
Shadan Barabankvi
Shadan Barabankvi
Shadan Barabankvi
Ghazalغزل
وہ میری وفاؤں کا کیا مجھ کو صلہ دے گا پتھر کی طرح مجھ کو رستے سے ہٹا دے گا نقش کف پا ان کا سب راز بتا دے گا اک روز یہی رستہ منزل کا پتا دے گا کیا علم تھا وہ مجھ کو اس طرح بھلا دے گا تصویر مری اپنے کمرے سے ہٹا دے گا جب عالم وحشت میں خط کھینچے گا دیوانہ بے ربط لکیروں کو تصویر بنا دے گا دیکھو کہیں دھوکے سے دل اس کو نہ دے دینا معصوم ہے ہاتھوں سے آئینہ گرا دے گا میں یہ نہیں سمجھا تھا حالات بدلتے ہی ہر ایک یہاں مجھ کو نظروں سے گرا دے گا شعلوں کو ہوا دینا فطرت ہے زمانے کی ہر دور میں یہ انساں شعلوں کو ہوا دے گا نادار زمانے سے بے سود ہیں امیدیں جو خود ہی سوالی ہو شاداںؔ تجھے کیا دے گا
vo meri vafaaon kaa kyaa mujh ko sila degaa
قاتل کو بھلا کس نے یوں چھوڑ دیا ہوگا منصف کے بھی ہاتھوں میں کچھ خون لگا ہوگا ان تیز ہواؤں نے جو دیپ بجھائے ہیں تیرا ہی نہیں ان میں میرا بھی دیا ہوگا چولہوں سے غریبوں کے کب اتنا دھواں اٹھا پھر میری ہی بستی کا گھر کوئی جلا ہوگا آخر یہ جھجھک کیسی تم وار کرو کھل کر ہم خود ہی اٹھا دیں گے جو تیر خطا ہوگا وہ جس کے تصور سے ظالم بھی لرزتے ہیں وہ شعلہ غریبوں کی آہوں میں چھپا ہوگا مٹتے ہیں زمانے میں یہ سوچنے والے ہی ہوگا وہی جو اپنی قسمت میں لکھا ہوگا آج ایسی ہی محفل میں بیٹھا ہوں جہاں شاداںؔ چپ ہوں تو کدورت ہے بولوں تو گلہ ہوگا
qaatil ko bhalaa kis ne yuun chhoD diyaa hogaa
اپنے غم شامل کرتا میں کیسے دنیا والوں میں خود ہی تنہا پی جاتا ہوں بھر کر زہر پیالوں میں اتنا گہرا زخم لگانا سب کے بس کی بات کہاں دیکھا تو وہ بھی شامل تھا تیر چلانے والوں میں منزل کیسی سمت کہاں کی پھر بھی چلتا رہتا ہوں سو گئی میری قسمت جیسے میرے پاؤں کے چھالوں میں اہل خرد سچے موتی بھی راہ میں ٹھکرا دیتے ہیں دیوانے تو راہ کے پتھر رکھ دیتے ہیں شوالوں میں شاداںؔ یہ انداز ترقی راس بھلا کیا آئے گا دنیا اندھی ہو جائے گی اتنے تیز اجالوں میں
apne gham shaamil kartaa main kaise duniyaa vaalon mein
مرے خدا مجھے غم میرے حسب حال تو دے قناعتوں کی ردا میرے سر پہ ڈال تو دے سفر میں ساتھ تو سب ہیں مگر میں جب مانوں کہ میرے پاؤں کا کانٹا کوئی نکال تو دے مرے سوا جو لٹاتے ہیں جان و دل تجھ پر کسی کا نام تو لے اور کوئی مثال تو دے کہ میں بھی راہ کا بھٹکا ہوا مسافر ہوں مرے ضمیر کا اب آئنہ اجال تو دے تجھے قریب نہ پا کر بہک رہے ہیں قدم میں گر ہی جاؤں مگر تو مجھے سنبھال تو دے مجھے زمانے سے شکوہ نہیں مگر شاداںؔ حیات وقت نہ دے فرصت خیال تو دے
mire khudaa mujhe gham mere hasb-e-haal to de
کچھ نرم سی کرنیں بھی شامل ہیں بہاروں میں پیغام ہے جینے کا معصوم اشاروں میں نوخیز غزالوں میں اور زہرہ نگاروں میں کاغذ کا بدن لے کر بیٹھا ہوں شراروں میں پھولوں کو جو دیکھا تو محسوس کیا میں نے شاداب وہ ہوتا ہے پلتا ہے جو خاروں میں ہر سنگ ملامت کو جب چاہے مسل ڈالیں اب بھی وہ روانی ہے تہذیب کے دھاروں میں ساحل کا تمنائی اس راز کو کیا جانے طوفان بھی ہوتے ہیں خاموش کناروں میں آزادیٔ گلشن کا حال اس سے کوئی پوچھے خود جس نے جلایا ہے گھر اپنا بہاروں میں وہ لوگ بھی اب ہم سے کترا کے گزرتے ہیں تھے جن کے لیے شاداںؔ ہم جان سے پیاروں میں
kuchh narm si kirnein bhi shaamil hain bahaaron mein
مجھ کو شکایتیں نہیں اپنے نصیب سے اکثر گزر گئے ہیں وہ میرے قریب سے ہر منزل حیات سے گزرا ہوں باخبر حد ہے کہ دوست بھی نظر آئے رقیب سے پہچان لیں گے لوگ یہ انداز التفات اس بے رخی کے ساتھ نہ گزرو قریب سے ہر منزل حیات سے گزرا ہوں باخبر حد ہے کہ دوست بھی نظر آئے رقیب سے وہ کرب ہے کہ خون جگر آنچ دے اٹھا دیکھا ہے زندگی تجھے میں نے قریب سے ڈرتا ہوں اب میں نام بھی لیتے خلوص کا کچھ واقعات سامنے آئے عجیب سے اس بے دلی کے ساتھ نہ لو اس کا امتحاں شاداںؔ کو دیکھنا ہے تو دیکھو قریب سے
mujh ko shikaayatein nahin apne nasib se





