Seema Sharma Sarhad
abhi kitni saza.en aur dega
ابھی کتنی سزائیں اور دے گا نہ مر جاؤں کہیں میں تیرے ڈر سے
"abhi kitni saza.en aur dega na mar ja.un kahin main tere Dar se"
abhi kitni sazaaein aur degaana mar jaaun kahin main tere Dar se
ham ko aadat qasam nibhaane ki
ہم کو عادت قسم نبھانے کی ان کی فطرت ہے بھول جانے کی سر جھکا کر میں کیوں نہیں جیتی بس شکایت یہی زمانے کی اس کی شرطوں پہ مجھ کو ہے جینا کیسی دیوانگی دوانے کی اس کو نفرت ہے یا محبت ہے پھر ضرورت ہے آزمانے کی بعد مرنے کے لے کے جاؤں گی آرزو اپنے آشیانے کی میں تو یوں بھی سلگ رہی سرحدؔ کیا پڑی آگ یوں لگانے کی