھی نہ آئے کسی روز میرے گھر میں کیسے مان لوں کہ ملنسار تم بھی ہو دنیا میں کوئی بھی نہ رہے درد کا شکار غم بانٹ لو کسی کا جو غم خوار تم بھی ہو اک دوسرے پہ رکھتے ہیں دونوں کڑی نظر چالاک میں اگر ہوں تو ہشیار تم بھی ہو سرحد پہ اپنی جان لٹانے کا وقت ہے آؤ اگر وطن کے وفادار تم بھی ہو دنیا سے لڑ تو سکتا تھا لیکن لڑوں گا کیا اوروں کے ساتھ درپئے آزار تم بھی ہو تیشہ اٹھا لیا ہے تو پھر کیسے بخش دوں اوروں کی طرح راہ میں دیوار تم بھی ہو آنکھیں تو کہہ رہی ہیں کہ بس جی رہے ہو تم گویا خود اپنی زیست سے بیزار تم بھی ہو دامن کشائی کیا کریں بندوں کے سامنے احسنؔ مجھے یقیں ہے کہ خوددار تم بھی ہو

meri tarah sukun ke talabgaar tum bhi ho

غزل · Ghazal

یہ نماز آخری ہے یہ سلام آخری ہے مجھے باریاب کر تو مرا کام آخری ہے یہ کمال ہے جنوں کا تری جستجو میں نکلے کسے اور ہم پکاریں ترا نام آخری ہے سبھی توڑ کر قفس کو ہیں کھلی فضا میں رقصاں ابھی کشمکش کا مارا یہ غلام آخری ہے وہ جو آنا چاہتے ہیں تو کہو کہ جلد آئیں مرا درد لا دوا ہے مری شام آخری ہے کئی بار میں نے توبہ یہی کہہ کے توڑ ڈالی مجھے ایک جام ساقی یہی جام آخری ہے یہ جو کھا رہا ہوں کم کم یہ جو پی رہا ہوں بے حد یہ حلال آخری ہے یہ حرام آخری ہے سر شام جل اٹھا ہے ترا زخم آرزو بھی مری زندگی کی شاید یہی شام آخری ہے مرا دم نکل رہا ہے مری آنکھ بجھ رہی ہے یہ سلام میرا لے لے یہ سلام آخری ہے تو جہاں ہے آج احسنؔ وہاں کوئی اب نہیں ہے تری شہرتوں کا شاید یہی بام آخری ہے

ye namaaz aakhiri hai ye salaam aakhiri hai

غزل · Ghazal

جب بھی اپنا چراغ جلتا ہے حاسدوں کا دماغ جلتا ہے یورش برق سے نشیمن کیا شاخ جلتی ہے باغ جلتا ہے میرے اندر کی آگ مت پوچھو ہونٹ لگتے ایاغ جلتا ہے تیرگی ہے کہاں کہ ڈرتے ہو آ بھی جاؤ کہ داغ جلتا ہے ہاتھ آتا نہیں کہ پہلے ہی سازشوں کا سراغ جلتا ہے مسئلے جن کا حل نہیں ان کو سوچئے تو دماغ جلتا ہے رقص طاؤس کا حسیں منظر دیکھتا ہے تو زاغ جلتا ہے اس کو بجھنا ہے اس لیے احسنؔ زندگی کا چراغ جلتا ہے

jab bhi apnaa charaagh jaltaa hai

غزل · Ghazal

کتنی مشکل ہے کہ مشکل کی طرف جانا ہے خود سے چل کر مجھے قاتل کی طرف جانا ہے دل یہ کہتا ہے کہ گرداب میں لے چل کشتی ذہن کہتا ہے کہ ساحل کی طرف جانا ہے راہ دشوار ہے تو عزم سلامت ہے مرا مجھ کو ہر حال میں منزل کی طرف جانا ہے مجھ سے دیکھا نہیں جائے گا تڑپنا جس کا کیا ستم ہے اسی بسمل کی طرف جانا ہے بڑھتی جاتی ہے مسلسل ہی یہ وحشت دل کی کیا مجھے طوق و سلاسل کی طرف جانا ہے راہ بر ہوگا نہ رستے میں لٹیرے ہوں گے لے کے اعمال ہی منزل کی طرف جانا ہے منزل کرب و بلا اس سے ہے آگے احسنؔ لوٹ جائے جسے باطل کی طرف جانا ہے

kitni mushkil hai ki mushkil ki taraf jaanaa hai

غزل · Ghazal

اب تو سوچا ہے نئی راہ نکالی جائے اپنے دشمن کی طرف پھولوں کی ڈالی جائے بزدلوں کے لیے دنیا میں نہیں گنجائش تیری جرأت کا کوئی وار نہ خالی جائے کیوں نہ گفتار سے تلوار کا مصرف لے لیں کیوں ہر اک بات پہ شمشیر نکالی جائے حرم و دیر کے شعلوں میں جلیں ہم کب تک ذہن جمہور میں یہ بات بھی ڈالی جائے حرم و دیر کے مابین ہو الفت پیدا کیوں نہ ایسی کوئی ترکیب نکالی جائے مسئلہ پیار سے حل ہو تو بہت اچھا ہے یہ ضروری نہیں شمشیر اٹھا لی جائے ہاتھ میں تیغ لبوں پر ہے لہو کی سرخی دل کے البم میں یہ تصویر سجا لی جائے لوگ حاتم کو بھلا دیں جو تمہارے در سے دل شکستہ نہ کبھی کوئی سوالی جائے اپنی ہر بھول کو پابند ندامت کر کے عاقبت نار جہنم سے بچا لی جائے ماں کے قدموں میں ہی جنت ہے یقیناً احسنؔ بات ماں کی نہ کسی حال میں ٹالی جائے

ab to sochaa hai nai raah nikaali jaae

غزل · Ghazal

یوں بھی اپنا ضمیر بیچا ہے کتنے رانجھوں نے ہیر بیچا ہے بات امن و اماں کی کرتا تھا اس نے بستی میں تیر بیچا ہے بستی والوں کو جو غنی کر دے ایسا پتھر فقیر بیچا ہے پرورش کیا ہے طفل کیا جانے ماں نے کیسے شریر بیچا ہے واسطہ ماں نے دودھ کا دے کر اپنے بچے کو شیر بیچا ہے اس نے مجبور ہو کے ہی احسنؔ نام رب قدیر بیچا ہے

yuun bhi apnaa zamir bechaa hai

Similar Poets