chalte rahe to kaun saa apnaa kamaal thaa
ye vo safar thaa jis mein Thaharnaa muhaal thaa

Shabnam Shakeel
Shabnam Shakeel
Shabnam Shakeel
Popular Shayari
3 totalab mujh ko rukhsat honaa hai ab meraa haar-singhaar karo
kyuun der lagaati ho sakhiyo jaldi se mujhe tayyaar karo
ik naqsh ki ban ban ke bigaDtaa hi rahaa hai
ik khvaab ki puuraa kabhi hotaa hi nahin hai
Ghazalغزل
وہ تو آئینہ نما تھا مجھ کو کس لیے اس سے گلہ تھا مجھ کو دے گیا عمر کی تنہائی مجھے ایک محفل میں ملا تھا مجھ کو تا مجھے چھوڑ سکو پت جھڑ میں اس لیے پھول کہا تھا مجھ کو تم ہو مرکز میری تحریروں کا تم نے اک خط میں لکھا تھا مجھ کو میں بھی کرتی تھی بہاروں کی تلاش ایک سودا سا ہوا تھا مجھ کو اب پشیمان ہیں دنیا والے خود ہی مصلوب کیا تھا مجھ کو اب دھڑکتا ہے مگر صورت دل زخم اک تم نے دیا تھا مجھ کو
vo to aaina-numaa thaa mujh ko
اندیشہ ہائے روز مکافات اور میں اس دل کے بے شمار سوالات اور میں خلق خدا پہ خلق خدا کی یہ دار و گیر حیراں خدائے ارض و سماوات اور میں کیا تھی خوشی اور اس کی تھی کیا قیمت خرید اب رہ گئے ہیں ایسے حسابات اور میں ہر لحظہ زندگی کی عنایات اور وہ ہر لمحہ ایک مرگ مفاجات اور میں پہلے صداقتوں کے وہ پرچار اور دل اب قول و فعل کے یہ تضادات اور میں ہاروں گی میں ہی مجھ کو یہ وہم و گماں نہ تھا آپس میں جب حریف تھے حالات اور میں ہم راز و ہم سخن تھا مگر اس کے باوجود ٹکرائے میرے دل کے مفادات اور میں
andesha-haa-e-roz-e-mukaafaat aur main
چلتی رہتی ہے تسلسل سے جنوں خیز ہوا جلتا رہتا ہے مگر پھر بھی کہیں ایک دیا کسی محفل میں کوئی شخص بہت کھل کے ہنسا واقعہ یہ تو عجب آج یہاں پیش آیا یاد آتا ہے بہت ایک پرانا آنگن جس میں پیپل کا گھنا پیڑ ہوا کرتا تھا اشک بہتے ہیں تو بہتے ہی چلے جاتے ہیں روک سکتا ہے بہاؤ بھی کوئی دریا کا رات ہم ایک غزل لکھتے ہوئے روتے رہے بعض لفظوں کو تو اشکوں نے مٹا ہی ڈالا پھر سے ٹکرا گیا مجھ ہی سے مرے دل کا مفاد پھر سے برپا ہوا اک معرکۂ کرب و بلا
chalti rahti hai tasalsul se junun-khez havaa
روشنی آنے دو دیوار کو در ہونے دو سحر شب ٹوٹنے دو نور سحر ہونے دو ایک پتھر پہ نہ ضائع کرو برسات اپنی صدف چشم میں اشکوں کو گہر ہونے دو دل ہو دریا تو تموج اسے راس آتا ہے روز پیدا مرے دریا میں بھنور ہونے دو کبھی پندار نے دی بات نہ بننے اب کے گفتگو اس سے بہ انداز دگر ہونے دو ڈالنے دو مجھے اشیا کی حقیقت پہ نظر نیست ہوتا ہے جو خوابوں کا نگر ہونے دو
raushni aane do divaar ko dar hone do





